پاکس سلی کا…عالمی طاقتوں کا نیا محاذِ جنگ

اے آئی، نایاب دھاتی ومعدنی عناصر اور کمپیوٹنگ کے بین الاقوامی ترسیلی نظام پر غلبہ پانے کے لیے طاقتور حریفوں میں زبردست مقابلہ شروع ہو چکاہے



’’جنگیں خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوتیں۔ یہ انسان، انسان کے بنائے اداروں اور اس طریقے کی وجہ سے جنم لیتی ہیں جس طرح انسان نے اپنے معاشرے کو منظم کیا ہے۔‘‘( فریڈرک مور ونسن ، سابق امریکی چیف جسٹس)

٭

’’جنگ کے لیے خواہ کیسی بھی وجوہ پیش کی جائیں، اس کے ہونے کی بنیادی وجہ ہمیشہ معاشی ہوتی ہے۔‘‘ (اے جے پی ٹیلر ،برطانوی مؤرخ)

٭٭

انسانی تاریخ شاہد ہے، زمانہ قدیم سے انسان قیمتی اشیا پر دسترس پانے کے لیے ایک دوسرے سے نبردآزما رہے ہیں۔ مسالوں کی تجارت ہی کو لیجیے۔یہ تجارت سمندری اور زمینی راستوں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک تھا جس نے ایشیا، افریقہ اور یورپ کی تہذیبوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ تاجر کالی مرچ، دار چینی اور جائفل جیسے ہلکے وزن والے اور قیمتی مسالوں کی تجارت کرتے تھے۔ چونکہ یہ ذائقے یورپ میں نایاب تھے، اس لیے انہیں امیری اور مرتبے کی علامت سمجھا جاتا ۔ کھانے محفوظ رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتے۔ اس منافع بخش صنعت پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ ہی نے عالمی مہم جوئی کو جنم دیا۔

قدیم دنیا میں مسالوں کو موجودہ دور کے تیل یا سونے کی طرح سمجھیں۔ چونکہ یہ صرف مخصوص خطوں (جیسے انڈونیشیا کے جزائر مالوکو یا ہندوستان کے کچھ حصوں) میں اگتے تھے، اس لیے تاجروں کو انہیں ہزاروں میل دور لے جانا پڑتا۔ اسی وجہ سے یہ بہت مہنگے ہوتے ۔اسی تجارت نے ’’ابتدائی عالمگیریت‘‘ کو جنم دیا:عرب، یورپی اور ایشیائی تاجروں نے تجارت کے پہلے نیٹ ورک بنائے۔ انہوں نے شاہراہِ ریشم اور بحرِ ہند کے ذریعے مسالوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا۔

 یورپی سلطنتیں مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان تاجروں کو بائی پاس کر کے مسالے براہِ راست اصل ذرائع سے خریدنا چاہتی تھیں۔ اسی خواہش نے مہم جوئی کے دور کا آغاز کر ڈالا۔ واسکو ڈے گاما اور کرسٹوفر کولمبس جیسے مہم جوؤں نے سمندر کے نئے راستے تلاش کیے۔ اس عمل نے براہِ راست براعظم امریکہ دریافت کرنے کی راہ ہموار کر دی۔ مسالے کی تجارت سے منسلک بے پناہ منافعوں نے دنیا کی پہلی میگا کارپوریشنوں کو جنم دیا، جیسے ’’ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ جس نے مسالوں کی تجارت پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے اور اس کی حفاظت کے لیے نجی فوجیں تک تیار کر رکھی تھیں۔

اُبھرتانیا ڈھانچہ

بیسویں صدی کے وسط سے اب تک عالمی طاقت کا ڈھانچہ ایک سادہ بنیاد پر قائم رہا : تیل و گیس۔ خام تیل کی پیداوار، قیمتوں اور اس کی ترسیل کے راستوں…خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری روٹس پر جس کا کنٹرول تھا، وہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست پر فیصلہ کن اثر و رسوخ رکھتا تھا۔

