انسانی تاریخ کا موجودہ دور سائنس، ٹیکنالوجی، طب ،مواصلات اور مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز ترقی کا دور ہے۔ آج انسان چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رابطہ قائم کر لیتا ہے، پیچیدہ بیماریوں کا علاج ممکن ہو چکا ہے ،سفر محفوظ اور تیز تر ہو گیا ہے اور معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے، لیکن اس تمام ترقی کے باوجود ایک سوال مسلسل ذہنوں میں گردش کرتا ہے کہ آخر انسان پہلے سے زیادہ غیر محفوظ کیوں محسوس کر رہا ہے؟ خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ احساس مزید گہرا دکھائی دیتا ہے جہاں شہری اپنی جان، مال، عزت، روزگار اور مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں ،موبائل فونز اور جدید مشینوں کا نام نہیں، اگر انسان کے دل سے خوف ختم نہ ہو، اگر انصاف بروقت نہ ملے، اگر قانون سب کے لیے برابر نہ ہو اور اگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم نہ کر سکے تو مادی ترقی اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ آج پاکستان میں یہی المیہ نظر آتا ہے۔ عام آدمی ہر لمحہ کسی نہ کسی خوف کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے۔
پاکستان میں عدم تحفظ کی سب سے بڑی وجہ معاشی عدم استحکام ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری ،کم ہوتی قوتِ خرید اور محدود روزگار کے مواقع نے لاکھوں خاندانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ جب ایک شخص اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو تو وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ معاشی پریشانی صرف جیب پر اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ یہ ذہنی سکون، خاندانی تعلقات اور سماجی استحکام کو بھی متاثر کرتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ قانون کی کمزور عملداری ہے، اگرچہ ملک میں قوانین موجود ہیں مگر ان پر یکساں عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ عام شہری کو اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے طویل انتظار، مالی وسائل اور اثر و رسوخ کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب لوگوں کا اعتماد انصاف کے نظام پر کمزور پڑ جائے تو سماج میں خوف اور بے یقینی پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ایک محفوظ سماج صرف طاقتور اداروں سے نہیں بلکہ غیر جانبدار اور موثر انصاف سے تشکیل پاتا ہے۔ جس سماج میں انصاف ہوتا ہے وہاں جمہوریت بھی پھلتی پھولتی ہے۔
امن و امان کی صورتحال بھی انسانی تحفظ کے احساس پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے، اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف گزشتہ برسوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن بعض علاقوں میں دہشت گردی، انتہا پسندی ،اسٹریٹ کرائمز ،اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم کے واقعات اب بھی عوامی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ خاص طور پر کراچی میں موبائل فون چھیننے ڈکیتی اور لوٹ مار جیسے جرائم نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ جب کوئی شخص گھر سے نکلتے وقت اپنے موبائل، گاڑی یا حتیٰ کہ اپنی جان کے بارے میں فکر مند ہو تو یہ احساسِ عدم تحفظ کی واضح علامت ہے۔
سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی آسان بنائی ہے، وہیں نئے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد ،آن لائن فراڈ، سائبر بلیک میلنگ اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال نے انسان کی نجی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان میں بھی سائبر جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے نوجوان خواتین اور کاروباری افراد مختلف انداز میں متاثر ہوتے ہیں۔ یوں ٹیکنالوجی نے سہولت کے ساتھ ساتھ ایک نیا خوف بھی جنم دیا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی بھی انسانی عدم تحفظ کی ایک اہم وجہ بن چکی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور آبی قلت نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے یہ ثابت کیا کہ قدرتی آفات صرف ماحول ہی نہیں بلکہ معیشت، صحت، تعلیم اور سماجی استحکام کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ جب لوگ یہ نہ جانتے ہوں کہ اگلا موسم ان کے لیے کیا مشکلات لے کر آئے گا تو عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔
تعلیم اور اخلاقی تربیت کا فقدان بھی اس مسئلے کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ صرف ڈگریاں حاصل کر لینا کافی نہیں بلکہ برداشت، دیانت داری، قانون کی پاسداری اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی ایک مہذب سماج کی بنیاد ہیں، اگر سماج میں اخلاقی اقدار کمزور پڑ جائیں تو ترقی یافتہ ٹیکنالوجی بھی انسان کو محفوظ نہیں بنا سکتی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں برداشت ،مکالمے اور اجتماعی ذمے داری کا رویہ کمزور ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں سماجی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نفسیاتی مسائل بھی عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ کر رہے ہیں۔ مسلسل معاشی دباؤ، ملازمت کا عدم استحکام، سماجی مقابلہ بازی اور مستقبل کے خدشات نے ذہنی صحت کو ایک سنجیدہ مسئلہ بنا دیا ہے۔ بہت سے لوگ بظاہر تمام سہولتیں رکھنے کے باوجود ذہنی سکون سے محروم ہیں۔ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان کی اصل ضرورت صرف مادی آسائش نہیں بلکہ ذہنی، سماجی اور جذباتی تحفظ بھی ہے۔
پاکستان میں بے شمار مثبت مثالیں بھی موجود ہیں۔ قدرتی آفات کے دوران عوام کا باہمی تعاون نوجوانوں کی رضاکارانہ خدمات فلاحی اداروں کی سرگرمیاں اور سماج کے مختلف طبقات کی خدمت کا جذبہ امید کی کرن ہیں۔ یہی عوامل ثابت کرتے ہیں کہ اگر اجتماعی سوچ اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیا جائے تو تحفظ کا احساس بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست معاشی استحکام ،معیاری تعلیم ، موثر صحت کے نظام شفاف انصاف، جدید پولیسنگ اور سائبر سیکیورٹی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر شہری کو بھی اپنی سماجی ذمے داری کا احساس ہونا چاہیے۔ قانون کی پابندی، دیانت داری، رواداری، اختلافِ رائے کا احترام اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے سے ہی ایک محفوظ سماج تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ترقی کا اصل معیار بلند و بالا عمارتیں یا جدید آلات نہیں بلکہ وہ اطمینان ہے جس کے ساتھ ایک عام شہری اپنے گھر سے نکلے ،اپنے بچوں کو تعلیم دلوائے، روزگار کمائے اور شام کو محفوظ واپس لوٹے۔ جب تک پاکستان میں ہر فرد کو جان، مال، عزت، انصاف اور مستقبل کا حقیقی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، تب تک ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔ ایک مضبوط منصف اور ذمے دار ریاست ہی وہ بنیاد فراہم کر سکتی ہے جس پر محفوظ پر امن اور خوشحال سماج کی تعمیر ممکن ہے اور یہی وہ منزل ہے جس کی طرف پاکستان کو مستقل مزاجی دیانت اور قومی یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