دنیا کی سیاست میں بعض لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب جنگ اور سفارت کاری ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھی دکھائی دیتی ہیں، مگر فیصلہ بارود کرتا ہے، مکالمہ نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں الفاظ اپنی تاثیر کھوتے جا رہے ہیں اور طاقت کی زبان بین الاقوامی تعلقات پر غالب آتی محسوس ہو رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی محض دو ریاستوں کے اختلاف کا نام نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل، علاقائی سلامتی، بین الاقوامی قانون اور بڑی طاقتوں کی صف بندی کو ایک ایسی پیچیدہ گرہ میں باندھ دیا ہے جسے کھولنے کے لیے عسکری قوت سے زیادہ سیاسی بصیرت درکار ہے۔ افسوس یہ ہے کہ موجودہ حالات اس بصیرت کی بجائے طاقت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی خبر دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کی انھیں کوئی پروا نہیں، محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں سفارتی معاہدوں کی اہمیت کو عسکری دباؤ کے تابع سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی دوطرفہ مفاہمتی عمل کی بنیاد باہمی اعتماد پر استوار ہوتی ہے۔ جب ایک فریق عوامی سطح پر اس بے نیازی کا اظہار کرے کہ معاہدے کی حیثیت اس کے نزدیک ثانوی ہے تو اس سے مذاکراتی ماحول کمزور ہوتا ہے اور بداعتمادی مزید گہری ہو جاتی ہے، اگرچہ واشنگٹن مسلسل اس موقف پر قائم ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس کی اولین ترجیح ہے، تاہم یہ مقصد محض فوجی دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جوہری تنازعات کا مستقل حل صرف جامع سفارت کاری، موثر نگرانی اور قابلِ قبول ضمانتوں سے ہی ممکن ہوا ہے۔
دوسری طرف ایران نے بھی مفاہمتی یادداشت کے تحت آگے بڑھنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام، بحری سلامتی اور اپنی خودمختاری سے متعلق معاملات میں کسی بیرونی دباؤ کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ تہران کی قیادت کے نزدیک یہ معاملہ صرف ایک آبی گزرگاہ کا نہیں بلکہ قومی وقار، دفاعی خودمختاری اور علاقائی کردار کا مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر اختلافات نے اس مفاہمتی عمل کو شدید دھچکا پہنچایا جس سے چند ہفتے قبل امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید دونوں ممالک مسلسل تصادم کی پالیسی سے ہٹ کر کسی درمیانی راستے پر متفق ہو جائیں گے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ میں معمولی رکاوٹ بھی توانائی کی عالمی قیمتوں، بحری تجارت، انشورنس اخراجات اور معاشی استحکام پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والا ہر بحران صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایشیا، یورپ اور افریقہ سمیت پوری عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اگر یہاں عسکری تصادم مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے نتائج صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کے صارفین، صنعتوں اور مالیاتی منڈیوں تک پہنچیں گے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں، ایرانی جوابی کارروائیوں، بحری جہازوں کی روک تھام، فوجی تنصیبات پر حملوں اور مختلف علاقوں میں میزائل و ڈرون کارروائیوں نے اس بحران کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہوتا ہے کہ اس میں ہر نئی کارروائی اگلے حملے کا جواز بن جاتی ہے۔ جب جواب در جواب کی یہ زنجیر قائم ہو جائے تو پھر کسی ایک فریق کے لیے پیچھے ہٹنا سیاسی طور پر مشکل اور عسکری طور پر مہنگا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی کیفیت اس وقت خطے میں دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی اور ایرانی بیانات کے ساتھ ساتھ اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ریاستوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تنازع اب صرف دو ممالک کے درمیان محدود نہیں رہا۔ اسرائیل پہلے ہی ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا سلامتی خطرہ قرار دیتا آیا ہے، جب کہ اردن اپنی فضائی حدود اور داخلی سلامتی کے حوالے سے مسلسل دباؤ محسوس کر رہا ہے۔ عراق ایسے نازک مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور دوسری جانب امریکی فوجی موجودگی بھی اس کی داخلی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں کسی ایک واقعے کی غلط تشریح یا کسی حادثاتی تصادم کے نتیجے میں پورا خطہ وسیع تر جنگ کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔
