کراچی سینٹرل جیل میں گزشتہ دو ماہ سے خواتین قیدیوں کی ملاقات پر پابندی عائد ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خدشہ کے پیش نظر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں پہلی دفعہ National Judicial Policy Making Committee (NJPMC) کے تحت جیلوں میں اصلاحات کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزیر قانون نے جیلوں میں اصلاحات پر زور دیا اور ایک اعلامیہ میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا گیا مگر کراچی جیل میں بند خواتین قیدیوں کی اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے کسی تدبیر پر غور نہ ہوا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ جیلوں کے نظام میں تبدیلی کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں، تاہم اس کانفرنس میں فراہم کردہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے دگنا سے زیادہ قیدی ہیں اور ان قیدیوں میں زیر سماعت مقدمات میں ملوث ملزمان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے والی غیر سرکاری تنظیم Human Rights Commission (HRC) کی سالانہ رپورٹ میں ملک بھر کی جیلوں میں غیر انسانی ماحول پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پورے ملک کی جیلوں میں 65,550 قیدیوں کی گنجائش ہے مگر قیدیوں کی تعداد 110,402 ہے۔ اس طرح جیلوں میں قیدیوں کے ہجوم کی شرح 171 فیصد ہے۔ ایچ آر سی کے ماہرین کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں 2024 کے مقابلے میں 228 فیصد کم ہوئی ہے۔
پنجاب کے جیل خانہ جات کے محکمہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے کی 45 جیلوں میں 38,980 قیدیوں کی گنجائش ہے مگر پنجاب میں قیدیوں کی تعداد 70,994 ہے۔ ان جیلوں میں 328 خواتین اپنے بچوں کے ساتھ مقید ہیں۔ غیر ملکی قیدیوں کی تعداد 1077ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں 1344 سزائے موت کے قیدی ہیں اور پنجاب کی جیلوں میں 81 قیدی ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔
پنجاب کی 23 جیلوں میں HIV مرض میں مبتلا 645 قیدی بھی ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ان مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ 148 ہے۔ اس کیمپ جیل لاہور میں 83 اور کوٹ لکھپت جیل اور گوجرانوالہ میں 22,27 قیدی ہیں۔ اسی طرح سندھ کی23 جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش 14,188 کی ہے جب کہ 25,809 قیدی سندھ کی جیلوں میں نظربند ہیں۔ سندھ کی جیلوں میں 80 خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ نظربند ہیں۔ سندھ کی جیلوں میں گزشتہ سال خودکشی کا ایک ہی کیس ہوا تھا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیدیوں کی شکایت پر جیل کے عملہ کے 42 افراد کے خلاف کارروائی ہوئی۔
2025 میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد ملیر جیل میں افراتفری پیدا ہونے کی بناء پر جیل کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئی تھیں جس کی بناء پر 225 قیدی فرار ہوگئے تھے۔ پولیس ان میں سے 44قیدیوں کو اب بھی تلاش کررہی ہے۔ ان میں سے کچھ قیدی رضاکارانہ طور پر پیش ہوئے۔ ایک قیدی کو اس کی ماں کئی میل پیدل چل کر جیل لے آئی۔ باقی کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔ بدین جیل سے ایک 30 سالہ ملزم محمد یونس کو تشویش ناک حالات میں حیدرآباد کے سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ انتقال کرگیا۔ اس واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر دو وڈیوز وائرل ہوئی ہیں۔
ان میں سے ایک میں الزام لگایا گیا تھا کہ محمدیونس جیل عملے کے تشدد سے ہلاک ہوا۔ دوسری وڈیو میں کہا گیا تھا کہ ملزم کی موت پیٹ میں درد کی بناء پر ہوئی تھی۔ سندھ کی جیلوں میں گزشتہ سال کسی قیدی کو پھانسی نہیں دی گئی مگر مختلف عدالتوں نے کئی ملزمان کو موت کی سزائیں دی تھیں۔ اسی طرح خیبرپختون خوا کی 39جیلوں میں 11,382 قیدی مقید ہیں جب کہ جیلوں میں گنجائش 13599قیدیوں کی ہے۔ ان قیدیوں میں سے 153 قیدی دماغی امراض میں مبتلا ہیں اور دو قیدیوں نے خودکشی کی ہے۔ کے پی کی جیلوں میں 325 سزائے موت کے قیدی ہیں۔ ان میں 2 عورتیں اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی بناء پر جیلوں میں سیکیورٹی کا سخت نظام نافذ ہے۔
