خلیج کی جنگ اور مہنگائی

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد یہ سوال پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔


[email protected]

اس وقت دو سوال اہم ہیں ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد امن مفاہمت دم توڑ چکی ہے؟ دوسرے سوال کا تعلق اگرچہ جنگ سے ہے لیکن اس کا تعلق پاکستانی عوام کی ایک مشکل سے ہے یعنی بڑھتی ہوئی مہنگائی۔

 امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد یہ سوال پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں جنگ کے شعلے ایک بار پھر نہ بھڑک اٹھیں۔کیا خطہ واقعی ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر جا کھڑا ہوا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے ایم او یو پر نگاہ ڈالنی ہو گی جسے اسلام آباد امن مفاہمت کا نام دیا گیا ہے۔

مفاہمت میں آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تقریباً تسلیم کر لیا گیا ہے۔ براہ راست تو یہ تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ایران ٹول ٹیکس وصول کر سکے گا لیکن آبنائے ہرمز کی صفائی اور جہازوں کے وہاں سے گزرنے کے لیے انتظامی سہولت فراہم کرنے پر ایران کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ براہ راست ٹول کا حق تسلیم کیا جاتا تو یہ سیدھے سیدھے امریکی شکست ہوتی۔

اس لیے ایرانی اختیار کو مختلف عنوان تسلیم کر لیا گیا۔ اس اختیار کے تحت متعلقہ راستے سے گزرنے والے جہازوں کا ایران سے رابطہ ضروری ہے لیکن یہ جہاز اگر ایران سے رابطہ نہیں کریں گے تو یہ ایک طرف معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی اور دوسری طرف اس سے ایران کی اتھارٹی متاثر ہو گی۔ ایران نے چند روز قبل جن جہازوں پر ڈرون سے حملے کیے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے۔اس مفاہمت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو ماہ کے اندر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ دو ماہ کے بعد ایسا ہو سکتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکا نے ٹیسٹ کے طور پر بعض خلیجی ملکوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے جہاز اس روٹ سے ہٹ کر گزاریں جو ایران نے مقرر کر رکھے ہیں ۔ یہ مفاہمت سے صریح خلاف ورزی تھی جس پر ایران نے ان جہازوں پر حملے کر دیے۔

ان حملوں کو بہانہ بنا کر ہی امریکا نے ایران پر حملے شروع کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس ضمن میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ کیا جنگ دوبارہ شروع ہو چکی ہے؟ ان سے یہ سوال بھی پوچھا گیا۔ اس سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے خاموشی اختیار کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ شروع نہیں ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک اہم خبر یہ بھی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ٹیکنیکل مذاکرات جاری ہیں۔ مذاکرات کا جاری رہنا یہ بتاتا ہے کہ جنگ بندی بھی ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ معمول کی پٹاخے بازی ایران پر عسکری دباؤ کی ایک شکل ہے جو تقریباً نصف صدی قدیم دشمنی اور بد اعتمادی کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ یہ حملے صدر ٹرمپ کی ایک نفسیاتی ضرورت بھی ہیں۔

اسلام آباد امن مفاہمت میں امریکا چوں کہ شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے، اس لیے وہ شکست کی جھینپ مٹانے کے لیے حملے کے بہانے کی تلاش میں رہتا ہے۔یقیناً یہ طرز عمل آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے لیکن سردست اسلام آباد امن مفاہمت برقرار دکھائی دیتی ہے۔ قطر اور عمان کے ایران سے رابطوں کے بعد یہ مزید واضح ہو گیا ہے لیکن امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد کیا ہو گا، اس کی پیشین گوئی آسان نہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا۔

جنگ کے بعد بڑھی ہوئی قیمتوں میں بہ تدریج کمی کا رجحان ہے لیکن مہنگائی کم نہیں ہو رہی۔ اس کی وجہ کیا ہے؟پاکستان میں مہنگائی کا گراف مسلسل اوپر جانے کی سب سے بڑی وجہ کا تعلق تقریباً 25برس پہلے ہونے والے ایک فیصلے سے ہے۔ جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ایوب خان کی طرح نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ اس ادارے کے سربراہ جنرل(ر) تنویر نقوی تھے۔ تنویر نقوی نے سفارش کی کہ پاکستان کے مسائل کا ایک بڑا سبب کمیشنری نظام ہے چنانچہ یہ نظام ختم کر دیا گیا۔ یہ نظام تو ختم ہوا لیکن اس نظام کے خاتمے سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔ اس طرح ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ کمزور ہو گئی۔

