امریکا کے پاس ایران کیساتھ طویل جنگ کیلیے میزائل نہیں بچے، رپورٹ

ایران پر آج نویں روز بھی امریکا نے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں


ویب ڈیسک July 21, 2026

میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف طویل اور مکمل جنگ جاری رکھنے کے لیے فضائی دفاعی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود نہیں۔

ٹیلی گراف اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹوں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاہم ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ میزائلوں کے محدود ذخائر بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہمارے پاس اتنے میزائل نہیں کہ محفوظ انداز میں طویل عرصے تک فوجی کارروائیاں جاری رکھ سکیں اور میرا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اس صورتحال کا مکمل اندازہ نہیں۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں مسلسل نویں رات بھی حملے جاری رکھے۔ ان کے بقول اسن کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں تبریز، بندر ماہشہر، بندر امام خمینی، چابہار اور کنارک سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین، اردن اور شام میں اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ بحرین نے کہا کہ ایرانی حملے میں اس کے فضائی نیویگیشن نظام کو نقصان پہنچا۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران ایک مرتبہ پھر امریکا کے ساتھ مکمل جنگ کی صورتحال میں داخل ہو چکا ہے اور واشنگٹن کو اس کے نتائج قبول کرنا ہوں گے۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم سفارتی کوششیں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مختلف ثالث ممالک کی جانب سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے تجاویز کا تبادلہ جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے حال ہی میں 2 ہلاک اہلکاروں کی شناخت فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان اور پرائیویٹ ازابیلا گونزالیز کے طور پر کی ہے۔

ایک اور امریکی فوجی شمالی عراق میں ایرانی ڈرون کے غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے دوران ہلاک ہوا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے اپنے فوجیوں کے اعزاز میں ایران کو انتہائی سخت جواب دیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس نے تاحال باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ امریکا کے میزائل ذخائر اس حد تک کم ہو چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف طویل جنگ جاری نہ رکھ سکے۔