قیامت خیز مہنگائی زدہ عوام مایوسیوں کی انتہاؤں پر !

سب پاکستانی عوام اپنے جملہ حکمرانوں کی سوچ اور اقدامات پر حیران اور پریشان ہیں۔


[email protected]

سب پاکستانی عوام اپنے جملہ حکمرانوں کی سوچ اور اقدامات پر حیران اور پریشان ہیں۔ ایران پر امریکی بم گرتے ہیں اور ایران ردِ عمل میں خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی عسکری اڈوں پر بمباری کرتا ہے تو ہمارے حکمرانوں کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے ۔

اُن کی دوڑ بھاگ قابلِ دید ہوتی ہے ۔ اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح فریقین میں مہلک گولہ باری اور بمباری کا سلسلہ فوری تھم جائے۔ حیرانی اور حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ غربت و عسرت اور تنگدستی کے مارے پاکستانی عوام پر آئے روز نت نئی مہنگائی کے مہلک بم گرتے ہیں ، مگر ہمارے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کو نہ تو یہ بم نظر آتے ہیں اور نہ ہی قیامت خیز مہنگائی پیدا کرنے والے اِن بموں کے کارن عوام کی چیخیں سنائی دیتی ہیں ۔ کیا اِسے بے حسی کہا جائے یا بیچارگی اور بے بسی سے مرتے عوام سے لاتعلقی ؟

بظاہر چاہیے تو یہ تھا کہ ہم اُمتِ مسلمہ کا غم کھاتے ہُوئے نئی ایران و امریکہ کشیدگی بارے کچھ رقم کرتے ، کچھ حالِ دل بیان کرتے ، مگر ہم تو اپنی قیامت ڈھاتی مہنگائی کا رونا رونے بیٹھ گئے ہیں ۔’’تاریخی‘‘ اسلام آباد ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ کی موجودگی میں ایران و امریکہ نئی کشیدگی واقعی پریشان کن ہے۔ سچ مگر یہ بھی ہے کہ یہ عوام کی سوچ اور پہنچ سے دُور ، بہت دُور ، اونچی گیم ہے ۔

عوام کا بھلا اِس کشیدگی سے کیا لینا دینا؟ اِس کشیدگی اور تصادم کا سب سے زیادہ نقصان اور بوجھ تو غریب اور مہنگائی کے مارے پاکستانی عوام کو اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایران پر امریکہ نے پہلا بم مارا ہی تھا کہ حکومت نے ایک لٹرپٹرول میں اچھا خاصا اضافہ کرکے عوام پر اپنا ہلاکت خیز بم گرا دیا ۔

نئی مہنگائی للکارے مارتی ہُوئی عوام پر نازل ہُوئی ۔ ہمارے حکمرانوں نے عوام کو لالی پاپ دیتے ہُوئے کہا کہ ’’یہ جنگ ختم ہوگی یا سیز فائر ہُوا تو پٹرول اور مہنگائی کا گراف بھی نیچے گر جائے گا۔‘‘ یہ مگر لارا لپارا ہی ثابت ہُوا ۔ ایران و امریکہ جنگ ختم ہُوئی تو ہمارے حکمرانوں نے پٹرول کی قیمت میں ، پچھلے ہفتے ، ایک روپے75پیسے کمی کرکے عوام کی مایوسیوں میں بے پناہ اضافہ بھی کیا اور ساری توقعات بھی مٹی میں ملا دیں ۔

اور اب دو دن قبل ،11جولائی، کو ہماری حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 13روپے سے زائد فی لٹر اضافہ کرکے عوام پر نیا بم مارا ہے۔ اِس کی دھمک اور تباہی دُورو نزدیک ، ہر جگہ سنائی اور دکھائی دے رہی ہے۔ پٹرول اب313روپے فی لٹر ہو چکا ہے (ذرا اِس ہندسے کی عظمت پر غور تو فرمائیے) پٹرول اور ڈیزل کی نئی ہوشربا قیمتوں سے نئی مہنگائی قیامت خیز ہو گئی ہے وزیر تیل نے نئے سرے سے عوام کا تیل نکال ڈالا ہے ۔ہر طرف ہا ہا کار سنائی دے رہی ہے ۔

عوام حکومت کو کن ناموں اور القابات سے پکار رہے ہیں ؟ سُن تو سہی کہتی ہے تجھے خلقِ خدا غائبانہ کیا؟ پٹرولیم لیوی 80روپے فی لٹر سے متجاوز ہو چکی ہے اور یہ اضافہ حکومت کی اپنی جیب میں جارہا ہے ۔ ابتدا میں پٹرولیم لیوی GSTکے متبادل کے طور پر متعارف کروائی گئی تھی ، مگر پھر ہمارے جابر حکمرانوں نے اِسے اپنا مستقل وتیرہ ہی بنا لیا ۔ وفاقی وزرا چھاتی پر ہاتھ مارتے ہُوئے کہہ رہے ہیں:’’ پٹرولیم لیوی ہم اس لیے بڑھاتے ہیں کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے ؛ چنانچہ ہم اِس لیوی سے کسر پوری کرتے ہیں ۔‘‘ لیجئے ، اِسے کہتے ہیں سینہ زوری !حکومت کا ’’موقف‘‘ ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو ہم بھی بڑھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ درست، مگر عوام بجا طور پر سوال پوچھتے ہیں: عالمی منڈی میں پٹرول سستا ہوتا ہے تو اِس کے پاکستانی صارفین پر مثبت اثرات پہنچتے ہُوئے چار ہفتے لگ جاتے ہیں ، مگر جب عالمی منڈی میں پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو پاکستانی صارفین پر اِس کے منفی اور مہنگے ( قیامت خیز اثرات) چار منٹ میں مرتب ہو جاتے ہیں ۔