ریاست کے سویلین انتظام کا بندوست ختم ہوا تو سب کچھ بکھر گیا۔ وہ کام جو کبھی ایک مجسٹریٹ چٹکی بجانے میں کر لیا کرتا تھا، اس کے لیے وزیر اعظم اور وزیر اعلی سے کم پر بات نہیں ہوتی۔          ایسا اس لیے ہے کہ ریاست کی قوت نافذہ کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کی قوت نافذہ ہوتے ہیں جن کا سر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ یعنی کمیشنری نظام ہوا کرتا تھا۔ جنرل تنویر نقوی نے تجویز کیا تھا کہ یہ اختیار کمشنری نظام سے لے کر بلدیاتی اداروں کو دے دیا جائے لیکن ایسا نہ کیا گیا جس پر جنرل نقوی دل گرفتہ تھے۔ جنرل مشرف کا خوف یہ تھا کہ ایک سویلین منظم ادارہ ختم کر کے ایک منتخب سویلین ادارے کو طاقت ور کیوں بنایا جائے۔

یوں انتظام ریاست کا تار و پود بکھیر دیا گیا۔کمشنری نظام کے تحت مارکیٹ کمیٹیاں ہوا کرتی تھیں جن کی نگرانی ایک مجسٹریٹ کیا کرتا تھا۔ اس نظام کے خاتمے کے بعد مارکیٹ کمیٹیوں پر مختلف مفاداتی گروہ غالب آ گئے جو اپنی مرضی سے قیمتوں کا تعین کرتے ہیں اور قیمتوں میں اضافے کے لیے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کر دیتے ہیں جس کی تازہ مثال سیمنٹ انڈسٹری میں نئے کارٹلز کا قیام ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سیمنٹ کے نرخوں میں کمی ناگزیر تھی لیکن چند روز قبل سیمنٹ انڈسٹری کا مالکان کا ایک نیا کارٹل وجود میں آیا ہے جس نے اتفاق رائے سے مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لیے سیمنٹ کی پیداوار میں کمی کر دی ہے اور ڈیلروں کا کوٹہ محدود کر دیا ہے لیکن انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔

مشرف کے جانے کے بعد کمشنری نظام کہیں کہیں بحال تو کیا گیا لیکن یہ نظام اپنی روح کے مطابق بحال نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نظام کے ٹوٹنے سے جو ذیلی ادارہ جاتی خلا پیدا ہوا تھا، اسے پر کرنا ممکن نہ رہا۔ اب محترمہ مریم نواز شریف نے مہنگائی کے خاتمے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا ہے جو ابھی تشکیل کے مراحل میں ہے۔

اب تک جو لوگ اس میں شامل کیے گئے ہیں، ان میں سے بیشتر کا تعلق پولیس سے رہا ہے جسے اس کام کا تجربہ نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو وزیر اعلی کو ہدایت دینی پڑتی ہے کہ قیمتیں کم کی جائیں حالانکہ قیمتیں ایک خود کار نظام کے تحت خود بخود کم ہو جانی چاہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنرل مشرف کے غیر دانش مندانہ اقدامات کے اثرات بد ابھی تک موجود ہیں۔

خلیج کی جنگ نے ہمارے جیسی غیر مستحکم معیشتوں کے لیے مسائل پیدا کر دیے تھے جن کی وجہ سے مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن مہنگائی بدستور ہے۔ مہنگائی کا ایک بڑا سبب بار برداری کے اخراجات ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹر بڑھے ہوئے کرائے نیچے لانے پر آمادہ نہیں ہیں۔ مفاداتی گروہوں کی اجارہ داری یہی ہوتی ہے۔ یہی ریاست کی کمزوری ہے۔ اب چوں کہ ایسی چیزوں کا نوٹس وزیر اعظم یا وزیر اعلی کو خود لینا پڑتا ہے اس لیے بڑھی ہوئی قیمتیں کبھی کم ہوتی ہیں اور کبھی نہیں ہوتیں۔ اگر کمشنری نظام جیسا کوئی نظام فعال ہوتا تو ملک یا صوبے کی قیادت کو اس جانب توجہ نہ دینی پڑتی۔ متعلقہ مجسٹریٹ کی فعال موجودگی سے ہی مسائل حل ہوتے رہتے۔

حکومت کی یہ پہلی ذمے داری ہے کہ وہ معاشی مسائل کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر اس جانب توجہ دے۔ حکومت نے صرف یہی معاملہ حل کر دیا تو نہ بیانیے کے مسائل باقی رہیں گے اور نہ منفی قوتوں کا کوئی خطرہ باقی رہے گا۔

یہ بارہا کہا گیا ہے کہ پاکستان اب ہارڈ اسٹیٹ بنے گا، اس لیے اسے چیلنج کرنے والی داخلی اور خارجی قوتیں خبردار ہو جائیں۔ پاکستان کو ہارڈ اسٹیٹ بنانا ہے تو سب سے پہلے حکومت کو مارکیٹ کے نظم و نسق پر توجہ دینی ہوگی۔