کے پی حکومت کا اراکین اسمبلی کی نئی مراعات اور بلیو پاسپورٹ کیلیے کی گئی ترامیم واپس لینے کا اعلان

سوشل میڈیا پر اس قانون کی شدید مخالفت کی گئی، وزیراعلی نے ترامیم واپس لینے کی ہدایت کردی


اسٹاف رپورٹر July 10, 2026
4 ڈاکٹر، 2 انجینئر، 16 قانون کی ڈگری کے حامل، 9 انٹرمیڈیٹ اور 12 میٹرک پاس، پی ٹی آئی کے 74 میں سے 46 پارٹی چندہ دیتے ہیں۔ فوٹو: فائل

پشاور:

خیبرپختونخوا حکومت اراکین اسمبلی کی مراعات ایکٹ میں ترامیم سے پیچھے ہٹ گئی اور بلیو پاسپورٹ سمیت اراکین اسمبلی کی نئی مراعات کے لیے کی گئی ترامیم واپس لینے کا اعلان کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں تنخواہیں اور مراعات کے حوالے سے قانون میں ترامیم کرتے ہوئے ارکان اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کی سہولت مانگی گئی لیکن سوشل میڈیا پر اس قانون کی شدید مخالفت کی گئی جس پر وزیراعلی سہیل آفریدی نے قانون میں کی گئی ترامیم کو واپس لینے کی ہدایت کی۔

وزیر اطلاعات شفیع جان نے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ سے متعلق صوبائی کابینہ کے دیگر اراکین کے ہمراہ اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت آج صوبائی کابینہ اراکین  کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی تمام قابل اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام قابل اعتراض شقوں کو 1988ء کے ایکٹ کے مطابق بحال اور درست کیا جائے گا، پیر کے روز ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں تمام پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فارم 45 کی حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے قائم ہوئی ہے، اس لیے حکومت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گی جو عوامی امنگوں کے منافی ہو، شفیع جان نے کہا کہ حکومت صحافی برادری اور عوام کی  تمام تحفظات کو سنے گی۔

گورنر کی چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی، چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر کا اجلاس بلانے کی تجویز

دریں اثنا گورنر خیبرپختونخوا نے اراکین قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز کی مساوی مراعات کے حوالے سے قانون سازی کے لیے چیئرمین اور اسپیکر قومی اسمبلی کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر کا اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے۔

گورنر خیبرپختونخو فیصل کریم کنڈی نے صوبائی اسمبلی میں اراکین کی مراعات کے حوالے سے قانون میں ترامیم پر اعتراضات اٹھائے تو ساتھ ہی انہوں نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو تجویز دی ہے کہ وہ ارکان قومی، صوبائی اور سینیٹ کے لیے یکساں مراعات کے حوالے سے چاروں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کا اجلاس بلائیں۔

گورنر نے تجویز میں کہا ہے کہ پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں، مراعات اور حقوق کے حوالے سے اتفاق ہونا چاہیے، تنخواہیں، سیکیورٹی، سرکاری پاسپورٹ، الاؤنس اور ہر طرح کے حقوق وفاق میں یکساں ہونے چاہئیں، ہم آہنگ قومی فریم ورک ہی انصاف، جوابدہی اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے۔