ایک معروف و محترم پاکستانی ماہرِ معیشت ( جن کے اعدادوشمار عموماً قابلِ اعتبار ہوتے ہیں) کا کہنا ہے: ’’ جب تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں اوپر جاتی ہیں تو حکومت کی وجہ سے اِس کے پاکستانی عوام پر تباہ کن اثرات21منٹ میں مرتب ہو جاتے ہیں ، اور جب تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں گراوٹ آتی ہے تو پاکستانیوں پر اِس کے اثرات مرتب ہونے میں 21دن لگ جاتے ہیں ۔

یہ عوام دشمنی کیوں؟۔‘‘ یہی ماہرِ معیشت حساب کتاب لگا کر انکشاف کرتے ہُوئے قیامت خیز مہنگا تیل بیچنے والوں سے استفسار کرتے ہیں:’’ ایک لٹر پٹرول میں 13روپے اضافے سے حکمرانوں کو89کروڑ روپے روزانہ اور 325 ارب روپے سالانہ منافع ملتا ہے ۔ یہ89کروڑ ( یا 890 ملین روپے) کس کی جیب میں جارہے ہیں ؟ عوام کو ہر روز نئے سرے سے کنگال کرنے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ حکمران اشرافیہ اپنے اللے تللے کب کم کریں گے ؟ سرکاری اشرافیہ اپنے بھاری بھر کم مراعات کے حصول و اجرا کے لیے کب تک غریب عوام کا بھرکس نکالتے رہیں گے ؟۔‘‘

عوام مہنگے ترین پٹرول و ڈیزل ، مہنگی ترین بجلی اور بے روزگاری کی انتہاؤں کے کارن سینہ کوبی کررہے ہیں اور دوسری طرف پاکستانی نام نہاد اشرافیہ کے ’’ٹشن‘‘ ہی پورے نہیں ہو رہے ۔ عوام پر موٹر ویز اور ہائی وزیز پر ٹول ٹیکسز میں نیا ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ ارکانِ پارلیمنٹ، سرکاری اشرافیہ اور اعلیٰ عدلیہ حکام ( جن کی ماہانہ تنخواہیں لاکھوں روپے میں ہے) ٹول ٹیکس دینے سے انکاری ہے اور مُصر ہے کہ اُنہیں ملا استثنا جاری رہے ۔

اب نیا قاعدہ اور قانون بھی آ چکا ہے کہ ’’ بجلی کے جس غریب صارف نے6ماہ میں ایک بار بھی 200سے ایک یونٹ بھی زیادہ استعمال کرلیا تو اُس کی پروٹیکٹڈ کیٹگری ختم کر دی جائے گی ۔‘‘ اِس حساب سے کئی غریب صارف اپنے بجلی کے بِل سامنے لائے ہیں ۔ اِن بِلز کے مطابق: اگر کسی صارف نے ہر ماہ200یونٹ بجلی استعمال کیے تو اُس کا ماہانہ بِل 3600روپے آیا ، مگر جونہی اس صارف نے 201 یونٹ استعمال کرلیے ، اُس کا بِل 10ہزار 200 روپے تک جا پہنچا ۔ ایسے میں غریب صارفین سینہ کوبی کریں یا حکومت کے حق میں ’’دعائیں‘‘ کریں ؟ یا ظالم و استحصالی آئی پی پیز (جن میں کئی حکومتی اشرافیہ کے خاندانوں کی ملکیت ہیں) کو جھولیاں بھر بھر کر بددعائیں دیں؟

اور یہ خبر تو میڈیا اور سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہے کہ وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد، میں ایلومینیم کی ایک دکان پر کام کرنے والے ایک دیہاتی مزدور نوجوان ( جو والدین کی اکلوتی اولاد تھا) نے بجلی کے بھاری بِلز آنے پر خود پر تیل چھڑکا اور خود کو نذرِ آتش کر لیا ۔ ایک روز بعد وہ زخموں اور آبلوں کی تاب نہ لاتے ہُوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اس کے حکمرانوں سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر گیا ۔ بتایا جائے اِس کی المناک موت کا کون ذمے دار ہے؟ مبینہ طور پر تو مرحوم کی والدہ نے دو تین بار گھر کی چند چیزیں فروخت کرکے اور قرض لے کر بجلی کا بل بھر دیا ، مگربالآخر نوجوان مزدور کو اپنی جان دے کر حکمرانوں کو بتانا پڑا کہ تمہاری حکومت اور تمہاری قیامت ڈھاتی آئی پی پیز کس کس طرح غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں!اور دوسری جانب ہمارا حکمران طبقہ سرکاری مراعات کے حامل بلیو پاسپورٹ کے حصول اور اپنی تنخواہوں میں 400فیصد اضافے کے لیے قانون سازیاں کررہے ہیں ۔

اِس سلسلے میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف ، دونوں ہی یک زبان ہو چکے ہیں ۔ بالادست حکمرانوں کی ایسی مجموعی بے حسی میں بھلا عوام کی بلند ہوتی چیخیں کون سنتا ہے؟؟ایسے میں خیبر پختونخوا کے ایک صوبائی وزیر نے چیلنج کرتے ہُوئے سوال کیا ہے:’’ ہم سے پہلے ملک بھر میں جن57ہزار افراد کو بلیو پاسپورٹس جاری کیے گئے ہیں ، ذرا اُن کے اسمائے گرامی و عہدے بھی تو قوم کے سامنے رکھے جائیں ۔‘‘