پاکستان کے داخلی معاملات کے حل کے لیے زیادہ فہم و فراست،بردباری،تحمل ،برداشت اورسیاسی پختگی و حکمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں معاملات کے حل کے لیے جذباتیت یا ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت اور بات چیت سمیت ایک دوسرے کی قبولیت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
یہ سوال عمومی طور پر اہل دانش کی نجی مجالس میں زیر بحث آتا ہے کہ اگر ہم اپنی دانش کو بنیاد بنا کر عالمی دنیا کے معاملات میں ایک بڑے ثالثی یا سہولت کاری کے کردار سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو روکنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے داخلی معاملات میں موجود ٹکراؤ میں یہ حکمت عملی اختیار کرنے کو تیارنہیں۔کیوں ہم اپنے مسائل کا حل بہتر حکمت عملیوں کی بجائے روایتی طریقہ کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں۔کیا اس انداز میں جو حکمت عملی ہم اختیار کررہے ہیں وہ ہمارے حق میں نتیجہ خیز ہوسکے گی یا پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ خرابیاں پیدا کرنے کا سبب بن کر ہمیں الجھا کر رکھ دیں گے۔
اس وقت سیکیورٹی کے تناظر میں خرابی کی نشاندہی ہو رہی ہے اور اس سے نبٹنے کی حکمت عملی سے ہم دور کھڑے ہیں۔ اس حکمت عملی پر مختلف سیاسی جماعتوں کا موقف حکومت کے برعکس ہے۔ پی ٹی آئی ، تحریک تحفظ آئین میں شامل سیاسی گروپ اور جماعت اسلامی بار بار حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ مسئلہ کا سیاسی حل نکالے اور بات چیت کو بنیاد بنا کر آگے بڑھے۔ پیپلز پارٹی بھی کسی حد تک ایسا ہی کہہ رہی ہے ، کیونکہ ہم ایک طرف جہاں داخلی محاذ پر سیکیورٹی اور دہشت گردی سے دوچار ہیں تو وہیں ہمیں سیاسی عدم استحکام ،معاشی عدم استحکام سمیت گورننس کے سنگین بحران کا سامنا ہے۔
دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد ملک میں ہم معاشی ترقی یا معاشی سرمایہ کاری کے امکانات کوبھی محدود دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی اور معاشی استحکام ،داخلی گورننس ،سیکیورٹی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی چیزیں ہیں اور ہم ان سب کو الگ الگ نہیں دیکھ سکتے۔کچھ لوگ یا ماہرین سیاسی سطح پر جو معاملات ہیں یا جو الجھاو یا ٹکراو ہے اس کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
یہ حکمت عملی ہمارے مسائل کا حل نہیں اور نہ ہی ہم اس حکمت عملی سے اپنا علاج ممکن بناسکیں گے۔سیاسی استحکام کو پیدا کرنا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔اس لیے حکومت، اسٹیبلیشمنٹ اور پی ٹی آئی کے باہمی مذاکرات وقت کی ضرورت ہے۔اس میں ان سب کو اپنے اپنے موقف میں لچک دکھانا ہوگی اور دشمنی کی سیاست یا کسی کو دیوار سے لگانے کی پالیسی درست نہیں ہے۔
اس پالیسی کی وجہ سے قومی سیاست میں ایک مکمل ڈیڈ لاک ہے جو سیاسی حالات کو سدھارنے کی بجائے مسلسل بگاڑنے کا سبب بن رہا ہے۔حالیہ دنوں میںمولانا فضل الرحمن کے شہدا اور فوجی جوانوں کے بارے میں منفی بیانات سے بھی تلخی دیکھنے کو مل رہی ہے ،یقینا مولانا فضل الرحمن غیر محتاط ہوگئے اور ان کو لفظوں پر احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور کھل کر کہتے کہ ان کا مقصد یہ نہیں تھا۔اصل میں ہم سب کو حدود کا خیال کرنا ہوگا ۔ کسی کو بھی قومی سلامتی اور قومی مفادات کے حوالے سے حدود سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ داخلی نظام کی خرابی یہ ہے کہ کوئی بھی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کے لیے تیار نہیں جو انتشار کا سبب بن رہا ہے۔
