جنگ کے بھڑکتے شعلے، امن کی معدوم ہوتی امید

اس جنگ کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس کے دائرہ اثر میں مسلسل وسعت آ رہی ہے۔


ایڈیٹوریل July 20, 2026
ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

دنیا کی سیاسی تاریخ بارہا اس حقیقت کی گواہ رہی ہے کہ جنگ کا آغاز کرنا نسبتاً آسان، مگر اس کا انجام اپنے اختیار میں رکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ جب بڑی طاقتیں اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے بجائے عسکری قوت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو اس کی قیمت صرف محاذ پر موجود فوجی نہیں چکاتے بلکہ پورا خطہ، عالمی معیشت اور عام انسان اس کے اثرات کی زد میں آ جاتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بھڑکنے والی جنگ کو آٹھ روز گزر چکے ہیں اور اس مختصر مدت میں جو منظرنامہ سامنے آیا ہے، وہ اس اندیشے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ اگر اس تصادم کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے نتائج مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی رسد اور بین الاقوامی امن سبھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔

اس جنگ کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس کے دائرہ اثر میں مسلسل وسعت آ رہی ہے۔ ایران کے مختلف شہروں، عسکری مراکز، بنیادی ڈھانچے، بجلی گھروں، پلوں، سرنگوں اور بندرگاہوں پر حملوں کی اطلاعات ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں جنگ صرف عسکری اہداف تک محدود نہیں رہی۔ دوسری طرف ایران بھی اپنی جوابی حکمت عملی کو وسعت دیتے ہوئے خطے میں موجود امریکی مفادات اور اتحادی ممالک میں واقع فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کر رہا ہے۔

جب ایک تنازع سرحدوں سے نکل کر پورے خطے میں پھیلنے لگے تو اس کے بعد حالات کو قابو میں لانا ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکا کے لیے بھی یہ صورت حال کسی آسان امتحان سے کم نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان اور عراق کی جنگوں نے واشنگٹن کو یہ سبق ضرور دیا تھا کہ عسکری برتری ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔ بے پناہ مالی وسائل خرچ کرنے، جدید ترین ہتھیار استعمال کرنے اور حکومتیں تبدیل کر دینے کے باوجود نہ تو دیرپا امن قائم ہو سکا اور نہ ہی خطے میں استحکام پیدا ہوا۔ انھی تلخ تجربات نے امریکی پالیسی سازوں کو ’’لامتناہی جنگ‘‘کے تصور سے متعارف کرایا، مگر موجودہ صورت حال کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کے اس سبق کو ایک بار پھر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ ایران پر حالیہ حملوں میں اسرائیل کے تحفظات اور خواہشات کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کی اسرائیلی حکمت عملی کسی سے پوشیدہ نہیں، جب کہ امریکا ہمیشہ اپنے اہم اتحادی کے تحفظات کو خارجہ پالیسی میں نمایاں مقام دیتا آیا ہے۔ تاہم کسی بھی بڑی طاقت کے لیے یہ سوال ہمیشہ اہم رہتا ہے کہ آیا کسی اتحادی کے مفادات کے تحفظ کے لیے پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دینا طویل المدت طور پر خود اس کے مفاد میں بھی ہے یا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں امریکی پالیسی کی سمت متعین کرے گا۔ایران کی داخلی ساخت کو سمجھے بغیر اس تنازع کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔ وہاں اگرچہ مذہبی اور سیاسی قیادت ریاستی نظام کا اہم ستون ہے، لیکن پاسدارانِ انقلاب محض ایک فوجی ادارہ نہیں بلکہ وہ دفاع، سلامتی، معیشت اور علاقائی حکمت عملی میں بھی غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی حالات میں فیصلہ سازی کا مرکز بھی بڑی حد تک اسی ادارے کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ جب کسی ریاست میں عسکری ادارے قومی سلامتی کے بیانیے کے بنیادی محرک بن جائیں تو پھر جنگ کے فیصلے بھی نسبتاً سخت اور غیر لچکدار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ موجودہ کشیدگی میں ایران کا طرزِ عمل اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی قیادت کے بیانات سے واضح ہے کہ تہران اس جنگ کو صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے خلاف چیلنج تصور کر رہا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کی جانب سے امریکا پر معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا الزام، امریکی وعدوں پر عدم اعتماد اور سخت جواب دینے کے اعلانات اسی سوچ کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جب کوئی ریاست یہ محسوس کرے کہ اس کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی حیثیت ختم ہو چکی ہے تو سفارتی اعتماد بھی تیزی سے تحلیل ہونے لگتا ہے۔ یہی اعتماد کسی بھی مذاکراتی عمل کی بنیاد ہوتا ہے،اور جب بنیاد ہی کمزور ہو جائے تو تنازع مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔

