اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب پولیس کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت کسی بھی کانسٹیبل یا اہلکار کو اس کے خلاف زیر التوا ایف آئی آر کی بنیاد پر بھرتی نہیں کیا جاتا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین انتظامی حکام کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ بھرتی کی پالیسیوں کا اس طرح اطلاق کریں جس میں ہر کیس کے انفرادی حقائق کو نظر انداز کر دیا جائے۔
انتظامی صوابدید کا استعمال ہمیشہ سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے اور اس کے پیچھے ایسی وجوہات ہونی چاہئیں جو دستیاب مواد اور حاصل کردہ نتیجے کے درمیان منطقی تعلق کو ظاہر کریں۔
تقرری سے انکار کا ایسا حکم جو بعد میں ہونے والی بریت کے قانونی اثرات یا ارد گرد کے حالات کا جائزہ لیے بغیر، محض ماضی کی ایف آئی آر کی موجودگی کا حوالہ دیتا ہو، صوابدید کا حقیقی استعمال نہیں بلکہ پالیسی کا میکانکی اطلاق ظاہر کرتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے چیف جسٹس امین الدین خان کے تحریر کردہ 6 صفحات کے فیصلے میں کہا گیا اس قسم کے طرزِ عمل کو آئینی فیصلے میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
تقرری کرنے والی اتھارٹی تقرری سے قبل کسی بھی امیدوار کے ماضی کے کوائف کی جانچ پڑتال کرنے کی اہل ہے۔ تاہم ایسی جانچ پڑتال آئینی حدود کے اندر رہ کر کی جانی چاہیے۔