لاہور کے میو اسپتال میں بد عنوانی کے معاملے پر آڈٹ رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دل کے مریضوں کو اسٹنٹس ڈالنے کے بجائے چوری کیے گئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میو اسپتال لاہور کے کیتھ لیب میں دو کروڑ 23 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے کارڈیک اسٹنٹس اور بیلونز کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض پرانے مریضوں کے رجسٹریشن نمبرز اور اسٹکرز استعمال کرکے ریکارڈ ایڈجسٹ کیا گیا، 232 اسٹنٹس اور ایک ہزار 59 کارڈیک بیلونز کا ریکارڈ مریضوں کے علاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔
میو اسپتال میں بدعنوانی کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مریضوں کی فائلوں، ایم آر نمبرز اور علاج کے ریکارڈ سے استعمال شدہ طبی آلات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
کیتھ لیب کے اسٹور ریکارڈ اور ڈاکٹروں کی پروسیجر رپورٹس میں واضح تضادات پر آڈٹ رپورٹ میں اس معاملے پر تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھاری مالیت کے کارڈیک آلات کے ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل، آڈٹ نے ممکنہ خردبرد، فراڈ اور غیر مجاز استعمال کا خدشہ ہے۔
میواسپتال کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ شعبہ امراض قلب کے سربراہ کی قیادت میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے اور رپورٹ مکمل ہونے پر آڈٹ کو آگاہ کیا جائے گا۔
آڈٹ رپورٹ میں ذمہ داروں کے تعین، تفصیلی انکوائری اور قومی خزانے کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کی وصولی کی سفارش کر دی گئی ہے۔