غریب کب تک لوٹے جائیں گے؟

پٹرولیم مصنوعات گیس و بجلی کے نرخ حکومت کے کنٹرول میں ہیں جو حکومت کی آمدنی مسلسل بڑھا رہے ہیں مگر حکومت یہ تینوں اشیا بہت زیادہ مہنگی کرکے بھی مطمئن نہیں۔


[email protected]

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کو اپنی آمدنی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے اور من مانے جابرانہ فیصلوں کے ذریعے غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے انھیں سرکاری فیصلوں سے لوٹنا حکومت نے اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے جب کہ موجودہ حکومت نے تو طے کر رکھا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے نہیں اور صرف اور صرف عوام کی مشکلات، مسائل اور ملک میں مہنگائی و بے روزگاری بڑھا کر صرف معیشت کی بہتری کے لیے آئی تھی جس نے اپنے ڈھائی سال مکمل تو کر لیے مگر اندرون ملک معیشت تو بہتر نہ ہو سکی صرف عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ ضرور بہتر ہوئی ہے جس کا سہرا بھی حقیقی طور پر فیلڈ مارشل کی کوششوں کو جاتا ہے جن کی قیادت میں پہلے پاک فوج نے اور بعد میں فوجی سربراہ کی سفارتی کامیابی کو جاتا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام ایک بار پھر گونج اٹھا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ڈھائی سال قبل غیر سیاسی وزیر خزانہ لانے کا تجربہ کیا تھا ، شاید وہ فیصلہ بھی عوام اور خاص کر غریبوں کے لیے نقصان دہ ہی ثابت ہوا ہے اور قوم کو مایوسی اور غریبوں کو صرف مہنگائی اور غیر اعلانیہ جبری ٹیکس ہی ملے ہیں جن کی وصولی کا خیال ماضی میں کسی حکومت کو نہیں آیا تھا اور یہ جبری ٹیکس فکسڈ چارجز کی شکل میں گیس کے بعد بجلی کے بلوں پر عائد کرکے بجلی بھی گیس کی طرح اتنی مہنگی کر دی گئی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی جب کہ حکومت لیوی کی شکل میں بلاتفریق عوام سے پٹرولیم مصنوعات کے ذریعے وصول کرتی آ رہی ہے اور لوگ جتنا زیادہ پٹرول و ڈیزل خریدتے ہیں ،ان سے اسی لحاظ سے لیوی حکومت کو مل جاتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی سیلاب کی تباہیوں کے نقصان کے باعث عائد ہوئی تھی مگر 2022 کے بعد سیلاب نہیں آئے مگر لیوی کی آفت 2026 میں بھی نہ صرف مسلط ہے بلکہ اس حکومت نے لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی زیادہ بڑھا رکھی ہے جس سے حکومتی آمدنی بڑھنے کا بھی نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ غیر مسلم ممالک بھی قدرتی آفات اور جنگوں میں اپنے عوام کو سہولیات دیتے ہیں مگر ہمارے ہاں جنگوں کو بھی کمائی کا بڑا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات گیس و بجلی کے نرخ حکومت کے کنٹرول میں ہیں جو حکومت کی آمدنی مسلسل بڑھا رہے ہیں مگر حکومت یہ تینوں اشیا بہت زیادہ مہنگی کرکے بھی مطمئن نہیں۔ حکومت نے گیس کے بعد چند ماہ قبل بجلی کے بلوں پر فکسڈ چارجز عائد کیے تھے جن کی وصولی کا کوئی طریقہ اور اصول نہیں بنایا گیا جس کے بعد کے الیکٹرک نے فکسڈ چارجز کا اپنا ہی طریقہ ایجاد کیا ہے۔ کے الیکٹرک کے صارفین کو لوٹنے کی ایک واضح مثال جون کے بل ہیں جن میں میٹر تبدیلی سے صرف 23 یونٹ استعمال کرنے والے صارف پر فکسڈ چارجز 970 روپے، 133 یونٹ استعمال کرنے پر 900 روپے اور چار سو سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارف پر پندرہ سو روپے فکسڈ چارجز مسلط کیے ہیں جب کہ ایس فی اے کے نام پر اپریل کی رقم جون کے بلوں میں شامل کی ہے۔ ایف سی اے کو لوگ کے الیکٹرک دفاتر کے فرنیچر کا ٹیکس قرار دے رہے ہیں جب کہ دیگر ٹیکس اور ڈیوٹی الگ ہے جو صرف 23 یونٹ کے بل پر 264.46 روپے بھی شامل ہے۔

ان تینوں اشیا پر عوام کسی اصول کے بغیر لوٹے جا رہے ہیں مگر جنھیں یہ تینوں اشیا مفت اور وافر مقدار میں مل رہی ہیں انھیں غریبوں پر اس جبر کی کوئی فکر نہیں ہے۔