پٹرول کی عالمی قیمت میں اضافہ

ہرمز میں پھر امریکا اور ایران کی جنگ چھڑ گئی ہے اور پٹرول کی عالمی قیمتیں 3 فی صد کے حساب سے روزانہ بڑھ رہی ہیں۔



ہرمز میں پھر امریکا اور ایران کی جنگ چھڑ گئی ہے اور پٹرول کی عالمی قیمتیں 3 فی صد کے حساب سے روزانہ بڑھ رہی ہیں۔ چند دن قبل تک قیمتیں کم ہو رہی تھیں اور ہم نے اب تیل کو ایک غریب موٹرسائیکل پر پھیری لگانے والے کو یہ کہہ کر کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہو گیا لہٰذا پٹرول 13 روپے مہنگا ہو کر 310 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے اب اس کا بجٹ قلیل ہو گیا ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کا قحط نہیں ہے، دنیا میں تیل موجود ہے، سمندروں میں تیر رہا ہے، ریگستانوں کے نیچے سو رہا ہے، مگر آبنائے ہرمز کی آگ پاکستان تک پہنچ گئی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اب اضافے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ دنیا میں اس وقت 3 فی صد کی شرح سے زیادہ یا کم پر تیل کی قیمتیں طے ہو رہی ہیں۔ 14 جولائی کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 2.77فی صد اضافے کے بعد 85.91 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہیں۔ جب کہ WTI خام تیل کی قیمت 2.93 فی صد اضافے کے بعد 80.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔

آبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ دنیا بھر میں خام تیل کی بلاتعطل ترسیل کے لیے سب سے اہم اور حساس ترین تجارتی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اپنا درآمدی تیل اسی راستے سے منگواتا ہے۔ جولائی تا مئی 2026 کے دستیاب پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق ان 11 ماہ میں 14 ارب 95 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کی گئی تھی، اگر آبنائے ہرمز میں اسی طرح جنگ جاری رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ایسے میں غریب عوام کے بجٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کا رواں مالی سال کا بجٹ بھی پھنس کر رہ جائے گا۔

ہمیں ایک موقع ملا تھا 2020 میں جب تیل کبھی 25 ڈالر فی بیرل کے آس پاس تھا۔ دنیا نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا، چین نے تیل کا ذخیرہ کر لیا۔ بھارت نے بھی اپنے ذخائر بڑھا لیے، یورپ نے 90 دن کا لازمی ذخیرہ قانون بنا دیا اور پاکستان کے پاس صرف 18 تا 20 دن ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ دنیا 90 دن کے اصول پر چلتی رہی ہے اور ہم نے اس سے بھی 5 گنا کم 18 دن کا اصول اب تک اپنا رکھا ہے۔ 2020 کی حکومت اور بعد میں آنے والی حکومت کو چاہیے تھا کہ اپنی 18 دن والی گنجائش کو کم از کم دگنا کر لیتی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ امن کے دنوں میں پاکستان 4 ڈالر سے 6 ڈالر فی بیرل پریمیم دیتا رہا ہے اب 34 ڈالر فی بیرل سے بھی آگے جانے والا ہے۔

پاکستان کے لیے 2020 کے مقابلے میں اب 2026 میں تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ایک مجبوری بن گئی ہے۔ آج 85 ڈالر ہے، ممکن ہے 100 ڈالر سے بھی اوپر چلا جائے۔ ابھی سے حل تلاش کریں۔ کم از کم موٹرسائیکل والوں، رکشہ والوں اور ٹیکسی چلانے والوں اور سوزوکی یا وین چلانے والے ٹرک پر اجناس لے جانے والوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دیں، لگژری گاڑیوں کے لیے 40 روپے مہنگا تیل فراہم کریں، آخر غریب عام مزدور ملک کی خاطر اتنی قربانیاں دے رہا ہے تو ان کے لیے 40 یا 50روپے کچھ زیادہ بالکل نہیں۔ آئی ایم ایف کا ٹارگٹڈ سبسڈی پر بھی اتفاق ہے۔

گوادر میں جو ریفائنری بنانے کی بات ہوئی تھی، اس پراجیکٹ کو دوبارہ شروع کرنے کا جائزہ لیں اور ایران سے بارٹر سسٹم کے تحت مال کے بدلے تیل لیں۔ اس پر شاید کچھ قوانین نافذ نہ ہوں۔ آخر چند ممالک ایسے ہیں جوکہ ایران سے تیل خرید رہے ہیں، پاکستان تو ایران کا پڑوسی ملک ہے۔ 1947 سے اگر اسی جانب توجہ دیتے تو گیس پائپ لائن کے ساتھ پٹرول لانے کی پائپ لائن بھی بچھ چکی ہوتی۔ ہماری برآمدات بھی دگنی تگنی ہو چکی ہوتیں اور اس وقت ہم جس طرح سے آئی ایم ایف کے محتاج ہیں کم از کم یہ محتاجگی تو نہ ہوتی۔ اپنی ریفائنریوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کریں۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں 40 فی صد پٹرول کی کھپت موٹرسائیکلوں کی ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ مبالغہ آرائی ہو، البتہ دیگر ٹرانسپورٹ جیسے بس، ویگن، سامان لے جانے والے ٹرک سوزوکی وغیرہ کو شامل کرکے یہ 50 فی صد بھی ہو سکتا ہے۔ ان سب کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے تاکہ ان لوگوں کا ماہانہ بجٹ جوکہ فیل ہو چکا ہے اس کو کچھ سہارا مل جائے۔ ہو سکتا ہے کہ پچھلے مالی سال پٹرول کی درآمد کا حجم 17 ارب سے بھی اوپر ہو اور اس میں موجودہ مالی سال میں مزید اضافے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تو اس صورت میں ملکی بجٹ پر بھی زد پڑنے کے ساتھ عوام کا ماہانہ بجٹ تو اس وقت فیل ہو چکا جسے فوری سہارا دینے کی ضرورت ہے۔