اگر امریکا ایران پر حملہ نہ کرتا تو آج اسرائیل کا وجود تک باقی نہ رہتا؛ ٹرمپ

لبنانی صدر جوزف عون نے امریکا کے 4 روزہ دورے کے آخری روز وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی


ویب ڈیسک July 21, 2026
لبنانی صدر جوزف عون نے امریکا کے 4 روزہ دورے کے آخری روز وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی

لبنان کے صدر جوزف عون چار روزہ دورے  پر امریکا پہنچے تھے جہاں آج دورے کے آخری روز وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات بھی کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اہم ملاقات امریکا اور لبنان کے صدور کے درمیان ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، شام کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اوول آفس میں ملاقات کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ یہ ملک کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے۔ اب اسے وہ احترام ملے گا جس کا وہ حق دار ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ لبنان کو درپیش مسائل میں اس وقت حزب اللہ سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم امریکا نے اس حوالے سے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج دنیا جلد دیکھے گی۔

ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات اور لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سابق صدر براک اوباما کا جوہری معاہدہ برقرار رہتا تو ایران کئی سال پہلے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں کی کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے اور مسلسل مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے بقول جب تک ایران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکا کی اس سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی پوزیشنز دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔ جب صدر ٹرمپ سے جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے تاہم کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی۔

صدر ٹرمپ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ایران اردن میں ایک حملے میں امریکی دفاعی نظام کو جزوی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا۔ اگر کچھ مختلف آپریشنل انتظامات ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اردن میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

شام کے بارے میں سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر شام کے صدر احمد الشرع حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرنا چاہیں تو یہ ایک قابل غور تصور ہے۔

انھوں نے کہا کہ احمد الشرع نے شام کو متحد کرنے میں اچھا کردار ادا کیا ہے اور اگر وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں تو یہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈال کر نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ وہ انتخابی سیاست کے بجائے درست فیصلے کرنے پر توجہ دیں گے اور یہ یقین ہے کہ امریکی عوام ان کی پالیسیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس موقع پر لبنانی صدر جوزف عون نے صدر ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ثالثی میں گزشتہ ماہ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ لبنان اور پورے خطے کو اب استحکام اور امن کی ضرورت ہے اور ان کا امن کا وژن صدر ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے۔

لبنانی صدر جوزف عون نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مل کر لبنان اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