بداعتمادی کا ماحول بھی سنجیدہ مسئلہ ہے اور جب ہم ایک دوسر ے پر ہی اعتبار نہیں کریں تو کیسے بات چلے گی۔اصل میں مولانا فضل الرحمن ،سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پالیسی حکومت کی پالیسی سے مختلف ہے۔ لیکن حکومت بھی ان سیاسی شخصیات اور ان کے زیر کنٹرول جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سیاسی اور پارلیمانی یا انتخابی سیاست میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن یہ اختلاف جمہوری ہونے چاہیں نہ ملک کے مفادات کے حوالے سے ۔کشمیر ایک حساس معاملہ ہے اور اس کی حساسیت کے پیش نظر ہمیں زیادہ احتیاط سے کام لینا ہوگا۔پہلے ہی ہم بلوچستان اور خیبر پختونخوامیں افغانستان اور بھارت کی سازشوں کا شکار ہیں۔ ایسے میںکشمیر کے حالات کا خراب ہونا مزید نئے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی بارش کسی بھی سطح قومی مفاد میں نہیں ہے۔
بھارت اور افغانستان کا باہمی گٹھ جوڑ خود ہمارے لیے مسائل پیدا کررہا ہے اور ان معاملات کی بہتری کے امکانات بھی محدود نظر آتے ہیں۔اس لیے اگر بھارت اور افغانستان کی سازش اور مداخلت سے نمٹنا ہے تو بھی ہمیں داخلی سطح پر سیاسی اور معاشی یا سیکیورٹی بنیادوں پر خود کو مضبوط بنانا ہوگا۔اسی طرح گورننس سے جڑے مسائل بھی ہماری داخلی سیاست کوخراب کررہا ہے لیکن ہم کسی بھی سطح پر اپنی مجموعی گورننس کے نظام کی درستگی کے لیے تیار نہیں۔خود گورننس کی ناکامی نے جہاں سیاسی اور معاشی مسائل میں اضافہ کیا ہے وہیں سیکیورٹی حالات کی خرابی کا تعلق بھی گورننس کے نظام سے ہے جو فرسودہ اور روائتی نظام کے ساتھ کھڑا ہے ۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا داخلی نظام سب سے زیادہ سنگین ہے اور اس کی وجہ سے ہماری علاقائی سیاست کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ہمیں یہ تجزیہ درکار ہے کہ ہم سے کیا کوئی غلطیاں ہورہی ہیں اور ان غلطیوں کا سیاسی ازالہ کیسے ممکن ہوسکے گا۔ہمیں جذباتی سیاست،فیصلے اور انا پرستی اور دشمنی کے کھیل سے باہر نکل کر ریاست اور قومی مسائل کو ایک بڑے فریم ورک میںدیکھنا ہوگا جو ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دے سکے۔کیونکہ اگر ہم نے سیاست میںبات چیت اور مفاہمت کے دروازے بند کرنے ہیں اور طاقت کی بنیاد پر ہی آگے بڑھنا ہے تو پھر داخلی مسائل کا حل کیسے ممکن ہوسکے گا۔پاکستان ایک مشکل جگہ پر کھڑا ہے اور جہاں اس کو غیر معمولی حالات سے گزرنا پڑرہا ہے ۔
ان غیر معمولی حالات میں باہر نکلنے کا راستہ بھی غیر معمولی اقدامات سے جڑا ہوا ہے لیکن یہ کام اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک ہم خود اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں ہوںگے۔اس وقت جہاں سیکیورٹی سنگین بحران ہے وہیں معاشی حالات کی درستگی کے لیے ہم کو ایک بڑے روڈ میپ کی ضرورت ہے ۔اس وقت جو ہمارے داخلی معاشی حالات ان کی درستگی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ داخلی اور خارجی سطح کی سرمایہ کاری کا ہے۔لیکن ہم اس کے مقابلے میں قرضوں پر بوجھ کی معیشت چلارہے ہیں اورایسے میں بڑے معاشی فیصلوں کے بغیر ہم معاشی حالات کی بحالی کو ممکن نہیں بناسکیں گے۔
اس لیے حکمران طبقہ سر جوڑ کر بیٹھے اور محسوس کرے کہ ہمارے داخلی مسائل کی نوعیت کی اہمیت زیادہ سنجیدہ اور بڑا مسئلہ ہے۔ریاست، حکومت، سیاست،جمہوریت ،آئین اور قانون کے درمیان باہمی تعلق کو بنیاد بنا کر ہی داخلی بحران سے نمٹا جاسکے گا۔
اسی طرح داخلی سیاست کا مفاد عام لوگوں کو تحفظ دینے سے جڑا ہواہے اور جب لوگ قومی سطح پر مضبوط ہوںگے تو پھر ہی لوگ قومی داخلی سیاست پر اعتبار اور بھروسہ کرتے ہیں۔اس لیے ہماری قومی سیاست اور قومی سیاست دانوں سمیت دیگر افراد کو قومی سطح پر داخلی سیاست کے لیے کچھ بڑے فیصلے کرنے ہونگے۔ ذاتیات کی سیاست کی بجائے ریاستی مفاد ات کو ترجیح دینی ہوگی اور طے کرنا ہوگا کے کون سے مفادات ریاست کے مفاد کے لیے اہم ہے۔