راولپنڈی:
چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سیاسی لیڈروں کو شہدا کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے، مولانا کی شہدا سے متعلق گفتگو سے متفق نہیں، سیاست دانوں کو جوش خطابت میں الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کرنی چاہیے۔
یہ بات انہوں ںے اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کہی۔ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہوگیا اور کسی رہنما کی ملاقات نہ ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں دہشت گردی ایک ناسور ہے، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں، شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، ہمارے فوج کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، تنخواہ تو کیا دنیا کے سارے خزانے شہداء کی قربانیوں کا نعم البدل نہیں، ہم اپنے جوانوں کی قربانیوں کے معترف ہیں اور انہیں سلام پیش کرتے ہیں تاہم سیاسی لیڈروں کو شہدا کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیئے شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں انکا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا، ہماری جیسی بھی قربتیں ہیں ہمارا دہشت گردی کے خلاف واضح موقف ہے، مولانا کا خطاب نہیں سنا لیکن شہداء کے حوالے سے ان کی گفتگو سے متفق نہیں ہوں، سیاست دانوں کو اپنے جوش خطابت میں الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کرنی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں بی ایل اے ہندوستان ہے اور ہندوستان بی ایل اے ہے، بی ایل اے را ہے اور را بی ایل اے ہے، پوری قوم ان کے خلاف ہے، مئی 2025ء کی پسپائی کے بعد ہندوستان پاکستان میں پراکسی وار شروع کرنا چاہتا ہے ہم بحیثیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں، پاکستان پر کوئی کمپرومائز نہیں ملک دشمنوں کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی کی بہنیں سسٹم سے مایوس ہیں اسی لیے وہ خود باہر نکلی ہیں، اگر بانی کی بہنیں اپنے بھائی کے لیے اسٹریٹ مومنٹ چلاتی ہیں تو یہ ان کا حق ہے، بانی کے خلاف سارے کیسز سیاسی کیسز ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے 5 اگست سے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے، تحریک انصاف 5 اگست کو کیا کرے گی یہ فیصلہ پارلیمانی اور پولیٹیکل کمیٹی کرے گی، علیمہ خان کا کیس بھی اختتام کی طرف جارہا ہے ہم چاہتے ہیں اس میں جلدی نہ کی جائے، بانی اور اس کے بھانجے کو جیل میں ڈالنے کے بعد علیمہ خان کو بھی جیل میں ڈالا گیا تو کیا تاثر جائے گا، آزاد کشمیر میں انتخابات کے بائیکاٹ کا ہمارا فیصلہ موجود ہے، ہمارا موقف ہے اگر آزاد کشمیر میں صورتحال بہتر ہوئی تو ہم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال پر ہمارا واضح موقف ہے ہم ریاست مخالف بیانیے کے ساتھ نہیں، ہم نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی حمایت کی لیکن ہم نہیں چاہتے خون خرابہ ہو، گولی جدھر سے بھی چلے گی مرے گا ہمارا پاکستانی، ہم نے کہا تھا اپوزیشن رہنماؤں کو آزاد کشمیر جانے دیں تاکہ کوئی راستہ نکالا جائے، ملک ہمارا ہے فوج ہماری ہے اس ملک کو متحد رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں ںے کہا کہ میری خواہش ہے سارے اسیر رہنماؤں کی رہائی ہو، میری خواہش اور کوشش ہے کہ علیمہ خان کے کیس کے فیصلے میں جلدی میں نہ ہو، علیمہ خان کے کیس کا فیصلہ آنے سے اچھا تاثر نہیں قائم ہوگا، علیمہ خان سیاست نہیں کررہیں وہ اپنے بھائی کے لیے کے پی میں نکلی ہیں، میں نہیں سمجھتا علیمہ خان کوئی سیاست کررہی ہیں۔
اگر افغانستان کا ڈی این اے ہمارے دشمن سے ملتا ہے تو وہ ہم سے الگ ہوچکے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ 270 دن سے بانی کے ساتھ کسی کی ملاقات نہیں ہورہی، ہم چاہتے ہیں فیملی کی ملاقاتیں بحال ہوں، گزشتہ چالیس سال میں افغانستان نے پاکستان کو بڑا مایوس کیا ہے، ہم نے ہر صورت افغانستان کا ساتھ دیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ کہا افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے، اگر ہم ان کو کہیں ہمارے دشمن کو اپنے گھر میں جگہ نہ دو تو یہ ہمارا حق ہے، اگر افغانستان کا ڈی این اے ہمارے دشمن سے ملتا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ ہم سے الگ ہوگئے ہیں، یہ اب افغانستان کو سوچنا ہے انہیں ہمارے ساتھ کس طرح چلنا ہے۔
عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم، کسی رہنما کی ملاقات نہ ہوسکی
دریں اثنا بانی پی ٹی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہوگیا، کسی پارٹی رہنما اور فیملی ممبر کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔
ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل کے قریب بانی کی دو بہنوں نے دھرنا دیا،نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمی سیوریج نالے کے حفاظتی پشتے پر بیٹھی رہیں، علیمہ خان چترال میں ہونے کے باعث آج غیر حاضر رہیں، علیمہ خان نے کارکنان کو اڈیالہ روڈ آنے سے منع کیا تھا، فیکٹری ناکے پر کارکنوں کی انتہائی کم تعداد موجود رہی، ٹریفک رواں دواں رہا تمام دکانیں اور پٹرول پمپ کھلے رہے۔
دہشت گرد سرحد سے کیسے داخل ہوتے ہیں یہ وفاقی اداروں کو دیکھنا ہے، سلمان راجا
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میں آج ہی ایران سے واپس لوٹا ہوں، جنازے اور تدفین میں شرکت کے لیے گیا تھا، وزیراعلیٰ کے پی یقینی بنارہے ہیں صوبے کے تمام معاملات شفافیت سے چلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کاؤنٹر ٹیرارزم کو صوبائی اور وفاقی سطح پر بھی دیکھا جاتا ہے، ہم جانتے ہیں پاکستان کے اندر دہشت گرد عناصر موجود ہیں، گزشتہ چھ آٹھ ماہ میں دہشت گردی میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی زیادہ ہورہی ہے، دہشت گردی کے خلاف ہمیں بحیثیت قوم نبرد آزما ہونا ہے، دہشت گردی کے خلاف اداروں کو اپنا اپنا فرض بجا لانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اداروں کا کام سرحد کی حفاظت ہے، دہشت گرد سرحد سے کیسے داخل ہوتے ہیں یہ وفاقی اداروں کو دیکھنا ہے، اداروں کو یقینی بنانا ہے کہ دہشت گرد صوبے میں داخل نہ ہوں۔