بدخشاں ، افغانستان کا معروف صوبہ ہے ۔ نقشہ دیکھیں تو دو اطراف سے اِس کی سرحدیں وسط ایشیا کے مشہور ملک، تاجکستان ، سے ملتی نظر آتی ہیں ۔ بدخشاں کا صوبائی دارالحکومت ’’فیض آباد‘‘ کہلاتا ہے ۔ سابق افغانی مزاحمتی لیڈر اور سابق افغان صدر، برہان الدین ربانی، بھی بدخشانی تھے ۔فیض آباد مرکزی دارالحکومت (کابل)سے 500کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے ۔ یوں اِس پر متشدد افغان طالبان حکام کی گرفت بھی قدرے کمزور سمجھی جاتی ہے ۔ بدخشاں پر مُلا ہبت اللہ اور مقتدر طالبان کی سختی ثمر آور ہو رہی ہے نہ بدخشانی عوام قابو میں آ رہے ہیں ۔
اگر یہ کہا جائے کہ بدخشاں کے پورے صوبے میںافغان طالبان حکومت کے خلاف بغاوت اور غدر کے مناظر سر اُٹھا رہے ہیں تو یہ کہنا شائد مبالغہ نہیں ہوگا ۔ تشدد پسند طالبان حکمران پہلے ہی شمالی اتحاد ( جس کے سربراہ مشہور ترین سابق افغان مزاحمتی لیڈر، احمد شاہ مسعود مرحوم، کے صاحبزادے ہیں) سے خائف اور پریشان تھے ، اب بدخشاں کی تازہ صورتحال نے کابل کو مزید پریشانیوں میں مبتلا کررکھا ہے ۔ افغان مقتدر طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کی سرگرمیوں کا مرکز اگر وادیِ پنج شیر ہے تو طالبان کے خلاف سر اُٹھانے والے باغی بدخشانیوں کا مرکز ’’درویز‘‘ بنا ہُوا ہے ۔
بدخشاں میں متشدد و غاصب افغان طالبان حکام کے خلاف بغاوت اور خود مختاری کا پرچم اُٹھانے والے افغان جنگجو کا نام ’’جمعہ خان فتح‘‘ ہے۔ اِس افغان نوجوان کی عمر 45سال بتائی جاتی ہے۔جمعہ خان بدخشاں کے انتہائی غریب خاندان میں پیدا ہُوا ۔ مبینہ طور پر میٹرک تک تعلیم حاصل کی ۔ ابتدا میں روزی روزگار کے لیے اپنے غریب کسان والد کے ساتھ کاشتکاری کرتا رہا ۔ پھر بدخشاں صوبے میں اپنے آبائی شہر ’’درویز‘‘ میں معمولی سی دکانداری بھی کی ۔ پھر ایک سرکاری اسکول میں ’’ٹیچر‘‘ کے فرائض بھی انجام دیئے ۔ اِسی دوران اس پر تہمت لگی کہ اُس نے اسکول ٹیچرز کی تنخواہیں غبن کر لی ہیں ۔ پکڑ دھکڑ ہُوئی تو وہ پہاڑوں میں جا چھپا ۔ یہ موجودہ طالبان حکومت سے قبل سابق افغان حکومتوں کی بات ہے ۔پہاڑوں میں پناہ گیری کے دوران ہی جمعہ خان کا رابطہ افغان طالبان کے جنگجوؤں سے ہُوا ۔ وہ پہاڑوں سے اُتر کر عسکری اور چھاپہ مار تربیت کے لیے (اُس وقت کے )باغی طالبان کے پاس چلا گیا ۔ یہیں سے سینئر افغان طالبان سے اُس کے مراسم اور قربتیں پیدا ہُوئیں جنہوں نے آگے چل کر اپنے رنگ دکھانے تھے ۔
