پشاور کے علاقے حسن خیل میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکے سے بم ڈسپوزل یونٹ اہلکارشہید ہوگیا جس کی پورے اعزاز کے ساتھ نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق تھانہ حسن خیل کی حدود چوکی فقیری بانڈے میں نامعلوم تخریب کاروں کی جانب سے بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔ اس دوران بی ڈی یو ٹیم کو طلب کیا گیا۔
بی ڈی یو اہلکار خائستہ رحمان آئی ای ڈی کو ناکارہ بنانے کی کوشش کررہا تھا کہ اس دوران زوردار دھماکا ہوگیا جس کی زد میں آکر وہ شدیدزخمی ہوگیا بعدازاں جان کی بازی ہارگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید کارروائی کی گئی۔
شہید اہلکار خائیستہ رحمان کی نمازِ جنازہ ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
شہید کی نمازِ جنازہ میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی وزیر طارق سید مروت، رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کاشف عالم، سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد، پاک آرمی کے حکام، سی ٹی ڈی کے افسران، چیف ٹریفک آفیسر، ایس ایس پی آپریشنز، ڈویژنل ایس پیز سمیت شہید کے لواحقین اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اس موقع پر پولیس کے دستے نے شہید کو سلامی پیش کی۔ گورنر خیبر پختونخوا، صوبائی وزیر، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، سی سی پی او پشاور اور پاک آرمی کے حکام نے شہید کے تابوت پر پھول چڑھائے ور ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے شہید کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز کے دفاع اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکار کی قربانی کو ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے گا۔