قانون کی لاقانونیت

بڑا دردناک قصہ ہے اور ایسے وحشت، بربریت، ظالمانہ قصے ہمارے سڑے ہوئے معاشرے میں عام ہیں۔


[email protected]

اس موضوع پر میں نے پہلے بھی کئی بار لکھا ہے کہ ایک شخص کے خلاف کوئی بھی کسی قسم کا جھوٹا مقدمہ قائم کرتا ہے سرکاری اداروں کو دانہ کھلاتا ہے اسے بغیر کسی جواز یا ثبوت یا شہادت کے گرفتار کیا جاتا ہے، اس کی عزت بھی خاک میں جاتی ہے، پھر وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے، بے پناہ اخراجات اْٹھاتا ہے، قانون نافذ کرنے والے اور انصاف فراہم کرنے والے بھی اسے دودھیل گائے کی طرح خوب دوہتے ہیں۔ آخر جان و مال اور عزت کا جنازہ نکلنے کے بعد وہ بھی بے گناہ ثابت بری ہو جاتا ہے۔

اسے ساری سزائیں پہنچانے والے کو کوئی کچھ نہیں کہتا، آخر اسے اتنا ذہنی جسمانی مالی نقصان پہنچانے والوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا، کیونکہ ہمارے قوانین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے، عام طور پر تو کسی کو نقصان پہنچانے پر تو قانون میں بہت ساری دفعات ہیں لیکن حکومت اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے اگر کسی بے گناہ کو نقصانات پہنچاتے ہیں تو اس کا مداوا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ سب بڑے آرام سے اپنا کام کرنے بلکہ اسی طرح کے اور کام دکھانے میں مصروف رہتے ہیں۔

یہاں پر مجھے دنیا کے پہلے بادشاہ، حمورابی جو مسیح سے ڈھائی ہزار سال پہلے دجلہ و فرات کے علاقے نینوا میں گزرا ہے، اس نے جو مجموعہ قوانین بنایا تھا، ، اس میں دوسرے قوانین کے علاوہ، سرفہرست دفعہ اور قانون یہ تھا کہ اگر کوئی کسی پر کوئی دعویٰ دائر کرتا ہے، کوئی بھی کسی بھی قسم کا مقدمہ قائم کرتا ہے، الزام لگاتا ہے، اور وہ اپنا دعویٰ ثابت نہیں کر پاتا، الزام غلط نکلتا ہے، تو اسی وقت اسی لمحے وہ دعویٰ یا الزام الٹ کر مدعی کے اوپر قائم ہو جاتے ہیں، اور اسی وہی سزا ملے گی جو اس جرم کے لیے مقرر ہے۔

یعنی غلط دعویٰ اور جھوٹا مدعی اس جرم کی سزا پائے گا، لیکن یہ دفعہ موجودہ قوانین سے نکال دی گئی ہے، کیونکہ غلط مقدمات جھوٹے الزامات زیادہ حکومت اور اس کے ادارے لگاتے ہیں۔ بے گناہ لوگوں کو محض دوہنے اور نچوڑنے کے لیے اسے پکڑتے ہیں۔ بے عزت کرتے ہیں، لمبا لمبا عرصہ جیلوں میں رکھتے ہیں، تاریخ پہ تاریخ، تکلیف پہ تکلیف دیتے ہیں۔اپنی جیبیں بھرتے ہیں، یہاں کے وہ بیچارے بے گناہ، بے خطا، اتنی تکلیفیں، اخراجات اور رسوائیاں اٹھاتے ہیں، روزگار تباہ ہو جاتا ہے، اور آخر میں ٹائیں ٹائیں فش۔ وہ خود کو ہزار تکلیف اٹھا کر بے گناہ تو ثابت کر دیتا ہے، لیکن اسے ناحق تکالیف پہنچائی جا چکی ہوتی ہیں۔

اس کا کیا؟ اور قانون و انصاف کی اس بے انصافی میں اکثر برے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، اپنے مخالفین کو جھوٹے الزامات اور مقدمات میں پھنساتے ہیں، رسوا کرتے ہیں اور تکالیف میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہ بات مجھے حالیہ ایک واردات بلکہ قانون والوں کی لاقانونیت پر مبنی ایک واردات کو دیکھ کر یاد آئی ہے، یہ کسی ایرے غیرے کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک معروف شریف، خدا ترس اور مخلص وکیل کے ساتھ ہوئی۔اس کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے ایک مظلوم خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔

 بڑا دردناک قصہ ہے اور ایسے وحشت، بربریت، ظالمانہ قصے ہمارے سڑے ہوئے معاشرے میں عام ہیں۔ یہ خاتون ایک جرائم پیشہ منشیات فروش اور غنڈا گرد خاندان سے تعلق رکھتی ہے، جہاں اس کے چچاؤں کی حکومت تھی۔ لڑکی اور اس کا نکما اور نشئی باپ بھی اس کے دست نگر تھے اور دونوں چچا اسے تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور ہر اپنے حکم کی تعمیل کرواتے تھے۔

انکار پر مارتے پیٹتے تھے، تنگ آ کر لڑکی باپ کو لے کر کسی رشتے دار کے ہاں رہنے لگی اور وکیل سے رابطہ قائم کر لیا جو ایسے مظلوموں کی داد رسی کے لیے مشہور تھا۔ اس نے حسب معمول، حسب عادت اور حسب مزاج بغیر فیس لیے لڑکی کی طرف سے کیس داخل کر دیا۔ ظالموں کو پتہ چلا تو انھوں نے کسی نہ کسی طرح اس کے باپ کو راضی کیا، ان کے رشتہ دار کو ڈرا دھمکا کر لڑکی کو باپ سمیت پھر لے آئے اور لڑکی کو پہلے سے بھی زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا. لڑکی اتنی تنگ آگئی کہ اس مرتبہ بھاگ کر دارالامان پہنچ گئی دارالامان والوں نے اسے پناہ اور قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے عدالت لے آئے، تو وکیل نے اسے دیکھ لیا دارالامان والوں سے بات کی اور لڑکی کو صحیح ہاتوں اور پناہ میں دیکھ کر خوش ہوا۔

لیکن پولیس نے وکیل کے گھر پر چھاپا مارا وکیل اور اس کے ضعیف باپ کو گرفتار کر لیا ، لڑکی کے کھلاڑی چچاؤں نے اس پر لڑکی کے اغوا کا کیس درج کیا۔ کھلاڑی لوگ تھے، پولیس کو دانا بھی کھلایا، وکیل کہتا رہا کہ لڑکی دارالامان میں موجود ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والوں نے ایک نہیں سنی اور اسے ارسٹ کیا۔ کچھ روز حوالات کی ہوا کھلائی، محلے میں رسوا کیا، وہ کچھ روز بعد جب سب کو معلوم ہو گیا کہ لڑکی دارالامان میں موجود ہے، رہا تو ہو گیا لیکن اسے جو ذہنی اور جسمانی تکلیف پہنچی، رسوائی ہوئی اس کا کیا؟ اس کی بھرپائی کون کرے گا اور جن لوگوں اور پولیس نے اس پر یہ ناروا کارروائی کی اس سے کون پوچھے گا۔اب یہ انصاف فراہم کرنے والے با اختیار لوگ جانیں اور ان کا انصاف اور قانون؟

یہ سلسلہ اب بہت بڑھ چکا ہے غنڈے اور پولیس والے تو چچیرے مچیرے بھائی ہوتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انصاف کو دہلیز پر پہنچانے کے مدعی کیا کرتے ہیں ؟