سوشل میڈیا انفلونسرز یا جنسی درندے بھائی؛ برطانیہ کا امریکا سے حوالگی کا مطالبہ

دونوں بھائیوں پر جنسی زیادتی اور خواتین کا گلا دباکر مارنے کی کوشش کے الزامات ہیں


ویب ڈیسک July 21, 2026
برطانیہ نے امریکا سے ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے

برطانیہ کی جانب سے حوالگی کی درخواست کے تحت امریکا میں زیر حراست سوشل میڈیا انفلونسرز اینڈریو ٹیٹ اور ٹرسٹن ٹیٹ کے خلاف نئی عدالتی دستاویزات منظرعام پر آگئی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق پیر کی شب جاری کی گئی غیرمہر بند عدالتی دستاویزات میں برطانوی استغاثہ نے متعدد خواتین کے بیانات پیش کیے۔

جن میں خواتین نے بتایا کہ دونوں بھائیوں نے مختلف اوقات میں تشدد کا نشانہ بنایا، گلا دبایا، بے ہوش ہونے تک تشدد کیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

تاہم دونوں بھائیوں نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ حوالگی کی درخواست کے خلاف ہر قانونی فورم پر بھرپور دفاع کریں گے۔

اینڈریو ٹیٹ پر کیا الزامات ہیں؟

عدالتی دستاویزات کے مطابق اینڈریو ٹیٹ کے خلاف دو نئی متاثرہ خواتین کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔

ایک خاتون نے الزام لگایا کہ 2015 میں انگلینڈ کے شہر بیڈفورڈ میں اینڈریو ٹیٹ نے انہیں گلا دبا کر بے ہوش کیا اور پھر زیادتی کی۔

دوسری خاتون کا کہنا ہے کہ 2014 میں ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ملاقات کے بعد دونوں کے درمیان رضامندی سے تعلق قائم ہوا۔

خاتون نے مزید بتایا کہ تاہم بعد میں مانچسٹر میں ایک اور ملاقات کے دوران اینڈریو نے انھیں سانس لینے سے روک دیا اور خدشہ تھا کہ وہ قتل ہی کر دیں گے۔

برطانوی حکام کے مطابق اینڈریو ٹیٹ پر اب مجموعی طور پر 42 الزامات عائد ہیں جن میں جنسی زیادتی کے 7 نئے الزامات، جنسی عمل کے لیے اسمگلنگ کے 3، جنسی حملے کے 3، بچوں کی نازیبا تصاویر اور انتہائی فحش مواد سے متعلق 19 الزامات شامل ہیں۔

ٹرسٹن ٹیٹ پر الزامات

غیرمہر بند دستاویزات کے مطابق ٹرسٹن ٹیٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2012 سے 2013 کے دوران اپنی قریبی خاتون ساتھی کو متعدد بار زیادتی کا نشانہ بنایا، ان کا گلا دبا کر بے ہوش کیا اور کئی مرتبہ بیلٹ سے مارا جس سے ان کے جسم پر شدید زخم اور نیل پڑ گئے۔

برطانوی حکام کے مطابق ٹرسٹن ٹیٹ پر اب مجموعی طور پر 17 الزامات ہیں جن میں جنسی زیادتی کے 2 نئے الزامات، ایک جنسی زیادتی اور جنسی استحصال کے لیے سفر میں سہولت فراہم کرنے کے 3 الزامات شامل ہیں۔

استغاثہ کے پاس کیا شواہد ہیں؟

برطانوی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران متاثرہ خواتین کے بیانات، الیکٹرانک پیغامات، تصاویر اور دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں جو ان الزامات کی تائید کرتے ہیں۔

امریکا میں گرفتاری کیوں ہوئی؟

اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ کو امریکی مارشل سروس نے 18 جولائی کو فلوریڈا کے شہر میامی میں اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایک باکسنگ ایونٹ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

دونوں اس سے قبل رومانیہ میں بھی انسانی اسمگلنگ اور خواتین کے جنسی استحصال سے متعلق مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ رومانیہ نے گزشتہ برس ان پر عائد سفری پابندیاں نرم کی تھیں، جس کے بعد وہ امریکا پہنچے تھے۔

حوالگی کا قانونی عمل

امریکا اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کا معاہدہ موجود ہے جس کے تحت مطلوب ملزمان کو قانونی کارروائی کے لیے ایک دوسرے کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

اب امریکی عدالت پہلے یہ طے کرے گی کہ آیا حوالگی کی قانونی شرائط پوری ہوتی ہیں یا نہیں، جبکہ آخری فیصلہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔

ٹیٹ برادران کے وکیل جوزف میک برائیڈ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ برطانیہ کے الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور یہ کارروائی رومانیہ میں جاری مقدمات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے بھی اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق فی الحال مارکو روبیو کی جانب سے اس کیس میں مداخلت کا کوئی منصوبہ نہیں، جبکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی اس معاملے میں شامل ہونے کی توقع نہیں ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

دونوں بھائی اس وقت امریکا میں زیر حراست ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں امریکی ضلعی عدالت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا انہیں برطانیہ کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ایک ہائی پروفائل مقدمہ ہے اس لیے حوالگی کی کارروائی طویل ہوسکتی ہے، خاص طور پر اگر دفاعی ٹیم ہر قانونی راستہ اختیار کرتی ہے۔

تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ سماعت صرف حوالگی کے عمل سے متعلق تھی یہ کسی فوجداری مقدمے کا ٹرائل نہیں تھا اور دونوں بھائی اس مرحلے پر قانونی طور پر بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں جب تک عدالت میں ان پر الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