جوہری ہتھیار ختم کرنے ہیں تو آغاز امریکا اور اس کے اتحادیوں سے کریں؛ شمالی کوریا

مغربی ممالک برسوں سے شمالی کوریا کو یکطرفہ طور پر جوہری ہتھیار ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں


ویب ڈیسک July 11, 2026
بیلسٹک میزائل تجربہ اُس وقت کیا گیا جب جاپانی وزیر خارجہ جنوبی کوریا کے دورے پر ہیں

شمالی کوریا نے نیٹو کے حالیہ سربراہی اجلاس میں جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے مطالبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ نیٹو مسلسل اپنے فوجی اتحاد کو وسعت دے رہا ہے اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے ساتھ جوہری صلاحیتوں کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حالیہ نیٹو اجلاس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہ اتحاد امن کے بجائے محاذ آرائی اور عسکری دباؤ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اگر واقعی جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی خواہاں ہے تو آغاز امریکا اور اتحادی ممالک سے ہونا چاہیے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مغربی ممالک برسوں سے شمالی کوریا کو یکطرفہ طور پر جوہری ہتھیار ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی ہے۔

شمالی کوریا کا مؤقف ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کی بات کرنے والوں کو پہلے ان ممالک سے آغاز کرنا چاہیے جو نیٹو کے جوہری اشتراک پروگرام کا حصہ ہیں اور جن کی سرزمین پر امریکی جوہری ہتھیار تعینات ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو جدید ہتھیار فراہم کر رہا ہے، فوجی مشقوں میں اضافہ کر رہا ہے اور ایشیا سمیت مختلف خطوں میں اپنی عسکری موجودگی مضبوط بنا رہا ہے اس لیے صرف شمالی کوریا سے جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ "دوہرا معیار" ہے۔

اس سے ایک روز قبل شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ رہنما کم جونگ اِن نے ملک کی جوہری قوت اور دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے اور فوج کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور میزائل و جوہری پروگرام کی رفتار برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