آبنائے ہرمز تنازع ، سفارت کاری کا امتحان

خلیجی ممالک سے برآمد ہونے والے تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے


July 16, 2026

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں عسکری حکمتِ عملی، سفارتی چالوں، اقتصادی مفادات اور عالمی طاقتوں کی رقابت نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم، اسرائیل کی علاقائی حکمتِ عملی اور شام و لبنان میں فوجی موجودگی سے متعلق اختلافات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں امن کا مستقبل صرف عسکری برتری سے نہیں بلکہ ذمے دار سفارت کاری، سیاسی بصیرت اور بین الاقوامی قانون کے احترام سے وابستہ ہے۔ حالیہ پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اٹھایا جانے والا ہر قدم صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہوتا ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بیس فیصد ٹیکس عائد کرنے کے اعلان نے ابتدا ہی میں دنیا بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔ عالمی تجارتی اداروں، برطانیہ سمیت متعدد ممالک اور خلیجی ریاستوں نے اس فیصلے کو بین الاقوامی تجارت، توانائی کی ترسیل اور سمندری قوانین کے تناظر میں نہایت حساس قرار دیا۔ بالآخر خلیجی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد صدر ٹرمپ نے اس فیصلے سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے اسے خلیجی ممالک کی جانب سے امریکا میں وسیع سرمایہ کاری کے معاہدوں سے تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔

بظاہر یہ فیصلہ ایک معاشی سمجھوتا محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں سفارتی دباؤ، عالمی منڈیوں کا اضطراب اور توانائی کے تحفظ سے متعلق خدشات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک سے برآمد ہونے والے تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، اگر اس گزرگاہ میں معمولی سی رکاوٹ بھی پیدا ہو جائے تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کے مختلف شعبے بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ہر سیاسی یا عسکری بیان سرمایہ کاروں، تجارتی اداروں اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دیتا ہے۔

 اگرچہ امریکی صدر نے ٹیکس کے فیصلے سے رجوع کر لیا، تاہم ایران کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھا۔ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے عزم اور اس کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کے بیان نے امریکی حکمتِ عملی کے دو متوازی رخ نمایاں کیے ہیں۔ ایک طرف دباؤ اور طاقت کا اظہار، دوسری جانب سفارتی امکانات کو زندہ رکھنا۔ یہی طرزِ عمل گزشتہ کئی برسوں سے امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ رہا ہے، لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ صرف دباؤ پر مبنی حکمتِ عملی دیرپا استحکام پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔دوسری جانب ایران نے بھی اپنے مؤقف میں کسی قسم کی نرمی کا اشارہ نہیں دیا۔

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب اس کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے اور اس کے عوام کے حقوق کا احترام کیا جائے، اگرچہ اس دعوے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کسی بھی تنازعے کا مستقل حل صرف یکطرفہ دباؤ سے ممکن نہیں ہوتا۔صورتِ حال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب امریکا کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر تازہ فضائی حملے کیے گئے۔ قشم اور کیش جیسے اہم جزیروں پر بمباری، بندرگاہ میں موجود کشتیوں کو نشانہ بنانا اور جانی نقصان کی اطلاعات نے کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا۔ عسکری کارروائیاں اگرچہ محدود دائرے میں ہوں، لیکن ان کے سیاسی اور سفارتی نتائج اکثر ان کے فوری عسکری اثرات سے کہیں زیادہ دور رس ہوتے ہیں۔ ہر حملہ مستقبل کے مذاکرات کو مزید پیچیدہ اور اعتماد کی فضا کو مزید کمزور بنا دیتا ہے۔

اس کے جواب میں ایران نے بحرین، کویت، عمان اور اردن کی سمت ڈرون اور میزائل حملے کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے خلیج میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس ردعمل نے واضح کر دیا کہ اب کشیدگی صرف امریکا اور ایران کے درمیان محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں پھیلنے لگے ہیں۔ جب تنازع متعدد ممالک کی سرزمین، فضائی حدود اور سمندری راستوں تک پہنچ جائے تو کسی ایک واقعے کی غلط تشریح یا غیر محتاط فیصلہ وسیع جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

