سفارتی دنیا میں تحائف کا تبادلہ معمول کی بات ہے مگر پاکستان کے آموں کی بات ہی کچھ خاص ہے جس کے باعث مینگو ڈپلومیسی کا اپنا ایک مقام بن گیا ہے۔
آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ پاکستان کے رسیلے، میٹھے اور ذائقہ دار آم دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں اور اب یہ سفارتی روایت بھی بن چکے ہیں۔
آم کا موسم آتا ہے تو حکومتی سطح پر بطور تحفہ دیگر ممالک کے وزرائے اعظم اور سفارتکاروں کو بھیجے جاتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہنگری کے وزیراعظم پیٹر میگیار کو تحفے میں آم بھیجے تھے اور یہ تحفہ انھیں اتنا پسند آیا کہ اس کا اظہار سوشل میڈیا پر کردیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پاکستانی آم ہاتھ میں تھامے اپنی تصویر شیئر کی اور مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ہر کوئی تحفے میں پستول نہیں دیتا۔
اس جملے میں ان کا اشارہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ترک صدر کی جانب سے ملنے والے ایک تحفے کی طرف تھا۔
پیٹر میگیار نے مزید لکھا کہ ایک تاریخی دن کے اختتام پر میرے دفتر میں ایک خوشگوار سرپرائز میرا انتظار کر رہا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے ہمیں 90 آم تحفے میں ملے۔
انہوں نے پوسٹ کے آخر میں وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ صرف ایک گھنٹے کے اندر ان میں سے زیادہ تر آم ختم ہو گئے اور اب چند ہی باقی بچے ہیں۔
ہنگری کے وزیراعظم کی یہ دلچسپ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور صارفین نے مزاحیہ تبصروں کے ساتھ پاکستانی آموں کی خوب تعریف کی۔
واضح رہے کہ پاکستانی آم دنیا بھر میں اپنی مٹھاس، خوشبو اور منفرد ذائقے کی وجہ سے مشہور ہیں اور ہر سال مختلف ممالک کی اہم شخصیات کو سفارتی تحائف کے طور پر بھی بھیجے جاتے ہیں۔