جوہری تنصیبات سے متعلق اطلاعات نے بھی عالمی تشویش میں اضافہ کیا ہے، اگرچہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے ابتدائی جائزے میں تابکاری کے فوری خطرے کو مسترد کیا ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ جوہری تنصیبات کو عسکری کارروائیوں کا حصہ بنانا نہایت حساس معاملہ ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل میں کسی بڑے ماحولیاتی یا انسانی سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین بھی اسی لیے جوہری تنصیبات کے تحفظ پر زور دیتے ہیں تاکہ جنگ کے اثرات نسلوں تک منتقل نہ ہوں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں اور اپنی بحری خودمختاری کو ناقابلِ مذاکرات تصور کرتا ہے۔ اسی طرح امریکا بھی اپنے بحری مفادات اور عالمی تجارت کے تحفظ کو اپنی اسٹرٹیجک ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔ جب دونوں فریق اپنے بنیادی مفادات کو ناقابلِ لچک قرار دیں تو مذاکرات کا دائرہ خود بخود محدود ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں تیسرے فریق کی موثر ثالثی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ خلیجی ممالک، امریکا اور وسیع اسلامی دنیا کے ساتھ بھی متوازن تعلقات رکھتا ہے۔ اسلام آباد مسلسل اس موقف کا اظہار کرتا آیا ہے کہ خطے کے تنازعات کا حل مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ یہی متوازن پالیسی پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ایران کے وزیر داخلہ کا پاکستان کا دورہ اسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں سرحدی سلامتی، دوطرفہ تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر اعلیٰ سطح پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان طویل مشترکہ سرحد موجود ہے۔ دونوں ممالک کو دہشت گردی، اسمگلنگ، غیر قانونی نقل و حرکت اور سرحدی جرائم جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر علاقائی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے براہ راست اثرات سرحدی سلامتی، تجارت اور عوامی روابط پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس لیے دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ باہمی اعتماد کو فروغ دیں، مشترکہ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنائیں اور ایسے کسی بھی عنصر کو موقع نہ دیں جو دوطرفہ تعلقات میں بداعتمادی پیدا کرنا چاہتا ہو۔
اسی طرح اس بحران میں بڑی عالمی طاقتوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ روس، چین اور یورپی ممالک بظاہر مختلف ترجیحات رکھتے ہیں، لیکن سب کی مشترکہ خواہش یہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ مکمل جنگ کی لپیٹ میں نہ آئے۔ چین اپنی توانائی کی ضروریات کے باعث خلیج میں استحکام کا خواہاں ہے، روس خطے میں اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جب کہ یورپی ممالک توانائی کی فراہمی اور مہاجرین کے ممکنہ نئے بحران سے پریشان ہیں۔ اگر یہ طاقتیں محض اپنے اپنے جغرافیائی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے مشترکہ سفارتی حکمت عملی اختیار کریں تو کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔یہی حکمت عملی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے پائیدار امن اور اقتصادی استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔
عالمی برادری کو بھی اس بحران کو محض علاقائی مسئلہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ توانائی کی رسد، عالمی تجارت، مہاجرین کے ممکنہ بحران، دہشت گردی کے خطرات اور عالمی مالیاتی منڈیوں کا استحکام اس تنازع سے براہ راست وابستہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بڑی طاقتیں اپنی رقابتوں سے بالاتر ہو کر کشیدگی میں کمی کے لیے مشترکہ کوشش کریں، جب کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو فعال اور موثر کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے اظہار کو سیاسی تدبر سے بدل دیا جائے۔ امریکا اور ایران دونوں کے پاس ایسے تمام اسباب موجود ہیں جو اس بحران کو مزید گہرا بھی کر سکتے ہیں اور دانش مندی سے سنبھال بھی سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک اپنے اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھیں، متنازع معاملات کے لیے مرحلہ وار لائحہ عمل اختیار کریں اور اشتعال انگیز بیانات کی جگہ اعتماد سازی کو فروغ دیں تو نہ صرف موجودہ کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ پورا خطہ ایک نئے اور خطرناک تصادم سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہی راستہ عالمی امن، علاقائی استحکام اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی حقیقی ضمانت بن سکتا ہے۔