طالبان2021ء میں( قابض امریکیوں کے انخلا کے بعد) باقاعدہ افغانستان پر قابض ہُوئے تو اُنہوں نے جمعہ خان کو بدخشاں کے چار اضلاع کا کمانڈر مقرر کر دیا ۔ رفتہ رفتہ جمعہ خان نے اپنے اقتدار ، عہدے اور اثرورسوخ کے دائرے کو وسعت دی ۔اِسی بِنا پر وہ اپنے نام کے ساتھ ’’فتح‘‘ یا’’فاتح‘‘ کا لاحقہ بھی لگانے لگا جو اَب اس کے نام کا جزوِ ناگزیر بن چکا ہے ۔ اپنے زیر کنٹرول علاقے میں اپنا ’’ٹہکا‘‘ قائم کیا تو کابل و قندھار کی طالبان قیادت کا اِس پر اعتبار واعتماد مزید بڑھا۔ حتیٰ کہ مُلّا ہبت اللہ ( نام نہاد امارتِ اسلامیہ افغانستان) کے ’’ امیر‘‘ بنے تو اُنہوں نے بھی جمعہ خان فتح کے ہاتھوں کو بدخشاں میں استحکام بخشا۔بدلے میں جمعہ خان فتح نے بدخشاں میں کابلی و قندھاری افغان طالبان کی رِٹ مضبوط کرنے کے لیے مقامی سطح پر نہائت سختی اور تشدد برتنا شروع کر دیا ۔ اُنہوں نے ایک بدخشانی ( جس نے مُلا ہبت اللہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے کی جسارت کی تھی) کو سزائے موت دے کر سرِ عام سر قلم کر دیا ۔ ساتھ ہی اعلان کیا: ’’میرا باپ اور بھائی بھی طالبان قیادت و حکومت کے خلاف سر اُٹھائے گا یا بغاوت کرے گا تو اُس کا سر بھی خود مَیں قلم کروں گا۔‘‘ اِس خونریز اقدام و دہشت انگیز اعلان نے طالبان حکومت کو خوش و مطمئن کیا ہی، بدخشانی عوام بھی جمعہ خان فتح سے ڈرنے لگے ۔ اِس ڈر، خوف اور دہشت سے جمعہ خان نے یہ فائدہ اُٹھایا کہ اپنی نجی دولت ، جدید ترین گاڑیوں اور اپنے ذاتی و وفادار مسلح گروہوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا ۔
کابل و قندھار مگرصرف خاموش ہی نہ رہے بلکہ طالبان قیادت نے جمعہ خان فتح کو بدخشاں کی قیمتی ترین معدنیات کی حامل کانوں کا ذمے دار بھی بنا دیا اور ڈپٹی گورنر بھی ۔مذکورہ کانوں میں ’’درویز‘‘ کی سونے کی کانیں بے حد مشہور اور قیمتی ترین ہیں ۔ یہیں سے طالبان حکومت اور جمعہ خان فتح میں پھڈے شروع ہُوئے ۔ کابل و قندھار کی طالبان قیادت اور جمعہ خان فتح میں باقاعدہ تصادم کی کئی خونریز جھڑپیں ہو چکی ہیں ۔ فریقین کے کئی بندے قتل کیے جا چکے ہیں ، مگر جمعہ خان فتح کا باغیانہ پرچم سرنگوں نہیں ہو سکا ہے ۔ اُسے ڈَھب پر لانے کے لیے افغان وزیر دفاع( ملا یعقوب) بھی خفیہ طور پر جمعہ خان سے ملے ، مگر وہ ڈَھب پر آنے اور بغاوت کا جھنڈا لپیٹنے کے لیے تیار نہ ہُوا ۔
12جولائی2026ء کو کابل کے طالبان حکمرانوں نے جمعہ خان فتح کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے اور اُسے گرفتار کرنے کے لیے کئی فوجی دستے، ڈرونز اور ملٹری ہیلی کاپٹر بدخشاں بھی روانہ کیے ۔ جمعہ خان مگر سرنڈر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ وہ اپنے سیکڑوں مسلح وفادار ساتھیوں کے ساتھ اپنے اسٹرانگ ہولڈ’’ نوسے‘‘ کے پہاڑوں میں جا چھپا اور طالبان افواج کے خلاف برسرِ پیکار ہوگیا ۔ اُس کے مسلح ساتھی بدخشاں کی سونے کی کانوں پر ہنوز قابض ہیں۔ 16جولائی 2026ء کو چند گھنٹوں کے لیے پورا بدخشاں طالبان کی عملداری سے نکل کر جمعہ خان اور اس کے جنگجوؤں کے ہاتھ میں چلا گیا تھا۔ مگر یہ قبضہ چند گھنٹوں ہی کے لیے رہا۔ جمعہ خان کی طالبان حکام کے خلاف مزاحمتی مسلح تحریک سے حوصلہ پا کر بدخشاں سے متصل دو صوبوں میں بھی طالبان حکمرانوں کے خلاف بغاوت کے شعلے بلند ہو رہے ہیں ۔