لیکن آج عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے تکنیکی اور جیو پولیٹیکل مقابلے کے پسِ پردہ ایک خاموش تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ دنیا میں طاقت کا ایک نیا ڈھانچہ ابھر رہا ہے جو آئل ٹینکروں اور پائپ لائنوں کے مقابلے میں کم نظر آتا لیکن ممکنہ طور پر زیادہ مؤثر ہے۔یہ ڈھانچا مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور نایاب ارضی دھاتوں و معدنیات پر مشتمل ہے۔تمام عالمی طاقتیں…امریکہ، چین، روس اور یورپ اِس ابھرتے ڈھانچے میں اپنا زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ دیکھنا چاہتی ہیں۔اسی تمنا نے خاص طور پہ امریکہ اور چین کے مابین مقابلے و مسابقت کا ماحول پیدا کر ڈالا ۔

مروجہ عالمی نظام میں مسلمان خلیجی ممالک کا تاریخی کردار جغرافیہ اور جیولوجی نے طے کیا: صحرائی ریت کے نیچے تیل کے وسیع ذخائر اور مشرق و مغرب کو ملانے والے اہم ترین بحری راستے۔ دہائیوں تک اسی خصوصیت نے اِس خطّے کو مغربی معیشتوں کے لیے ناگزیر اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا مرکزی میدان بنائے رکھا۔

نیا ورلڈ آرڈر

تاہم آج ایک نئی معیشت جنم لے رہی ہے۔ اس کی تعبیر تیل کے بیرلوں نہیں بلکہ ڈیٹا سینٹروں، سیمی کنڈکٹر اور نایاب ارضی دھاتوں و معدنیات کی سپلائی چینوں، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے نظام سے ہوتی ہے۔ اس ابھرتے ہوئے منظر نامے میں توانائی کی اہمیت اب بھی برقرار ہے لیکن نقل و حمل کے بجائے کمپیوٹیشن (حساب کتاب) کے ایندھن کے طور پر اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔گویا ایسا عالمی نظام ہمارے سامنے آ رہا جس میں ہائیڈرو کاربنز (تیل و گیس) کے بجائے کمپیوٹر کی کمپیوٹیشنل صلاحیت پر کنٹرول تزویراتی طاقت کا بنیادی ذریعہ بن جائے گا۔

خلیجی ممالک اس تبدیلی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، قومی اے آئی پروگراموں اور ٹیکنالوجی کی شراکت داریوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف توانائی کے برآمد کنندہ کے طور پر قائم رہنا نہیں بلکہ ایک نئی قسم کی عالمی معیشت کے مراکز بننا ہے…ایک ایسی معیشت جو الگورتھم اور ڈیٹا کے بہاؤ سے چلتی ہے۔

دنیا کی اکلوتی سپرپاور، امریکہ کے نقطہ نظر سے یہ تبدیلی عمدہ موقع اور اسٹریٹجک بے چینی، دونوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ واشنگٹن اے آئی نظام کی اعلیٰ ترین سطحوں پر اب بھی غالب ہے،جیسے جدید چپ ڈیزائن، سرکردہ اے آئی کمپنیاں اور عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارم۔تاہم اس غلبے کا انحصار نازک سپلائی چین ، خاص طور پر مشرقی ایشیا میں مرکوز سیمی کنڈکٹر کی پیداوار پر ہے۔

نتیجتاً امریکہ اثر و رسوخ کا اپنا ایک ایسا دائرہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جسے ’’ڈیجیٹل حد‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ جدید چپس پر برآمدی پابندیوں، اسٹریٹجک شراکت داریوں اور سیکیورٹی معاہدوں کے ذریعے واشنگٹن یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ خاص طور پر یورپ و مشرق وسطی میںاہم اتحادی امریکہ کی زیرِ قیادت جنم لیتے ٹیکنالوجیکل ڈھانچے کے ساتھ جڑے رہیں۔

