بلوچستان پر یکطرفہ اے پی سی

پی ٹی آئی اپنی حکومت میں کسی اے پی سی کے خلاف تھی اور اس کا وزیر اعظم اپوزیشن رہنماؤں کے قریب سے بھی گزرنا پسند نہیں کرتا تھا


[email protected]

کے پی ہاؤس اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے زیر اہتمام سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اختر مینگل کی زیر صدارت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان اپنے اہم صوبے بلوچستان کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔

اے پی سی میں بڑی اپوزیشن پارٹی پی ٹی آئی کے علاوہ محمود خان اچکزئی جو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر ہیں کی بلوچستان کے مختلف پختون اور بلوچ علاقوں میں سیاسی اثر رکھنے والی اختر مینگل کی پارٹی بی این پی مینگل نے ضرور شرکت کی مگر بلوچستان کی تیسری بڑی پارٹی جے یو آئی (ف) کو اس اے پی سی میں مدعو ہی نہیں کیا گیا جو ملک میں پی ٹی آئی کے بعد دوسری بڑی پارٹی ہے اور بلوچستان میں محمود اچکزئی اور اختر مینگل کی پارٹیوں سے ملک گیر بڑی پارٹی اور بلوچستان کی بڑی اپوزیشن جماعت ہے۔

یہ اے پی سی بلوچستان کے مسئلے پر کوئٹہ کی بجائے اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں بلوچستان حکومت میں دونوں پارٹیوں کی بجائے سابق (ن) لیگی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو مدعو کیا گیا اور ان تمام حکومت مخالفین نے حکومت پر کڑی تنقید کی اور اپنے اعلامیے میں بلوچستان کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگر یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ مذکورہ حکومتی اے پی سی میں مزاحمت کار اور علیحدگی پسندوں کو بھی مدعو کیا جائے یا نہیں جنھوں نے چار دنوں میں اپنے دہشت گردانہ حملوں میں 42 جوان اور شہری شہید کر دیے ہیں۔

حکومت مخالف اس یکطرفہ اے پی سی میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت کی جب کہ محمود اچکزئی نے کہا کہ ملک میں جاسوسی ادارے ریاست کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں لیکن باجوڑ سے خیبر اور کوئٹہ تک کیوں ناکامی ہے؟ اپوزیشن لیڈر کو یہ سوال اے پی سی کی بجائے قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت سے ضرور پوچھنا چاہیے۔

اسلام آباد میں چھوٹے پیمانے پر حکومت مخالفین کی اے پی سی اس لیے غیر موثر رہی کہ اس میں ملک کی بڑی قومی جماعتوں اور بلوچستان کی دیگر چھوٹی جماعتوں کی وہاں کوئی نمایندگی نہیں تھی اور صدارت اختر مینگل نے کی جو قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں اور ماہ رنگ بلوچ کی حمایت میں ناکام دھرنا بھی دے چکے ہیں۔

اختر مینگل مستعفی نہ ہوتے تو قومی اسمبلی میں بلوچستان کی اہم آواز ہوتے اور حکومت اور مذکورہ علیحدگی پسندوں کو سمجھا کر انھیں دہشت گردی کی بجائے اپنے جائز مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرسکتے تھے۔ حکومت کی ماضی میں حمایت اور اب سخت مخالفت کرنے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اختر مینگل اور محمود خان نے کبھی بلوچستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی بیرسٹر گوہر کی طرح مذمت بھی نہیں کی۔

 اسلام آباد میں بلوچستان کے مسائل پر پی ٹی آئی کی اس یکطرفہ اے پی سی میں اجتماعی طور پر بلوچستان میں مصروف دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کی ملک دشمن سرگرمیوں کی مذمت بھی نہیں کی گئی۔ جس دن یہ اے پی سی ہوئی اسی روز ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے دورے میں بتایا کہ بلوچستان میں چار روز کے دوران فتنہ الخوارج الہندوستان کے دہشت گردانہ حملوں میں 42 پولیس اہلکار، فوجی نوجوان اور شہری شہید کیے گئے جس کے جواب میں جو کارروائیاں ہوئیں ان میں 54 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوج کے اس عزم کو ایک بار پھر دہرایا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو ریاست پوری قوت سے کچل دے گی اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے اور پاکستان کو دھمکانے کی کسی میں جرأت نہیں ہے۔

پی ٹی آئی اپنی حکومت میں کسی اے پی سی کے خلاف تھی اور اس کا وزیر اعظم اپوزیشن رہنماؤں کے قریب سے بھی گزرنا پسند نہیں کرتا تھا اور اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بانی صرف بالاتروں سے مذاکرات چاہتا تھا، اسی لیے پی ٹی آئی کے اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات بھی آگے نہیں بڑھ سکے تھے مگر اب پی ٹی آئی اپنی اسی مخالف حکومت سے مذاکرات خود کرنا چاہتی ہے جو اچھی اور مثبت تبدیلی ہے اور حکومت پر الزام لگا رہی ہے کہ حکومت اب مذاکرات میں مخلص نظر نہیں آ رہی۔ حکومت کو بھی اب پی ٹی آئی کے رویے میں تبدیلی کے بعد ملک میں سیاسی استحکام کے لیے اپوزیشن سے جلد مذاکرات شروع کرنے پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

پی ٹی آئی کی اسلام آباد کی یکطرفہ اے پی سی میں بلوچستان کے مسائل پر مذاکرات کا جو مطالبہ کیا گیا ہے وہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات سے بالکل مختلف ہے۔ ملک کی اپوزیشن ملک دشمن سرگرمیوں سے دور ہے جس کا اہم مسئلہ صرف بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے جب کہ بھارت کی پشت پناہی سے ملک میں اور خاص طور پر آئے دن دہشت گردی کرکے سیکیورٹی فورسز، عام شہریوں اور بلوچ ہو کر بلوچوں کو نشانہ بنانے والوں کا معاملہ یکسر مختلف ہے جو کسی کاز کے لیے نہیں بلکہ بھارت کی مالی و عسکری مدد سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں جن سے ریاست نے ماضی میں نرمی بھی برتی مگر باز آنے کی بجائے انھوں نے اپنی دہشت گردی اور ملک دشمنی کو اس انتہائی مقام پر پہنچا دیا ہے کہ ریاست ان کے خلاف آپریشن روکنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ اب ریاست کا مقابلہ بھارت سے ہو رہا ہے اور ریاست اب ایمان اتحاد اور نظم و ضبط سے بھارت سے جنگ لڑ رہی ہے جس میں سیکیورٹی اداروں اور بے گناہ شہریوں کا کافی جانی نقصان ہو چکا ہے جس کا یکطرفہ اے پی سی کرنے والوں کو احساس نہیں اور ان کا مذاکرات کا مطالبہ غیر حقیقی ہے۔