گزشتہ سال مسلح افراد نے گڈانی جیل پر حملہ کرنے والے 10 ملزمان کو رہا کرالیا تھا۔ اسی طرح گلگت بلتستان کی 5 جیلوں میں 341 قیدی تھے جن میں سے 215 زیر ِ سماعت مقدمات میں ملوث تھے، 41 سزائے موت کے قیدی تھے۔ گلگت کی صرف ایک جیل میں قیدیوں کی گنجائش 177 ہے جب کہ اس جیل میں 220 قیدیوں کو نظربند رکھا گیا ہے۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 150 ہے۔ پاکستان کی جیلوں میں زیر سماعت قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوںکا کہنا ہے کہ پولیس کے تفتیش کے ناقص نظام اور عدالتی نظام کی خرابیوں کی بناء پر چھوٹے چھوٹے الزامات میں ملوث ملزمان برسوں جیلوں میں مقید رہتے ہیں، اگر ہر ڈسٹرکٹ سیشن جج ایک مہینے میں ضرور 24 گھنٹے ایک جیل میں گزارے اور چھوٹے مقدمات میں ملوث ملزمان کو معمولی جرمانہ یا چند دنوں کی قید کے بعد رہا کردیا جائے تو قیدیوں کی تعداد کم ہوسکتی ہے۔
ایک صوبے کے ہائی کورٹ کے جج صاحبان ہر ماہ ایک جیل میں 24 گھنٹے گزاریں تو بہت سے ناکردہ جرائم کے الزام میں ملوث قیدیوں کو انصاف مل سکتا ہے۔ کراچی جیل کا دورہ کرنے والے ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ کراچی جیل میں قیدیوں کی اکثریت جلدی امراض میں مبتلا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل کی ہر بیرک میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے جاتے ہیں اور یہ قیدی زمین پر اس طرح سوتے ہیں کہ ایک قیدی سے دوسرے قیدی کے درمیان فاصلہ برقرار نہیں رہتا، یہی وجہ ہے کہ جیل کے ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود قیدیوں میں جلدی امراض ختم نہیں ہوپارہے، ایسی صورتحال میں جیل کا عملہ فائدہ اٹھاتا ہے ۔ جو قیدی بھاری نذرانہ کا بندوبست کرتا ہے اس کو سونے کے لیے اچھی جگہ دی جاتی ہے۔ جیل میں فراہم کی جانے والی غذا کی بناء پر بھی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
سندھ کی مختلف جیلوں میں 5سال گزارنے والے سینئر صحافی جنھیں جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ضمیر کا قیدی قرار دیا تھا کا کہنا ہے کہ جیل کا سارا نظام رشوت کی بنیاد پر چلتا ہے اور جیل کے عملے کی اس طرح تربیت کی جاتی ہے کہ اس کا بنیادی فریضہ ہی قیدی کی عزت نفس کو پامال کرنا ہوتا ہے، یوں قیدی تشدد سے بچنے کے لیے ہر ماہ بھاری رقم جیل کے عملہ کو پیش کرتا ہے۔ جیل میں قیدیوں سے انٹرویو لینے والے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ بچوں کو ہر صورت جیل کے بجائے کسی ہاسٹل میں رکھا جائے جہاں اساتذہ اور ماہر ِ نفسیات ان بچوں کی نگرانی کریں۔ اسی طرح ان تمام خواتین کو پے رول پر رہا کردیا جائے جو اپنے بچوں کے ساتھ جیلوں میں قید ہیں۔ ان کے بچوں کو والدین کے جرائم کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔
سپریم کورٹ کی طلب کردہ کانفرنس میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس صورتحال کا ذکر کیا جب وہ اڈیالہ جیل میں نظربند تھیں۔ مریم نواز کے بیان کردہ مشاہدہ کے تحت پنجاب کی جیلوں کو اچھی تربیت گاہوں میں تبدیل کرنے کا شروع ہونا چاہیے۔ اس وقت عجیب اتفاق ہے کہ ملک کے وزیر اعظم، صدر پاکستان اور دو سابق وزرائے اعظم جیل کی سختیوں کو برداشت کرچکے ہیں اور خاص طور پر صدر آصف علی زرداری نے 8سال تک ملک کی بڑی جیلوں کی کھولیوں میں وقت گزارا ہے۔ صدر آصف زرداری جب کراچی لانڈھی جیل میں نظربند تھے تو انھوں نے قیدیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کئی منصوبے مکمل کیے تھے۔ انھیں ایک عدالتی کمیشن قائم کرنا چاہیے جو جیلوں کے لیے ایسی اصلاحات تجویز کرے کہ پاکستان کی جیلیں جرائم کی آماجگاہوں اور مظلوموں کو سزائیں دینے کے کارخانوں کے بجائے انصاف گھروں اور تربیت گاہوں میں تبدیل ہوجائیں۔