بین الاقوامی پہل کاری

اسی خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دسمبر 2025ء میں امریکہ نے ’’پاکس سلی کا‘‘ (Pax Silica)کی بنیاد رکھ دی۔ امریکہ کی زیرِ قیادت یہ ایک بین الاقوامی پہل کاری (انشیٹیو) ہے جس کا مقصد جدید ترین ٹیکنالوجیوں جیسے سیمی کنڈکٹرز، اے آئی اور نایاب دھاتوں و معدنیات کی سپلائی چینیں محفوظ بنانا ہے۔ پہل کاری کے اس معاہدے پہ بھارت سمیت 24ممالک دستخط کر چکے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بالواسطہ طور پر چین پر انحصار کم کرنے اور درج بالا شعبوں میں اُس کے غلبے کا مقابلہ کرنے کو نشانہ بنائے گا۔ ایسا سمجھنے کی وجہ ہے۔ 2020ء کی دہائی کے دوران حکومتوں نے سیمی کنڈکٹرز،نایاب دھاتوں و معدنیات اور مصنوعی ذہانت سے متعلقہ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر میں سپلائی چین کی لچک کو تیزی سے قومی سلامتی کی ترجیح کے طور پر دیکھا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور اے آئی کی بنیاد بننے والی ٹیکنالوجیوں پر برآمدی کنٹرول، صنعتی پالیسی کے اقدامات اور جغرافیائی سیاسی مسابقت جاری تھی۔

اسی لیے امریکی حکام کی جانب سے ’’پاکس سلی کا‘‘ کو ایک ایسے معاشی وسلامتی فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا جس کا مقصد ان ’’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘‘ کے درمیان پالیسیوں اور سرمایہ کاری میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور اہم صنعتی صلاحیتیں موجود ہیں۔اس ضمن میں ماہرین کہتے ہیں’’آج کے دور میں معاشی سلامتی کو توانائی، نایاب دھاتوں و معدنیات، ہائی اینڈ مینوفیکچرنگ اور ایڈوانسڈ ماڈلز پر کنٹرول سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

کیا چین نشانے پر؟

امریکہ کے معاصر ، چین و روس کے ماہرین کا دعوی ہے کہ ’’پاکس سلی کا‘‘ کا نام اور عمل ،دونوں ہی قدیم شاہی روم کی یاد دلاتے ہیں۔ اس پر دستخط کرنے والے ممالک نے عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین کے ’’اسٹریٹجک مراحل‘‘ پر شراکت داری پر اتفاق کیا ہے جن میں خام مال، توانائی، لاجسٹکس، سیمی کنڈکٹر کی پیداوار، کمپیوٹنگ، سافٹ ویئر اور ماڈلز شامل ہیں۔

اِن ملکوں نے اُن اقوام پر’’حد سے زیادہ انحصار‘‘ کو کم کرنے کا عہد کیا جو ’’جدت طرازی اور منصفانہ مقابلے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘یہ چین کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔یہ ممالک جنم لیتی اے آئی معیشت کو تشکیل دینے والی ٹیکنالوجیکل پیشرفت کی مکمل رسائی کے بدلے حساس ٹیکنالوجیوں اور اہم انفراسٹرکچر کو غیر ضروری رسائی، اثر و رسوخ یا کنٹرول سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کرتے ہیں…یہ بھی چین کی طرف ہی ایک اشارہ ہے۔

یہ معاہدہ بڑی حد تک جیکب ہیلبرگ کا تخلیق کردہ ہے جو امریکی حکومت سے بطور انڈرسیکرٹری برائے معاشی امور وابستہ ہے۔ یہ چین کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والے امریکی راہنماؤں میں شامل اور جنگی سافٹ وئیر بناتی امریکی کمپنی، پیلانٹیر کے سی ای او ،ایلکس کارپ کا سابق مشیر ہے۔