اگر ہم افغان میڈیا کا روزانہ کی بنیاد پر بغور مطالعہ کریں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ جمعہ خان فتح اور دیگر نئے افغان وار لارڈز نے مقتدر افغان طالبان کی ناانصافیوں ، ظلم ، لالچ ، افغان خواتین اور بچوں و بچیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کی بنیاد پر بغاوت اور علیحدگی کے کئی جھنڈے بلند کر دیئے ہیں ۔ 6جولائی2026ء کو ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ نے بھی اہم خبر شائع کرتے ہُوئے قارئین کو بتایا ہے کہ’’ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے، بدخشاں، میں طالبان حکام کی اپنے مخالفین سے لڑائی بڑھ رہی ہے ۔ یہ لڑائی سونے کی کانوں پر ہو رہی ہے ۔‘‘ جمعہ خان فتح کا قندھاری قیادت سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ افغانستان سے ٹی ٹی پی اور دیگر غیر ملکی دہشت گرد نکالے جائیں ۔
اگر اِس طرح افغانستان میں اضطراب اور خلفشار میں اضافہ ہوتا رہا تو افغانستان کے دیگر علاقوں میں مزید بغاوتیں اُٹھیں گی جنہیں کچلنا اور فرو کرنا قطعی آسان نہیں ہوگا ۔طالبان حکام کو خدشہ ہے کہ اگر بدخشاں کے شعلے ٹھنڈے نہ کیے گئے تو ممکن ہے متصل تاجکستان کی مداخلت سے حالات مزید دگرگوں ہو جائیں ۔ ابھی بدخشاں کے حالات سے متشدد طالبان کی پریشانیاں کم نہ ہُوئی تھیں کہ ہمسایہ ایران کے مخصوص سلوک سے ملا ہبت اللہ کو سفارتی سطح پر مزید پریشانیوں نے آ گھیرا ہے ۔
ہُوا یوں جولائی2026ء کے پہلے ہفتے جب دُنیا بھر سے صدور ، وزرائے اعظم اور سینئر سفارتکار سابق ایرانی سپریم لیڈر، علی خامنہ ای شہید، کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے تہران پہنچ رہے تھے ، افغانستان کے سینئر حکام بھی تعزیت اور سوگواری کی تقریبات میں شرکت کے لیے تہران پہنچے ۔ مسئلہ مگر یہ پیدا ہُوا کہ جب افغان طالبان کے وابستگان ( مثال کے طور پر افغان وزیر خارجہ مُلّا امیرمتقی اور مُلّا عبدالغنی برادروغیرہ) تہران پہنچے تو طالبان کے مخالف افغان گروہ ( شمالی اتحاد اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے احمد مسعود اور محمد محقق) بھی پہنچ گئے ۔ تہران حکام نے دونوں گروہوں کو یکساں پروٹوکول سے نوازا ۔ طالبان حکام کو اِس سے بڑی تکلیف پہنچی ۔ مگر تہران حکام نے یہ کہہ کر، مبینہ طور پر، افغان طالبان حکام کو اُن کی عالمی اوقات یاد دلا دی :’’ کابل سے تہران آنے والے افغان حکومت کے نمائندگان تھے جب کہ شمالی اتحاد کے وابستگان افغان عوام کے نمائندگان۔‘‘ اِس نازک اور باریک سے سفارتی بیان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ متشدد افغان طالبان بندوق کے زور پر افغانستان کے حکمران تو ہیں ، مگر وہ افغان عوام کے نمائندگان نہیں ہیں ۔ محض ایک غاصب اور جابر حکمران ٹولہ ۔