ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں واقع متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوج کے اسلحہ ذخیرہ گاہوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں اسلحہ ذخیرہ کرنے والے ہینگرز اور کویت میں امریکی ڈرونز کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی جارحیت کا جواب اور سزا اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکا اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا۔ اگر حملے دہرائے گئے تو اس سے بھی زیادہ حیران کن جواب دیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جب تک امریکا خطے میں اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے گا اس وقت تک خطے سے تیل اور گیس کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ امریکی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہوگا۔
قبل ازیں ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کویت میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام، ایندھن کے ذخائر، پیٹریاٹ دفاعی نظام، کنٹرول ٹاور، گولہ بارود کے گودام اور ایک امریکی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلیج میں موجود ایک امریکی بحری جہاز پر بھی کروز میزائل داغے گئے۔ یہ کارروائی امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی فوج کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو ایران بھی جوابی حملے جاری رکھے گا۔
دوسری جانب کویت کا کہنا ہے کہ اپنی فضائی حدود میں دشمن کے فضائی حملوں کو دفاعی فضائی نظام نے سراغ لگاکر تباہ کردیا۔
بعد ازاں ملک کے ایک امریکی فوجی اڈے کے قریب دھماکے کی آوازیں بھی سنی گئیں تاہم کویتی حکومت نے نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف فوجی اہداف پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