پاکس سیلیکا میں کون شامل

معاہدے پر دستخط کرنے والوں کی فہرست میں نمایاں طور پر فرانس غائب ہے جہاں صدر ایمانوئل میکرون برسوں سے ’’ڈیجیٹل خودمختاری‘‘ کے لیے زور دے رہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ فرانس اور وسیع تر سطح پر یورپ کو امریکی ٹیکنالوجی پر اپنا انحصار ختم کرنے اور مقامی متبادل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے فرانسیسی حکومت نے امریکہ کے تیار کردہ ویڈیو کانفرنسنگ سافٹ ویئر چھوڑ دیا ، مائیکروسافٹ ونڈوز کی جگہ لینکس کو اپنا لیا ، پالانٹیر کے ڈیٹا اینالیٹکس سافٹ ویئر کے بجائے فرانس کے تیار کردہ چیپس ویژن سے سودا کیا اور مسٹرال اے آئی میں سرمایہ کاری کی جو یورپ کی چند ابھرتی اے آئی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

یہ قومی ڈیجیٹل خودمختاری کمزور کرتا ہے؟

پاکس سیلیکا واضح طور پر ڈیجیٹل خودمختاری تصّور کا مخالف ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں ہیلبرگ نے اس تصّور کو ’’رجعت پسندانہ اور نقصان دہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ اپنے اپنے اے آئی ایکو سسٹم بنانے والی خودمختار قوموں کی دنیا ’’چھوٹے پیمانے کے کلونز (نقلوں) کا ایک سیارہ ہو گی جہاں ہر کوئی بہادری سے پچھلے سال کی پیش رفت کو دوبارہ تیار کر ے گا جبکہ اصل پیش رفت ان کے بغیر ہی آگے نکل جائے گی۔‘‘

اس کے بجائے پاکس سیلیکا کے ارکان اپنے وسائل یکجا کر سکتے ہیں اور جس میں ہر ملک اپنی صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے لکھا ’’ایک ساتھی ملک کا کمپیوٹر ڈیٹا دوسرے کے معدنیات سے، تیسرے کے ٹیلنٹ سے اور چوتھے کے سرمائے سے ملے گا ۔اس کا نتیجہ محض جمع نہیں بلکہ ضرب (ملٹی پلیکیشن) ہوتا ہے۔‘‘

بظاہر ہیلبرگ کا یہ پروپیگنڈا سمجھ میں آتا ہے۔ نیدرلینڈز اے ایس ایم ایل کمپنی کا گھر ہے جو دنیا کی 100 فیصد جدید ترین ای یو وی سیمی کنڈکٹر لیتھوگرافی مشینیں بناتی ہے۔ اسرائیل چِپ ڈیزائننگ اور ملٹری ٹیکنالوجی میں سپر پاور ہے۔آسٹریلیا کے پاس دنیا کے چوتھے بڑے نایاب دھاتی و معدنی ذخائر ہیں۔ ان ممالک کو ایک باضابطہ معاہدے میں لا کر امریکہ اُن فوائد تک چین کی رسائی روک کر اس کے بجائے انہیں اپنے اتحادیوں میں بانٹ سکتا ہے۔

پاکس سیلیکا کسے بااختیار بنائے گا؟

مغرب مخالف ماہرین کے نزدیک حقیقت میں یہ ایک شراکت داری سے زیادہ سام راج کا دیگر ممالک کے وسائل پر قبضہ اور مغربی نوآبادیاتی طاقتوں کی نئی مہم جوئی ہے۔ واشنگٹن کے شراکت دار خام مال، لاجسٹکس، علم اور لیبر فراہم کریں گے لیکن امریکہ فی الحال دنیا کا 75 فیصد کمپیوٹر ڈیٹا کنٹرول کرتا ہے … یعنی وہ پروسیسنگ طاقت جو بڑے پیمانے پر اے آئی ماڈل بنانے، تربیت دینے اور چلانے کے لیے ضروری ہے۔ آخر امریکی کمپنیاں ہی یہ بنیادی طاقت کنٹرول کرتی ہیں اور وہی فیصلہ کریں گی کہ اِسے کیسے استعمال کیا جائے۔

