سب سے پہلے زنداں کونسا ہے اور وہ کیسے کام کرتا ہے۔ پہلا قید خانہ فطرت یا طبعیت کا قید خانہ ہے۔ اسے بیالوجیکل ازم بھی کہا جا سکتا ہے۔ انسان قدرتی اور حیاتیاتی قوانین کا قیدی ہے۔ موسم کی شدت، بیماریاں ، جسمانی کمزوریاں اور کشش ثقل بھی۔ زمین کی کشش ثقل یہ سب انسان پر فطرت کی طرف سے رکاوٹ ہے۔ انسان کا ذہن تو چاہتا تھا کہ وہ پرندوں کی طرح اڑے لیکن فطرت نے اسے پر نہیں دیئے۔ وہ ہزاروں میل دور دیکھنا چاہتا تھا لیکن اس کی آنکھوں کی ایک حد مقرر تھی۔ لیکن اس رکاوٹ کو انسان نے بہرحال کافی حد تک شکست دے دی ہے۔
یعنی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم نے اس پہلے زنداں کی سلاخیں توڑ دیں۔ انسان نے اپنی فطری حدود کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے علم کو استعمال کیا۔ ہوائی جہاز بنا کر ہم نے اڑان بھری۔ میڈیکل سائنس کے ذریعے ہم نے ان گنت بیماریوں کو شکست دی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے تو فاصلوں کا وجود ہی مٹا دیا۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ سائنس ایک کنجی تھی جس نے فطرت کے اس قید خانے کا دروازہ آخر کار کھول دیا۔
فطرتی رکاوٹوں کو مسخر کرنے کے بعد جب انسان مڑ کر دیکھتا ہے تو وہ خود کو ایک اور جبر کے تحت پاتا ہے اور دوسرا زنداں ہے تاریخ کا جبر۔ سائنس نے ہمیں اڑنا سکھا دیا اور بیماریاں ختم کر دیں اور ہم نے رکاوٹوں کو ہرا دیا۔ ایک مکمل صحت مند انسان جو 1939ء میں کسی جدید ہوائی جہاز میں اڑ رہا ہے وہ شاید سیدھا دوسری جنگ عظیم کی ہولناکیوں میں جا رہا ہے۔ اور اس نے وہ جنگ خود نہیں چنی تھی۔ وہ اس دور کا قیدی ہے۔
کیونکہ جس دور میں ہم آنکھ کھولتے ہیں وہ ہمارا انتخاب نہیں ہوتا۔ "تاریخ کا جبر یہی ہے کہ ہم سب ماضی کے حالات گزشتہ نسلوں کے فیصلوں اور تاریخی دھاروں کی پیداوار ہوتے ہیں"۔ کوئی فرد یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اسے عہد قدیم میں پیدا ہونا ہے یا کسی نو آبادیاتی دور میں یا آج کے جدید دور میں۔ یعنی وہ چاہ کر بھی اپنا زمانہ نہیں بدل سکتا۔ بالکل نہیں۔ ایک شخص کی شخصیت اس کے خیالات اور اس کوملنے والے مواقع پر اس کے تاریخی پس منظر کا بے پناہ دباؤ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ہمیشہ تاریخ کے اس اندھے دھارے پر بہنے میں مجبور ہیں۔ اس تاریخی جبر کے قید خانے سے رہائی کیسے ممکن ہے۔ کیا اس کا کوئی دروازہ ہے۔ جی ہاں دروازہ ہے۔ کتاب واضح کرتی ہے کہ اس قید کے نکلنے کا راستہ علم ، تاریخ اور فلسفہ تاریخ کا گہرا ادراک ہے۔
جب انسان تاریخ کے اتار چڑھاؤ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب اور تاریخی قوتوں کے کام کرنے کے اسباب سمجھ لیتا ہے تو اس اندھے پن کے چکر سے باہر نکلتا ہے۔ یعنی وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنے مستقبل کی سمت خود طے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ شعور اسے تاریخ ساز بنا دیتا ہے۔ اب اگر فرض کریں کوئی شخص تاریخ کا گہرا مطالعہ کر لیتا ہے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچنے کا شعور پا لیتا ہے۔ لیکن جب وہ اگلی صبح اٹھتا ہے تو اسے پھر بھی ایک مخصوص معاشی نظام کے تحت کام پر جانا پڑتا ہے۔ وہ ایک مخصوص سماجی طبقے سے تعلق رکھتا ہے جس کے اپنے ہی ظالمانہ اصول اور تعصبات ہیں۔ تو کیا یہ ہمارا تیسرا قید خانہ ہے۔
جی ہاں بالکل یہی ہمارا تیسرا بیرون زندان ہے جسے معاشرے کا جبر کہا گیا ہے۔ یعنی سوشیالوازم۔ "انسان جس معاشرے میں پیدا ہوتا ہے وہ اس کے طبقاتی نظام، خاندانی روایات، عقائد اور معاشی ڈھانچے کا قیدی بن کر رہ جاتا ہے"۔ یعنی معاشرہ فرد کو ایک خاص سانچے میں ڈھالنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایک پسماندہ معاشی اور طبقاتی نظام میں آنکھ کھولتا ہے تو اس معاشرے کے غیر مرئی قوانین اسے اسی طبقے میں محدود رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ تمہاری حد یہی ہیں۔ اس سماجی جبر کو سمجھنے کو ہم اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے ہم سب ایک تھیٹر کے ڈرامے میں ادا کار ہوں۔
ہم سب کو اسکرپٹ دیا گیا ہے۔ اور ہم سب اندھا دھند ڈائیلاگ بول رہے ہوں ۔ لیکن علم عمرانیات یا سوشیالوجی وہ لمحہ ہے جب اس اداکار کو اچانک احساس ہو جاتا ہے ارے یہ تو ایک اسکرپٹ ہے اور اسٹیج کے پیچھے کوئی ڈائریکٹر بیٹھا ہمیں کنٹرول کر رہا ہے۔ اس شعور کے آتے ہی وہ ادا کار اسکرپٹ سے ہٹ کر بولنے یا پورے ڈرامے کو بدلنے کے قابل ہو جاتا ۔ یعنی وہ سماجی ناانصافیوں کے خلاف بغاوت کر سکتا ہے۔ جب انسان معاشرتی ساخت اور طبقاتی استحصال کو علمی بنیادوں پر سمجھ لیتا ہے تو وہ اس کے خلاف آواز اٹھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ علم عمرانیات کی مدد سے وہ ایک نیا مساوی اور انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کر سکتا ہے۔