کپاس کی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت ریکارڈ 77 فیصد اضافہ

فی الوقت پنجاب میں 111 جبکہ سندھ میں 107 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں، رپورٹ


احتشام مفتی July 20, 2026

کراچی:

ملک میں 15 جولائی 2026 تک کپاس کی مجموعی قومی پیداوار میں گذشتہ سال کی نسبت ریکارڈ 77 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق زیر تبصرہ مدت کے دوران سندھ میں114فیصد جبکہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں 39فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والے کاٹن ائیر 2026-27کے ابتدائی پیداواری اعداد وشمار کے مطابق15جولائی تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں5لاکھ 27ہزار900روئی کی گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارڈ2لاکھ30ہزار149گانٹھ یا77فیصد زائد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں2لاکھ ایک ہزار500گانٹھ جبکہ سندھ میں3لاکھ26ہزار400گانٹھوں کے مساوی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بالترتیب39فیصد اور114فیصد زائد ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں جننگ فیکٹریوں سے ٹیکسٹائل ملوں نے4لاکھ44ہزار379گانٹھوں کی خریداری کی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فی الوقت پنجاب میں111جبکہ سندھ میں107جننگ فیکٹریاں فعال ہیں۔ 

انھوں نے بتایا کہ پی سی جی اے کی رپورٹ میں خاص بات یہ ہے کہ پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں15جولائی تک کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں ریکارڈ38 فیصد زیادہ ہے جبکہ15جولائی2025کو سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں محض پانچ فیصد زائد تھی۔ 

یہ اطلاعات زیرگردش ہیں کہ پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں آنے والی کپاس کا ایک بڑا حصہ سندھ سے لایا گیا ہے جس سے توقع ہے کہ سندھ میں کپاس کی پیداوار 15جولائی تک کم از کم 50فیصد زائد ہے جس کی بڑی وجہ پنجاب بھر کے کاٹن زونز میں گنے کی غیر معمولی کاشت ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان دیکھا جارہا تھا جس کی بڑی وجہ خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمدات میں مزید تاخیر کے خدشات تھے اور انہی خدشات پر فی من روئی کی قیمت ایک ہزار روپے کے اضافے سے پنجاب میں 19ہزار روپے جبکہ سندھ میں18ہزار800روپے تک پہنچ گئی تھی۔

لیکن ایک روز قبل جمعہ سے کپاس کی مجموعی پیداوار میں ریکاڈ اضافے کی اطلاعات روئی کی قیمتوں میں کمی کا باعث بن گئی ہے جس سے ہفتے کو مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت میں300روپے کی کمی دیکھی جارہی ہے۔