نمبر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ’’باہمی انحصار‘‘ پہلے ہی کس قدر یکطرفہ اور ناہموار ہے۔ دنیا بھر کے اے آئی سپر کمپیوٹرز کی کارکردگی کا تقریباً 75 فیصد حصہ امریکہ میں ہے، 15 فیصد چین کے پاس اور یوں یورپی یونین سمیت باقی پوری دنیا کے پاس بمشکل 10 فیصد حصہ بچتا ہے۔ صرف 2026 ء میں امریکی کمپنیوں نے اے آئی سے متعلق اخراجات کا650 ارب ڈالر منصوبہ بنا رکھا ہے۔ مقابلے میں یورپی یونین کا کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانے والا کثیر سالہ پروگرام محض 47 ارب یورو کا ہے۔ اس عدم توازن پر قائم کوئی بھی ’’اتحاد‘‘ شراکت داروں کے درمیان کام کی تقسیم نہیں بلکہ یہ ایک باجگزاری (خراج دینے والا) نظام ہے۔

اگرچہ نظریاتی طور پر یہ کمپیوٹر ڈیٹا پاکس سیلیکا کے سبھی دستخط کنندگان کو دستیاب کرایا جائے گا لیکن معاہدے کے الفاظ انتہائی احتیاط سے طے کیے گئے ہیں تاکہ انہیں یاد دلایا جا سکے ، مکمل رسائی کی ضمانت نہیں ۔ اُس میں کہا گیا ہے ’’امریکہ قابل اعتماد شراکت داروں کو ان تمام تکنیکی ترقیوں تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش کرے گا جو اے آئی معیشت کو تشکیل دے رہی ہیں۔‘‘گویا واشنگٹن صرف کوشش کرنے کا پابند ہے، عمل کرنے کا نہیں۔

چین کے خلاف واشنگٹن کی اِس نئی سرد جنگ کے معاہدے میں جکڑے ہونے سے یورپی ممالک نقصان میں جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر وہ امریکی کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر سے محروم کر دیے جائیں تو بیجنگ کی طرف نہیں دیکھ سکتے۔ اسی طرح یورپی یونین کے خود ساختہ توانائی بحران کو لیجیے جو برسلز کی جانب سے سستی روسی گیس کے بدلے مہنگی امریکی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد کے سودے کا نتیجہ ہے ۔اُس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ کبھی اپنے طور پر توانائی انفراسٹرکچر کو بنانے اور چلانے کے قابل نہیں ہو سکے گا۔

نیا سامراجی نظام؟

حال ہی میں دنیا کو دکھایا گیا ہے کہ جب سامراجی مرکز ( منبع ِطاقت) ناتا توڑنے کا فیصلہ کر لے تو کیا ہوتا ہے۔ 13 جون کو شام ساڑھے پانچ بجے امریکی کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک کی طرف سے ایک خط نے، جس میں ایکسپورٹ کنٹرول قانون کے تحت فوجداری سزاؤں کی دھمکی دی گئی تھی،مقامی کمپنی اینتھروپک کو دنیا بھر کے صارفین کے لیے اپنے سب سے جدید اے آئی ماڈل، فیبل 5 اور میتھوس 5 معطل کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس سے پہلے نہ کوئی وارننگ دی گئی، نہ ہی اپیل کا کوئی عمل شامل تھا، نہ کوئی قانونی ڈھانچہ اور نہ ہی کوئی تکنیکی ثبوت فراہم کیا گیا ۔

اینتھروپک نے خود ہی عوامی سطح پر حکومت کی منطق سے اختلاف کیا اور یہ نکتہ اٹھایا کہ جس ’’جیل بریک‘‘ (سیکیورٹی توڑنے کی) صلاحیت کا حوالہ دیا گیا ، وہ دیگر فعال امریکی اے آئی ماڈلز میں بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود چند گھنٹوں کے اندر حکومتی حکم پر عمل درآمد کر دیا گیا۔آخر 30 جون کو رسائی دوبارہ بحال کی گئی اور یہ بحالی بھی اتنی ہی من مانی تھی جتنی کہ اس کی منسوخی ۔ سترہ دن تک یورپ سے لے کر خلیج اور بھارت تک کی حکومتوں… جنہوں نے امریکی اے آئی ماڈلوں کو عوامی خدمات اور ترقیاتی حکمت عملیوں کا حصہ بنایا ہوا تھا،یہ سبق سیکھا کہ ’’فرنٹیر ایکو سسٹم‘‘ تک اُن کی رسائی واشنگٹن کی صوابدید کے سوا کسی مضبوط بنیاد پر قائم نہیں ۔ ’’کلِ سوئچ‘‘(بند کرنے کا بٹن) کوئی استعارہ نہیں ، اس کا عملی استعمال کیا جا چکا تھا۔

