برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک نئی تحقیق میں سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے جنسی استحصال نیٹ ورک سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ایک متاثرہ خاتون نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جیفری ایپسٹن نے خواتین کو نفسیاتی دباؤ، مالی انحصار، دھونس، جنسی استحصال اور مسلسل نگرانی کے ذریعے اس طرح قابو میں رکھا جیسے وہ کسی کلٹ کا سربراہ ہو۔
خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کئی برس تک نیویارک میں ایپسٹن کی جانب سے فراہم کیے گئے ایک اپارٹمنٹ میں رہیں جہاں وہ ان خواتین میں شامل تھیں جنھیں ’’اسسٹنٹس‘‘ کہا جاتا تھا مگر حقیقت میں انھیں ہر وقت ایپسٹن کی خدمت پر مامور رکھا جاتا اور بارہا جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
ماڈلنگ کے خواب دکھا کر جال میں پھنسایا گیا
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ پیرس میں ایک ماڈلنگ ایجنسی کے ماڈلنگ اسکاؤٹ نے انھیں جیفری ایپسٹین سے ملوایا تھا۔ جس میں مجھے سبز باغ دکھائے گئے۔
خاتون نے مزید بتایا کہ ملاقات میں جیفری ایپسٹن نے فیشن انڈسٹری میں کامیابی، اہم شخصیات سے ملاقات اور بہتر مستقبل کے وعدے کیے لیکن بعد میں یہی وعدے مجھے اپنے قابو میں رکھنے کا ذریعہ بن گئے۔
انھوں نے بتایا کہ جیفری ایپسٹین نے ابتدا میں میرا اعتماد حاصل کیا، میری ذاتی زندگی، خاندان اور خواہشات کے بارے میں تفصیل سے معلومات لیں اور پھر انھی کمزوریوں کو میرے خلاف استعمال کیا۔
مالی، نفسیاتی اور جسمانی کنٹرول
متاثرہ خاتون کے بقول جیفری ایپسٹن میری مالی ضروریات، رہائش، سفری دستاویزات، علاج اور روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو کنٹرول کرتا تھا۔ مجھے اپنی مرضی سے کہیں جانے کی اجازت نہیں تھی اور معمولی بات پر بھی سخت ڈانٹ ڈپٹ اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
خاتون نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جیفری ایپسٹن نے انھیں ایک معمولی ٹیٹو ہٹانے کے لیے غیر ضروری سرجری کروانے پر بھی مجبور کیا جس کے باعث ان کے جسم پر مستقل نشانات رہ گئے۔
دیگر خواتین کو بھرتی کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جیفری ایپسٹن اپنی معاون خواتین کو نئی لڑکیاں لانے پر بھی مجبور کرتا تھا۔ ہر خاتون کو کم از کم ایک نئی خاتون کو اس نیٹ ورک میں شامل کرنے کا کہا جاتا تھا جس پر آج بھی شدید ندامت ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ایپسٹن خواتین کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بھی محفوظ رکھتا تھا اور انھیں خوف دلاتا تھا کہ اگر اس کے خلاف آواز اٹھائی تو یہ مواد ان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور متاثرہ خاتون کی بھی تصدیق
جیفری ایپسٹین کی سابق معاون سارہ کیلن نے بھی رواں سال امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایپسٹن نے ان کی خود مختاری ختم کر دی تھی اور وہ انھیں مکمل طور پر اپنے اوپر منحصر بنا دیتا تھا۔
ان کے بقول جیفری ایپسٹن اس قدر طاقتور اور بااثر دکھائی دیتا تھا کہ اس کی مخالفت کرنے کا تصور بھی خوفناک محسوس ہوتا تھا۔
بالغ افراد بھی ’’گرومنگ‘‘ کا شکار ہو سکتے ہیں
کلینیکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر تارا کوئن-سیریلو نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ صرف بچے ہی نہیں بلکہ بالغ افراد بھی نفسیاتی گرومنگ اور جبری کنٹرول کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ان کے بقول ایسے افراد بتدریج اپنے شکار کا اعتماد حاصل کرتے ہیں انھیں تنہا کرتے ہیں اور پھر ان پر مکمل کنٹرول قائم کرلیتے ہیں۔
جیفری ایپسٹن کو کم عمر لڑکیوں اور خواتین کی جنسی اسمگلنگ سمیت متعدد سنگین الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل شروع ہونے سے قبل مردہ پائے گئے تھے۔
پولیس حکام نے جیفری ایپسٹن کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس معاملے پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیر بحث رہتے ہیں۔
بی بی سی کی تحقیق میں شامل متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد اپنی داستان سامنے لا کر دنیا کو یہ سمجھانا ہے کہ طاقت، دولت اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کس طرح نفسیاتی حربوں کے ذریعے بالغ خواتین کو بھی اپنے شکنجے میں جکڑ سکتے ہیں۔