اکثر ترقی یافتہ ممالک میں بے روزگاری کی شرح کم ہو رہی ہے، جس کی حالیہ مثال آسٹریلیا ہے جہاں ملازمین کی تعداد میں چالیس ہزار کا اضافہ ہوا ہے جب کہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، پاکستانیوں کی تعداد حصول روزگار کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر کسی نہ کسی طریقہ سے بیرون ممالک جانے پر مجبور ہو چکی ہے۔ ملک کے ہوائی اڈوں پر وفاقی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے جعلی دستاویزات پر پاکستان سے باہر جانے کی کوشش ناکام بناکر انھیں آف لوڈ کرکے گرفتار کیے جانے کی خبریں معمول بنی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں کراچی اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک روز میں 8 مسافروں کو جعلی پاسپورٹ و جعلی دستاویزات پر ملک سے باہر جانے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ پر غیر ملکی سفر کرنے والوں میں پاکستان میں رہنے والے افغانیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے جو رشوت دے کر شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور جعلی دستاویزات بنوا کر پاکستان سے نکل کر بیرون ملک جانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں اور بیشتر کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے جعلی دستاویز کی درست طریقہ سے جانچ پڑتال اپنے مالی مفاد کو ترجیح دینے والا متعلقہ عملہ نہیں کرتا اور یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ہوائی اڈوں سے تو کسی طرح نکل جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر جن ممالک میں وہ جانا چاہتے ہیں وہاں کے امیگریشن قوانین اور جانچ پڑتال بہت سخت ہوتی ہے جہاں رشوت دینے کی کوشش بھی نہیں ہوتی جب کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر کسی نہ کسی طرح کلیئرنس کرا لیتے ہیں مگر اپنی منزل پر پہنچنے سے قبل وہاں کے ہوائی اڈوں پر پکڑے جاتے ہیں اور ڈی پورٹ کرکے واپس پاکستان بھیج دیے جاتے ہیں اور ایف آئی اے واپسی پر انھیں جعلی دستاویز پر سفر کے جرم میں گرفتار کر لیا جاتا ہے جن کی بعد میں تحقیقات ہوتی ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ انسانی اسمگلروں اور ایجنٹوں کو لاکھوں روپے رشوت دے کر غیر قانونی پاسپورٹس، ویزے اور جعلی دستاویزات بنوائی تھیں اور متعلقہ عملہ کی ملی بھگت سے وہ جہازوں میں بیٹھنے میں بھی کامیاب ہو گئے تھے۔
پاکستان میں رشوت دے کر شناختی کارڈ بنوانا تو عام ہے جس کے بعد مخصوص ٹریول ایجنٹ انھیں شناختی کارڈ کی بنیاد پر پاسپورٹ اور جعلی سفری دستاویزات بنوا کر ایئرپورٹ بھیج دیتے ہیں جہاں سے وہ کلیئرنس کرا کر خوش قسمتی سے نکل جاتے ہیں، لیکن سخت جانچ پڑتال میں آف لوڈ کیے جانے والوں سے ایف آئی اے کو غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس، پروٹیکٹر اسٹیمپ تک برآمد ہو رہی ہیں۔ موبائل فونز کی فرانزک جانچ پڑتال سے بھی ان کی جعلی دستاویزات کا سراغ مل جاتا ہے اور وہ پکڑے جاتے ہیں۔ افغان پاسپورٹ پر موجود پاکستانی امیگریشن اسٹیمپ بھی جعلی پکڑی گئی ہیں۔ اس طرح اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں افغانوں کے سہولت کار ہر جگہ موجود ہیں اوروہ ملک کو نقصان پہنچانے سے بھی نہیں گھبراتے۔
انسانی اسمگلروں اور جعلی دستاویزات پر بیرون ممالک سفر کرانے والے ایجنٹ ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جو لاکھوں روپے بٹور کر ملک چھوڑ کر جانے والوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی دستاویزات قانونی طور متعلقہ اداروں کی ملی بھگت سے بنوائی گئی ہیں مگر وہ اصلی نہیں ہوتیں بلکہ جانچ پڑتال میں جعلی ثابت ہو جاتی ہیں اور متعلقہ مسافر آف لوڈ کر دیے جاتے ہیں مگر بعد میں جعلی دستاویزات بنوا کر دینے والے ایجنٹوں اور رشوت لے کر کلیئرنس دینے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے۔ اس کا پتا چلتا ہے نہ میڈیا میں خبریں آتی ہیں۔
بہت سے لوگ اپنے ملک میں روزگار کی کمی اور اچھے مستقبل کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر جانے لگے ہیں اور پاکستان میں اپنے اثاثے، گھر اور گھریلو سامان فروخت کرکے بڑی رقم اس لیے لے جانا چاہتے ہیں کہ وہ وہاں مستقل سکونت اختیار کرکے کاروبار یا ملازمت کر لیں گے اور واپس نہیں آئیں گے، جن کے عزیز و اقارب بیرون ملک آباد ہیں ،وہ اپنے عزیزوں کو بھی بلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لاکھوں افراد بیرون ملک مستقل طور پر رہ رہے ہیں اور اپنا وطن مستقل طور چھوڑ کر وہاں کے شہری بن چکے ہیں ، انھیں اپنے وطن سے کوئی دلچسپی نہیںہے۔