مزید براں سیمی کنڈکٹرز (چپس) کے معاملے میں چین کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ کسی بھی حریف کے خلاف امریکی سامراج کی طے شدہ پالیسی ہے۔ 2018 ء سے امریکی ایکسپورٹ کنٹرولز کے پے در پے اقدامات نے چین کو جدید چپس، چپس بنانے والے آلات اور یہاں تک کہ انہیں ڈیزائن کرنے والے سافٹ ویئر سے بھی محروم رکھنے کی کوشش کی ہے۔یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے نیدرلینڈز اور جاپان جیسے اتحادیوں کو بھی زبردستی اپنے ساتھ ملایا گیا۔

اِس عمل سے دنیا والوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ امریکہ ہائی ٹیکنالوجی میں مسابقت ہرگز برداشت نہیں کرے گا، خواہ آزاد منڈیوں (فری مارکیٹس) کے بارے میں اس کا بیانیہ کچھ بھی ہو۔ تاہم ان پابندیوں نے اپنے مطلوبہ نتیجے کے برعکس اثر دکھایا: ہواوے مقامی طور پر تیار کردہ جدید چپس کے ساتھ واپس آگیا، چین میں اینویڈیا کی اے آئی چپس کی فروخت رک گئی کیونکہ مقامی کمپنیوں نے برتری حاصل کر لی اور اب واشنگٹن کے تھنک ٹینکس بھی یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ’’چپ وار‘‘ (چپ کی جنگ) ناکام ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی سے محروم کرنا سامراجی ہتھیار ہے اور خود انحصاری ہی اس کا واحد آزمودہ دفاع ۔

چین اور روس کا ردعمل

بیجنگ نے پاکس سیلیکا پر براہ راست کوئی موقف اختیار نہیں کیا بلکہ چینی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور اس کے شراکت داروں سے مطالبہ کیا ’’ وہ مارکیٹ اکنامی (آزاد معیشت) اور منصفانہ مقابلے کے اصولوں پر کاربند رہیں اور عالمی سپلائی چین کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں۔‘‘وزارتِ خارجہ نے ٹیکنالوجی کی سپلائی چینوں سے چین کو باہر کرنے کی امریکی کوششوں کی براہ راست مذمت کی ۔اُن میں میں امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کا ’’چپ 4 الائنس‘‘بھی شامل ہے۔ بیجنگ نے چپس بنانے والے ممالک کے اِس اتحاد کو واشنگٹن کی طرف سے ’’عالمی سیمی کنڈکٹر کی پیداوار اور سپلائی چین پر تسلط قائم کرنے‘‘ کی ڈھٹائی پر مبنی ایک کوشش قرار دیا۔

روسی حکومت نے بھی پاکس سیلیکا پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن ماسکو ممکنہ طور پر ایسے کسی بھی اقدام کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اس کے اہم ترین تجارتی شراکت دار (چین) کے مقابلے میں مغرب کی طاقت میں اضافہ کردے۔ اس معاہدے سے نایاب دھاتوں و معدنیات اور توانائی تک روس کی اپنی رسائی کو کوئی خطرہ نہیں ۔ روسی مائننگ کمپنی کے سی ای او آندرے ٹرینن نے گزشتہ سال لکھا تھا’’ روس کا خودمختار و مربوط اے آئی انڈسٹری کی طرف سفر لازمی طور پر اُس کے قطب شمالی میں موجود منفرد نایاب دھاتی ومعدنی ذخائر اور ملکی منجمد شمالی علاقوں میں سرمایہ کاری زونز کے قیام سے شروع ہونا چاہیے۔‘‘

پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

 کچھ عرصے سے پاکستان کی بھرپور سعی ہے کہ تمام عالمی طاقتوں سے تعلقات خوشگوار اور تعمیری رکھے جائیں۔ مگر پاکس سلی کا کے اِس دور میں یہ عمل پیچیدہ ہو رہا ہے۔ اب دوستی یا شراکت داری صرف تیل کے معاہدوں یا فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ اب سوال یہ ہے کہ معیشتوں کے ڈیجیٹل ڈھانچے کون بنائے گا اور کون اس پر کنٹرول حاصل کرے گا: یعنی کلاؤڈ سسٹمز ، اے آئی ماڈلز، ڈیٹا کی خودمختاری کے فریم ورکس اور سیمی کنڈکٹرز پر انحصار۔

اصل اور گہری تبدیلی ’’طاقت‘‘ کی تعریف میں پوشیدہ ہے۔ تیل کے دور میں طاقت کا اندازہ بیرلوں، ذخائر اور بحری تجارتی راستوں سے لگایا جاتا تھا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اِس ابھرتے دور میں طاقت کا ناپ تول کمپیوٹنگ کی صلاحیت ، الگورتھم کی مہارت اور ڈیٹا کے ماحولیاتی نظام پر کنٹرول سے کیا جا رہا ہے۔یہ تبدیلی انحصارکے معنی بھی بدل رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب توانائی پر انحصار کا مطلب تیل کی درآمدات پر بھروسہ کرنا تھا۔ اب ڈیجیٹل انحصار کا مطلب بیرونی اے آئی سسٹمز، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور سیمی کنڈکٹر کی سپلائی چینوں پر انحصار کرنا ہے۔اس تبدیلی کا نتیجہ کسی ایک نظام سے دوسرے نظام میں صاف ستھری منتقلی کی صورت نہیں بلکہ تقسیم اور بکھراؤ کی شکل میں نکل رہا ہے۔

ایک واحد اور متحد نظام کے بجائے دنیا اب ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے والے تکنیکی بلاکس کی طرف بڑھ رہی ہے:

٭ پہلا امریکی قیادت میں قائم اے آئی اور سیمی کنڈکٹر کا نظام۔

 ٭ دوسرا چین کے زیرِ اثر صنعتی اور ڈیجیٹل متبادل نیٹ ورک۔

 ٭تیسرا خلیجی خطّے کا نظام جو ان دونوں نظاموں کے درمیان کام کرنے کی کوشش کر رہا ہے اورپاکستان بھی اسی کا حصہّ بن چکا۔

   اس بکھراؤ نے باہمی انحصار ختم تو نہیں کیا تاہم اُسے سیاسی طور پر مزید حساس اور تزویراتی طور پر کمزور بنا ڈالا ہے۔آنے والی دہائیوں کا فیصلہ کن معرکہ شاید تیل کے کنوؤں یا روایتی فوجی برتری پر نہیں بلکہ پوشیدہ انفراسٹرکچر پر لڑا جائے گا: یعنی الگورتھمز، ڈیٹا سینٹر، چپس اور کلاؤڈ سسٹمز پر۔

   اس لحاظ سے پاکس سلی کا کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک انتباہ (وارننگ) ہے۔ عالمی طاقت کی بنیادیں اب نظر آنے والی اشیا(جیسے تیل ) سے منتقل ہو کر کمپیوٹیشن (کمپیوٹنگ) کے چھپے ڈھانچوں کی طرف جا رہی ہیں۔ اِس عبوری دور میں امریکہ، چین اور خلیجی ممالک بشمول پاکستان محض ایک تکنیکی دوڑ کے شریک ہی نہیںبلکہ ایسے نئے عالمی نظام کے نقوش وضع کرنے میں محو ہیں جس کے قوانین ابھی لکھے جا رہے۔