ایران جنگ نے امریکی فوج کا خزانہ خالی کرنا شروع کر دیا؛ شدید مالی بحران کا سامنا

وائٹ ہاؤس نے کانگریس سے ایران جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 67 ارب ڈالر کے ہنگامی دفاعی فنڈ کی منظوری مانگی ہے


ویب ڈیسک July 21, 2026
ایران جنگ میں امریکی پینٹاگون شدید مالی بحران کا شکار ہے

ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا جہاں جنگی اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچنے کے بعد فوج کے کئی اہم فنڈز آئندہ چند ہفتوں میں ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کیے جانے اور جنگ بندی کے خاتمے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے کانگریس سے ایران جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 67 ارب ڈالر کے ہنگامی دفاعی فنڈ کی منظوری مانگی ہے تاہم ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے درمیان اختلافات کے باعث اس پر تاحال اتفاق نہیں ہوسکا۔

ادھر ایوانِ نمائندگان چند روز میں ایک ماہ کی تعطیلات پر جا رہا ہے جس سے اضافی دفاعی بجٹ کی منظوری مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے جب کہ وزیر دفاع کو بھی ارکان اسمبلی کے سوالوں کا سامنا ہے۔

امریکا کے سابق دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ مالی قلت کے باعث پینٹاگون نے کئی فوجی مشقیں اور تربیتی سرگرمیاں محدود یا منسوخ کر دی ہیں جبکہ آپریشنز جاری رکھنے کے لیے دیگر منصوبوں کے بجٹ سے رقم منتقل کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی بحریہ اور فضائیہ کے جاری فوجی آپریشنز کے لیے مختص بجٹ رواں ماہ کے اختتام تک ختم ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے بڑی تعداد میں جنگی جہاز، بمبار طیارے اور بحری بیڑے مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں۔

پینٹاگون نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ 4.3 ارب ڈالر تربیتی پروگراموں اور نئے ہتھیاروں کی خریداری سے منتقل کرکے فوری جنگی ضروریات پر خرچ کرنے کی اجازت دی جائے تاہم اس درخواست پر بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

وائٹ ہاؤس کے بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ نے بتایا کہ ایران جنگ پر اب تک 30 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں تاہم آزاد دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا تھا کہ اس تخمینے میں ایران کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان اور ان کی تعمیرِ نو کے اخراجات شامل نہیں۔

کانگریس کے کئی ارکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل حملوں میں ہزاروں جدید میزائل اور گائیڈڈ بم استعمال ہونے کے بعد امریکی اسلحہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

ڈیموکریٹ رکن کانگریس بیٹی میک کولم نے کہا کہ قانون سازوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ پینٹاگون کون سے ہتھیار خریدنا چاہتا ہے اور کیوں تاکہ نئے دفاعی بجٹ پر ذمہ دارانہ فیصلہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اسلحہ ذخائر مضبوط ہیں اور مسلسل بڑھ رہے ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے اندرونی حلقوں میں صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

رواں مالی سال امریکا کا مجموعی دفاعی بجٹ تقریباً 1 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی درخواست کی ہے۔

تاہم اس تجویز پر کانگریس میں شدید اختلافات ہیں۔ کئی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کا کہنا ہے کہ 39 ٹریلین ڈالر سے زائد قومی قرض کے ہوتے ہوئے دفاعی اخراجات میں اتنا بڑا اضافہ مناسب نہیں خصوصاً ایسی جنگ کے لیے جس کی عوامی حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔

واضح رہے کہ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 28 فیصد امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ درست فیصلہ تھ، جبکہ 68 فیصد اسے غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔ یہ شرح افغانستان جنگ کے آخری برسوں میں عوامی مخالفت کے برابر سمجھی جا رہی ہے۔