ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر فیس کا فیصلہ واپس لے لیا؛ سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ بتادیا

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر 20 فیصد فیس نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا


ویب ڈیسک July 14, 2026
ایران کی جنگ بندی تجویز اہم پیشرفت لیکن کافی نہیں؛ ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر اپنے 20 فیصد امریکی سیکیورٹی فیس کی جگہ سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدوں کو ترجیح دینے کا اعلان کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی مثبت اور تعمیری مذاکرات کے بعد انھوں نے آبنائے ہرمز پر فیس کا فیصلہ واپس لے لیا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نے اب آبنائے ہرمز میں سے گزرنے والے کارگو بحری جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد امریکی ری ایمبرسمنٹ فیس نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس فیس کے بجائے خلیجی ممالک امریکا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گے اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے نئے معاہدے کیے جائیں گے جن سے امریکی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

صدر ٹرمپ نے فیس کا فیصلہ واپس لینے کے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جگہ خلیجی ممالک کی جانب سے امریکا میں سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدوں کو ترجیح دی جائے گی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور عالمی توانائی کی سپلائی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں عراق کے وزیراعظم سے ملاقات سے چند لمحے قبل سامنے آیا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کی جائے گی۔

ان کا مؤقف تھا کہ امریکا عالمی جہاز رانی اور تیل کی ترسیل کے تحفظ کے لیے بھاری وسائل استعمال کرتا ہے اس لیے اس کے اخراجات میں شراکت ہونی چاہیے۔

تاہم صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسے شدید قانونی اور سفارتی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی واضح کرچکے تھے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی ملک وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر یکطرفہ ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا۔

مارکو روبیو نے مزید کہا تھا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے اور موجودہ بین الاقوامی قانون کسی بھی ریاست کو وہاں ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اسی طرح نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ امریکی حکومت کا اصولی مؤقف یہی ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں ہر قسم کی ٹول فیس سے آزاد ہونی چاہئیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ خود صدر ٹرمپ بھی ماضی میں کئی بار کہہ چکے تھے کہ امریکا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی اور آزاد رہے اور وہاں کسی قسم کی ٹول فیس نہ ہو۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار بحری گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اضافی اخراجات عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ انڈسٹری اور سپلائی چین پر براہ راست اثر انداز ہوسکتے ہیں۔