درحقیقت بین الاقوامی تجارت میں مصروف بحری جہاز کسی عسکری تنازعے کا حصہ نہیں ہوتے، لیکن جب جنگی ماحول پیدا ہو جائے تو سب سے پہلے نقصان انھی بے گناہ افراد کو اٹھانا پڑتا ہے جو اپنے روزگار کی خاطر سمندر میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ تمام واقعات اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عالمی معیشت اور عالمی امن ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ جہاں تجارت کے راستے غیر محفوظ ہوں، وہاں سرمایہ کاری سست پڑ جاتی ہے، توانائی مہنگی ہو جاتی ہے، افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے اور ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے آبنائے ہرمز کا استحکام صرف خلیجی ریاستوں یا بڑی طاقتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے معاشی مفادات سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

 اسی دوران ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر شام اور لبنان سے اسرائیلی افواج کی واپسی کے لیے دباؤ بڑھایا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ شام میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔ یہ مؤقف اس لحاظ سے قابلِ توجہ ہے کہ امریکا عمومی طور پر اسرائیل کے سلامتی سے متعلق مؤقف کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں واشنگٹن بھی اس حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا کہ مسلسل فوجی موجودگی خطے میں سیاسی تصادم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

شام اور لبنان سے متعلق امریکی مؤقف میں آنے والی تبدیلی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ جنوبی شام اور جنوبی لبنان میں اس کی فوجی موجودگی اس کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ تل ابیب کا استدلال ہے کہ ان علاقوں سے سرگرم مسلح گروہوں کی موجودگی اس کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے، اس لیے قبل از وقت انخلا مستقبل میں مزید بڑے خطرات کو جنم دے سکتا ہے، تاہم بین الاقوامی سفارتی حلقوں کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ کسی بھی ملک کی طویل فوجی موجودگی، خواہ اس کے پس منظر میں سلامتی کے خدشات ہی کیوں نہ ہوں، مقامی آبادی میں بے چینی اور سیاسی مزاحمت کو بڑھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا بھی اب کشیدگی کم کرنے کے لیے محدود فوجی انخلا اور سفارتی راستوں پر زیادہ زور دیتا دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے یہ معاملہ صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں بلکہ ان کی داخلی سیاست سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔

قریب آتے انتخابات، اتحادی جماعتوں کے متضاد مطالبات اور ملکی سیاسی تقسیم نے ان کی فیصلہ سازی کو پہلے ہی مشکل بنا رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی بڑا عسکری یا سیاسی فیصلہ ان کے لیے داخلی سطح پر سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شام اور لبنان سے فوجی انخلا کے حوالے سے انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن داخلی سیاسی مصلحتیں اگر علاقائی استحکام پر غالب آ جائیں تو اس کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خطہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورت حال یہ بھی واضح کرتی ہے کہ طاقت کا توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ خطے کے مختلف ممالک اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے، جدید ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل پروگراموں اور بحری دفاع کو مضبوط بنانے پر مسلسل سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس دوڑ نے دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، جب کہ ترقی، تعلیم، صحت اور عوامی بہبود جیسے شعبے نسبتاً پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ جب ریاستوں کی اولین ترجیح عسکری برتری بن جائے تو عوامی فلاح اور معاشی استحکام متاثر ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

 وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام متعلقہ فریق تحمل، تدبر اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں۔ طاقت کا بے مہار استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے، لیکن پائیدار امن کبھی نہیں لا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے معاشی استحکام، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی امن سے وابستہ ہے۔ اگر عالمی قیادت نے اس حقیقت کو بروقت نہ سمجھا تو آبنائے ہرمز سے اٹھنے والی بے چینی شام، لبنان اور خلیج سے آگے بڑھ کر پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے ایک طویل بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طاقت کی سیاست پر سفارت کاری کو، محاذ آرائی پر مکالمے کو اور وقتی مفادات پر اجتماعی امن کو ترجیح دی جائے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو مستقل استحکام اور دنیا کو محفوظ مستقبل فراہم کر سکتا ہے۔