سندھ میں سیاسی تبدیلی؟

کرپشن، مہنگائی اور عوام دشمن پالیسیوں کی ذمے داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے جو سندھ میں فنکشنل لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے


[email protected]

مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی رہنما سید راشد شاہ راشدی نے کہا ہے کہ سندھ میں بڑی سیاسی تبدیلی آنے والی ہے اور پیپلز پارٹی کے زوال کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ پی پی کے ارکان سندھ اسمبلی سمیت اہم شخصیات ہم سے مسلسل رابطے میں ہیں کیونکہ اس وقت پیپلز پارٹی میں جیل جیسا ماحول ہے اور اس کے ارکان اسمبلی آزادانہ فیصلے کرنے سے بھی محروم ہیں اور پارٹی میں خوف اور دباؤ کا ماحول پایا جاتا ہے اور اظہار خیال پر بھی پابندی ہے۔

راشد شاہ کو حال ہی میں فنکشنل لیگ میں متحرک ہونے کا موقعہ دیا گیا ہے کیونکہ فنکشنل لیگ کے مرکزی صدر خود پیر پگاڑا کے جانشین کے طور پر حروں کے روحانی پیشوا بھی ہیں اور سیاسی طور پر سندھ کی سیاست میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کر رہے اور حر جماعت کے روحانی معاملات تک ہی انھوں نے خود کو محدود رکھا ہوا ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ (ف) کی سربراہی پیرپگاڑا کے بھائی گوہر شاہ کے پاس ہے ،اب پیرپگاڑا نے پارٹی اجلاس میں سندھ میں پارٹی کو فعال کرنے کی ذمے داری سید راشد شاہ کے حوالے کی ہے اور انھوں نے سندھ میں سیاسی دورے شروع کیے ہیں۔

مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے صدر، صدرالدین راشدی نے گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی سندھ کی قیادت اور سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ میں حکومت تبدیل کرنا ہوگی جس نے کراچی میں امن و امان خراب اور سندھ میں انفرااسٹرکچر برباد کر دیا ہے اور موجودہ حالات عوام کے حق میں نہیں ہیں۔ (ن) لیگ کے الزامات کا پیپلز پارٹی کی طرف سے سخت جواب دیا گیا جس کے جواب میں فنکشنل لیگ سندھ کے ترجمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی محض الزامات کی سیاست کر رہی ہے۔

کرپشن، مہنگائی اور عوام دشمن پالیسیوں کی ذمے داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے جو سندھ میں فنکشنل لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ سندھ میں (ف) لیگ کے سیکریٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے بھی پیپلز پارٹی پر کراچی سمیت سندھ میں انتقامی سیاست عروج پر پہنچانے کا الزام لگایا ہے کہ سرجانی ٹاؤن میں (ف) لیگ کے دفاتر پر حملہ کیا گیا اور فائرنگ سے (ف) لیگ کے دس کارکن زخمی کیے گئے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سردار عبدالرحیم ہی سندھ کی سیاست میں فعال ہیں اور ان کے بیانات سے ہی پتا چلتا ہے کہ سندھ میں فنکشنل لیگ بھی وجود رکھتی ہے جس کے ارکان اسمبلی بھی موجود ہیں۔ کراچی اور اندرون سندھ کے بعض علاقوں میں دیگر پارٹیوں سے مایوس سیاسی افراد نے (ف) لیگ میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے اور دو سال قبل ہونے والے عام انتخابات میں کراچی سے بھی فنکشنل لیگ کے امیدوار میدان میں تھے مگر جیتا کوئی نہیں تھا۔ اس طرح خیرپور و سانگھڑ اضلاع سے (ف) لیگ کامیاب بھی ہوئی تھی وہاں پی پی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا فیملی اور سابق نگران وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی فیملی بھی (ف) لیگ کے ساتھ پی پی کے خلاف ڈیموکریٹک الائنس میں شامل ہیں اور پی پی سندھ میں (ف) لیگ کے کافی رہنماؤں کو توڑ بھی چکی ہے۔

(ف) لیگ کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں کے بیانات کو سیاسی تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر سندھ کی مفاد پرستی کی سیاست میں تبدیلی کے صرف بیانات ہی سامنے آ رہے ہیں کیونکہ سندھ کے تمام بڑے پیر، سجادہ نشین اور وڈیرے پیپلز پارٹی کا حصہ بنے ہوئے ہیں ، اندرون سندھ کی بدحالی سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے اور عوامی سطح پر مایوسی بھی بڑھ رہی ہے۔ پی پی کی سندھ میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت ہے اور سندھ حکومت اپنے فیصلوں میں آزاد ہے اور اسے کسی اور پارٹی کی ضرورت ہے نہ وہ کسی کو اہمیت دیتی ہے تو ایسے حالات میں سیاسی تبدیلی فی الحال تو ممکن نظر نہیں آ رہی۔