اسی تناظر میں ایران کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان بھی معمولی پیش رفت نہیں۔ اس فیصلے سے یہ پیغام ملتا ہے کہ تہران اب ان تمام انتظامات پر نظرثانی کر رہا ہے جنھیں وہ موجودہ حالات میں اپنے مفادات سے متصادم سمجھتا ہے، اگر معاہدوں کی معطلی کا یہ سلسلہ بڑھتا گیا تو نہ صرف خطے میں سفارتی روابط متاثر ہوں گے بلکہ اعتماد سازی کی وہ محدود کوششیں بھی ناکام ہو جائیں گی جن کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی امید باقی تھی۔جنگ کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

دنیا کی توانائی کی فراہمی کا بڑا حصہ اسی اہم بحری گزرگاہ سے وابستہ ہے۔ ایران کی جانب سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر سخت مؤقف، مخصوص راستوں کی پابندی اور تیل و گیس کی ترسیل روکنے کی دھمکی صرف علاقائی بیان بازی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے براہِ راست خطرے کی علامت ہے، اگر اس گزرگاہ میں مستقل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، بحری تجارت میں تعطل اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی ناگزیر ہو جائے گی۔ اس کے اثرات ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ ترقی پذیر معیشتوں پر مرتب ہوں گے، جہاں پہلے ہی مہنگائی اور مالی دباؤ عوام کی زندگی دشوار بنائے ہوئے ہیں۔خلیجی ممالک کی تشویش بھی اسی پس منظر میں قابلِ فہم ہے۔ کویت، بحرین اور اردن میں پیش آنے والے واقعات نے اس خدشے کو حقیقت کا رنگ دیا ہے کہ جنگ اب صرف ایران اور امریکا کے درمیان محدود نہیں رہی، اگر خطے کے دوسرے ممالک بھی براہِ راست اس کی زد میں آتے رہے تو پورا مشرق وسطیٰ ایک وسیع عسکری محاذ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کئی عرب ریاستیں ایک طرف اپنی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں اور دوسری جانب حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔روس سمیت دیگر بڑی طاقتوں کی سرگرمیاں بھی اس بحران کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ عالمی سیاست میں ہر بڑا تنازع صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ بڑی طاقتوں کے مفادات، تجارتی راستے، دفاعی شراکتیں اور سفارتی توازن بھی جڑ جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ مختلف ممالک مسلسل رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ جنگ کسی ایسے مرحلے میں داخل نہ ہو جائے جہاں واپسی کا راستہ باقی نہ رہے۔ تاہم سفارت کاری اسی وقت موثر ثابت ہوتی ہے جب تمام فریق کم از کم بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے پر آمادہ ہوں۔ایرانی عسکری قیادت کی جانب سے یہ کہنا کہ جنگ اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، دراصل موجودہ بحران کی سب سے بڑی پیچیدگی کو سامنے لاتا ہے۔

ایک طرف میدانِ جنگ گرم ہے اور دوسری طرف سفارتی راستے مسلسل تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ زیادہ تر جنگیں بالآخر مذاکرات ہی پر ختم ہوتی ہیں، مگر اگر گفت و شنید کا دروازہ مکمل طور پر بند کر دیا جائے تو پھر تصادم کا دورانیہ بھی طویل ہوتا ہے اور اس کی قیمت بھی کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اس ساری صورت حال میں اقوامِ متحدہ کا کردار بھی کڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ عالمی ادارے کا بنیادی مقصد ہی تنازعات کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا اور جنگ چھڑ جانے کی صورت میں فوری جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے، اگر بڑی طاقتیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی قانون کو خاطر میں نہ لائیں تو پھر عالمی نظام کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ بحران ایک مرتبہ پھر اس سوال کو زندہ کر رہا ہے کہ کیا موجودہ عالمی ادارے بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم روکنے کی حقیقی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے سیاسی بصیرت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عسکری کارروائیاں شاید وقتی برتری دلا دیں، مگر پائیدار امن صرف اعتماد، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ ایران کو بھی اپنی مزاحمت کے حق کے ساتھ یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی ہوگی کہ ایک وسیع علاقائی جنگ کے نتائج کسی ایک ملک کے قابو میں نہیں رہتے، اگر دونوں فریق اپنی موجودہ حکمت عملی پر قائم رہیں تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا ایک نئے سیاسی، معاشی اور انسانی بحران کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگی بیانات کی گونج کو سفارت کاری کی آواز سے بدل دیا جائے، کیونکہ جب بندوقیں بولنے لگتی ہیں تو دلیل خاموش ہو جاتی ہے، اور جب دلیل خاموش ہو جائے تو پھر فتح کسی کی بھی ہو، شکست پوری انسانیت کا مقدر بن جاتی ہے۔