چوتھا قید خانہ

علم عمرانیات معاشرے کے نظام کو بدل سکتا ہے۔ لیکن فرد کے اندرون کو پاک نہیں کر سکتا۔


زمرد نقوی July 20, 2026

لیکن یہاں ایک بہت ہی سنگین سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم پرانے سماجی ڈھانچے کو گرا کر ایک نیا ڈھانچہ کھڑا کر لیں تو کیا ہم ایک نیا قید خانہ تو نہیں بنا رہے۔ ہم نے سائنس کے ذریعے کائنات کو مسخر کر لیا۔ فلسفے سے تاریخ کو سمجھ لیا اور عمرانیات سے معاشرے کو بدل دیا۔

کیا ان تینوں بیرونی دیواروں کو گرانے کے بعد انسان واقعی مکمل طور پر آزاد ہو گیا ہے؟ یہیں پر آ کر اس کتاب کا سب سے مرکزی چونکا دینے والا اور سب سے گہرا فلسفہ سامنے آتا ہے۔ اس سوال کا سیدھا سا جواب ہے۔ نہیں۔ جب انسان کائنات، تاریخ اور معاشرے ان تینوں بیرونی دیواروں کو توڑ کر سامنے آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک چوتھے اور سب سے ہولناک قید خانے میں موجود ہے۔

چوتھا قید خانہ ؟ وہ ہے کیا؟ وہ چوتھا زندان کوئی بیرونی طاقت نہیں ہے۔ بلکہ وہ خود انسان کی اپنی ذات ہے ۔ اس کا اپنا نفس یا جسے ہم EGO کہتے ہیں۔ اپنی ذات ؟ یہ بات بظاہر ایک تضاد لگتی ہے۔ کوئی خود اپنا قید خانہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اور یہ سب سے خطرناک قید کیوں ہے؟ یہ سب سے خطرناک اس لیے ہے کہ کیونکہ اس قید خانے میں قیدی کو احساس اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ اس جیل کو اپنا گھر اور اپنی پہچان سمجھتا ہے۔ " اپنی ذات کا قید خانہ دراصل انسان کی اندرونی خواہشات ، اس کی انا ، لالچ ، ہوس اور نفسانی کمزوریاں ہیں"۔ تو ہم نے اپنے پہلے تین زندانوں کو توڑنے کے لیے جو زبردست ہتھیار استعمال کیے۔ سائنس ، تاریخ اور عمرانیات وہ اس چوتھے زندان کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہیں۔ انسان نے کائنات کا آغاز جان لیا اور بیماریوں کا علاج ڈھونڈ لیا ۔ مثلاً ایک شخص نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہو سکتا ہے اور اس نے اپنی ایجاد کو پیٹنٹ کرا لیا ہو۔ اربوں ڈالر کے منافع کے لیے کہ غریبوں کو مرنے دے۔ اگرچہ اس نے کائنات کو تو مسخر کر لیا لیکن وہ اپنی ہوس اور لالچ کا غلام نکلا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ڈاکٹر علی شریعتی اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔

ایک انسان جو ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے، جو معاشرے میں بڑے انقلاب لا چکا ہے۔ وہ محض اقتدار کی ہوس یا اپنی انا کی تسکین کیلیے کروڑوں انسانوں کا خون بہا سکتا ہے۔ یعنی ہٹلر اور اسٹالن جیسے لوگ جنہوں نے سماج کو تو بدلا مگر انا کے غلام نکلے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی انسان کو دنیاوی طاقت تو دے سکتے ہیں لیکن وہ اسے خود غرضی سے آزاد نہیں کر سکتے۔

علم عمرانیات معاشرے کے نظام کو بدل سکتا ہے۔ لیکن فرد کے اندرون کو پاک نہیں کر سکتا۔ اگر ہم اس پہلو کا تقابل جدید مغربی فلسفے سے کریں تو بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ مغربی فلسفیوں نے زیادہ تر توجہ بیرونی آزادیوں پر دی ہے۔ رینے ڈیکارٹ کا مشہور قول ہے کہ میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں۔ یا پھر وجودیت پسند مفکر البرٹ کامیو کا نظریہ کہ میں بغاوت کرتا ہوں اس لیے میں ہوں۔

اس کے نزدیک وجود اور آزادی کی انتہاء بیرونی حالات سے ٹکرانے میں ہے۔ لیکن شریعتی کے نزدیک یہ مغربی تعریف بالکل نا مکمل ہے۔ ان کے مطابق صرف سوچنا آزادی نہیں ہے اور محض بیرونی حالات سے بغاوت بھی حقیقی آزادی کی ضمانت نہیں دیتی۔ تو شریعتی کے نزدیک حقیقی آزادی ہے کیا؟ وہ کہتے ہیں کہ انسان کا حقیقی وجود اسی وقت بنتا ہے جب وہ اپنی ذات کی ان اندرونی حیوانی حدود انا کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ جب تک انسان اپنے اندر بیٹھے ہوئے غیر مرئی ڈکٹیٹر کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کرتا وہ حقیقی معنوں میں انسان نہیں بنتا بلکہ محض ایک ترقی یافتہ بشر ہی رہتا ہے۔

اگر دنیا کا اعلیٰ ترین علم جدید ترین ٹیکنالوجی اور زبردست سماجی فلسفے بھی ہمیں ہمارے اپنے نفس سے آزاد نہیں کرا سکتے تو پھر چوتھے اور خوفناک ترین قید خانے کی چابی آخر ہے کیا؟ کیا اس طلسم کو توڑنے کا کوئی طریقہ موجود ہے یا پھر ہم اندرونی طور پر ہمیشہ کے لیے غلام ہی رہیں گے۔ ڈاکٹر شریعتی اس کریہہ بے چینی کا حل اپنے پیش کردہ حتمی نظریے میں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے تین زندانوں کو توڑنے کا راستہ طبعی اور سماجی علم تھا۔ لیکن اس چوتھے زندان سے رہائی کا راستہ روایتی علم نہیں بلکہ عشق اور ایثار ہے۔ عام طور پر عشق کو ایک جذباتی رومانوی، غیر عقلی اصطلاح سمجھا جاتا ہے ۔ کوئی شخص محض قربانی دے کر یا ایثار کر کے اندرونی طور پر کیسے آزاد ہو سکتا ہے۔

اس لیے اس کا میکنزم جاننا واقعی بہت ضروری ہے۔ حیاتیاتی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اپنی بقاء یعنی Survival اور اپنے مفاد کا تحفظ زندگی کی سب سے بڑی شرط ہے۔ عام معنوں میں عشق سے مراد واقعی رومانوی جذبہ لیا جاتا ہے۔ لیکن شریعتی کے ہاں عشق سے مراد وہ عظیم اور غیر مشروط لگن ہے جو عقل اور ذاتی نفع و نقصان کے حساب کتاب سے بالا تر ہو۔ " یعنی وہ جذبہ جو آپ کو اپنی ذات سے بڑھ کر سوچنے پر مجبور کر دے۔ جب ایک انسان اپنے ذاتی مفادات، اپنی نفسانی خواہشات اور اپنی انا کسی عظیم تر مقصد ، کسی اعلیٰ سچائی یا انسانیت کی بھلائی کے لیے جان بوجھ کر قربان کر دیتا ہے تو دراصل وہ اپنی EGO پر فتح حاصل کر لیتا ہے۔