سندھ سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ مزدوروں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کا ادارہ ہے۔ اس کے تحت سائٹ میں منگوپیر روڈ پر ایک اسپتال قائم ہے۔ سائٹ اور اطراف کے علاقوں کے مزدور برسوں سے یہاں علاج کراتے آ رہے ہیں۔ اس اسپتال میں گزشتہ سال پیدا ہونے اور علاج کرانے والے 120سے زیادہ بچے HIV Positiveجیسے سنگین مرض کا شکار ہوئے۔ روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اسپتال کے اطراف کی آبادی میں بھی ایڈز کے پھیلنے کی تصدیق ہوگئی ہے۔
اسپتال کی انتظامیہ نے پہلے اس سانحے کو چھپانے کی کوشش کی۔ ایک مزدور کارکن نے صوبائی محتسب کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عرضداشت بھیجی۔ صوبائی محتسب نے فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہاں پیدا ہونے والے نومولود بھی اس مرض میں مبتلا تھے جب کہ علاج کے لیے داخل ہونے والے بچے بھی ایچ آئی وی پوزٹو نکلے۔ انسانی حقوق کے معروف وکیل طارق منصور نے سندھ ہائی کورٹ سے اس پر رجوع کیا جہاں انتظامیہ کو اقرار کرنا پڑا کہ اسپتال میں 100 سے زیادہ مریض ہیں جن میں اکثریت انتہائی چھوٹے بچوں کی ہے جو اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جب اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر شور مچا تو صوبائی وزیر محنت سعید غنی کو اس بات کو تسلیم کرنا پڑا ۔
حکومت سندھ نے ایک کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات کی بنیاد پر ایم یس سمیت 9وارڈ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کو معطل کیا گیا۔ ایچ آر سی پی نے اپنی ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی، اس کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملہ کو بہت کم تعداد میں سرنج دی جاتی تھیں۔ بچہ وارڈ کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملہ نے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے انجکشن کے لیے استعمال ہونے والی سرنج سے ایک مریض کو انجکشن لگانے کے بعد اس کو ضایع کرنے کے بجائے دیگر مریضوں کو بھی اسی سرنج سے انجکشن لگانے شروع کیے، یوں کئی بچوں کے علاوہ ان کی ماؤں کو بھی استعمال شدہ سرنج سے انجکشن لگائے گئے۔
اسپتال میں ایچ آئی وی پازیٹو پھیلنے کی خبریں جب اخبارات میں شائع ہوئیں تو بھی انتظامیہ کو ہوش نہ آیا، وہ اسی روش پر قائم رہی ۔ اس طرح ایچ آئی وی پازیٹومریضوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں ، نجی ٹی وی چینل پر نشر ہوئیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں مگر سندھ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے بورڈ میں بھی بحث ہوئی اور ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی گئی، اس کمیٹی کی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی۔
اس رپورٹ کے مطابق اسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی عملہ نے بنیادی غلطیاں کیں اور وبائی امراض کے انسداد کے پروٹوکول کی پابندی نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے 12 کے قریب ارکان کے خلاف نظم و ضبط اور قوانین کی خلا ف ورزی پر کارروائی کی گئی ہے۔ وزیر محنت سعید غنی نے اپنی معروضات میں وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ پہلے ایچ آئی وی پازیٹو کے 6 کیس 23 اکتوبر 2023ء کو رپورٹ کیے گئے تھے، لہٰذا سندھ لیبر ڈپارٹمنٹ نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اسپتال کا معائنہ کیا۔ اس تحقیقاتی کمیٹی نے مختلف وارڈز اور آپریشن تھیٹر وغیرہ کا معائنہ کیا۔
کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اسپتال میں طبی مواد کے ٹھکانے لگانے کا جدید نظام موجود نہیں اور اسپتال کی انتظامیہ اس ضمن میں نافذ کردہ SOPs کی پابندی نہیں کرتی۔ مریضوں اور سائٹ میں قائم کارخانوں کی انتظامیہ اور سائٹ کے عہدیداران نے اسپتال میں عملے کی غفلت سے پیدا ہونے ولی صورتحال پر واویلا کیا تو حکومت سندھ کو اس اہم معاملے پر توجہ دینی پڑی۔ اس رپورٹ کی روشنی میںمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے تبادلہ، اسپتال میں آئسولیشن وارڈ کے قیام اور Antiretroviral Therapy Centreکے قیام کا فیصلہ ہوا۔ اب ساسی کے بورڈ نے 2 ارب روپے کے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا جو مریضوں کے علاج، ان کی تعلیم اور ان کے مسائل کے حل پر خرچ ہوگا۔ اس مقصد کے لیے یہ رقم کسی کمرشل بینک میں انویسٹ کی جائے گی جس سے آنے والے منافع سے مریض بچوں اور ان کے والدین کی نگہداشت ہوگی مگر سندھ حکومت میں پائی جانے والی غیر شفاف فضاء میں یہ سب کچھ کیسے ہوگا اس سوال کا جواب آنا باقی ہے۔
ایچ آئی وی پازیٹو کا مرض پورے سندھ میں پھیل رہا ہے۔ ایک معاصر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج میں ARTسینٹر میں جون کے مہینہ میں ایچ آئی وی پازیٹو کے 73 مریضوں کا اندراج کیا گیا۔ اس سینٹر میں روزانہ 20 مریض فالواپ کے لیے آتے ہیں۔ اس سینٹر میں بچوں کے علاج کا ماہر ڈاکٹر اور جونیئر ڈاکٹروں کے بغیر کام کررہا ہے۔ ان بچوں کو اس سینٹر میں ریفر کیا جاتا ہے اور ان میں سے بیشتر مریضوں کی عمریں 5ماہ سے 8سال کے درمیان ہیں۔ اس سینٹر کے انچارج کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں سے 52 فیصد لڑکے اور 48 لڑکیاں ہیں۔
اس سینٹر کے انچارج کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروںکی عدم توجہ، آلودہ خون کی ڈرپس، انجکشن کی سرنج اور آلودہ آپریشن کے آلات اور لڑکوں کے ختنہ کے لیے آلودہ آلات کے استعمال سے یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (P.M.A) نے اس غفلت کو سنگین قرارہوئے کہا ہے کہ سندھ میں صحت کا نظام ناکارہ ہوچکا ہے۔ اس خراب صورتحال کی ذمے داری محکمہ صحت کے غیر شفاف نظام پر عائد ہوتی ہے۔ پی ایم اے کے اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سندھ کی حکومت نے صحت کے بنیادی مراکز کو غیر سرکاری تنظیموں کے سپرد کرکے غریب عوام کے مصائب میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایچ آئی وی پازیٹو کا مرض صرف دیہی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ شہری علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے اور کراچی کے ایک اسپتال میں 70 سے زیادہ بچوں کا اس مرض میں مبتلا ہونا اس کی بدترین مثال ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سندھ کی حکومت کا صحت کا بجٹ 393.16 بلین روپے ہے۔ اس رقم کا ایک حصہ چند بڑے اسپتالوں اور غیر سرکاری تنظیموں N.G.Os کے پروجیکٹ پر خرچ ہوتا ہے۔ سندھ کی حکومت امراض کو پیدا ہونے سے روکنے کے اہم ترین معاملہ پر توجہ نہیں دیتی۔ مرض کو پھیلاؤ سے روکنے کے لیے صاف پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی، صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے ادارہ کا فعال ہونا ضروری ہے۔
محکمہ صحت کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ بااثر طاقتیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے تقرر کے لیے بھاری نذرانے وصول کرتی ہیں، یوں ڈی ایچ او اس تقرری کے دوران دیے جانے والے نذرانہ سے زیادہ رقم وصول کرنے پر اپنی توانائی خرچ کرتا ہے اور اپنے بنیادی فرائض پر توجہ نہیں دیتا جس کی بناء پر ایچ آئی وی پازیٹو ، Hepatitis C، ٹائیفائیڈ اور ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے امراض کینسر، گردے، جگر اور دل کے امراض وغیرہ پھیل رہے ہیں، اگر ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہوجائے تو ضروری ہے کہ جس ڈی ایچ او کے علاوہ میں ایچ آئی وی پازیٹو جیسا مرض پھیلے اس کے خلاف فوراً کارروائی کی جائے اور ذمے داروں کا سخت احتساب ہونا چاہیے۔