ماضی بھلانا ناممکن

وقت نے تو یہی ثابت کیا ہے کہ کہ دور بدلنے پر حکمرانوں کے ساتھ بھی وہی ہونا ہے جو وہ آج اپنے سیاسی مخالفین کے لیے کر رہے ہیں۔


[email protected]

سیاسی رہنماؤں کے لیے ہر موقع پر سیاست کرنا اور اپنے ماضی یا حال کو فراموش کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور وہ الزام تراشی کی سیاست چھوڑ کر مسائلکے حل کے لیے بھی تیار نہیں۔ ماضی کی غلطیاں اور اقدامات فراموش کرکے آگے بڑھا جا سکتا ہے ۔ مگر ایسا نہیں ہو رہا ۔ جیلوں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ تینوں بڑی پارٹیوں کے رہنما جیلیں بھگت چکے ہیں۔ (ن) لیگ اور پی پی نے پی ٹی آئی حکومت میں جیلوں کے حالات کا سامنا کیا اور اب پی ٹی آئی کے بانی اور اسیر رہنما جیلیں بھگت رہے ہیں۔

حکومتوں کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اپنے دور میں جیلوں میں بہتری کے لیے اصلاحات کرتے مگر کسی نے جیلوں کی اصلاحات کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ کسی نے یہ نہیں سوچا گیا کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا، ماضی کو بھول کر مستقبل کے لیے ہی ایسے فیصلے کر لیں کہ سیاستدانوں کو مستقبل میں جیلوں سے متعلق وہ شکایات نہ ہوں جو اب پی ٹی آئی رہنماؤں کو درپیش ہیں۔

سیاست کا دوسرا نام جیلیں ہے جہاں ماضی کے ہر پارٹی کے رہنماؤں نے سختیاں برداشت کیں اور آیندہ بھی انھیں ہی کرنی ہیں۔ ماضی میں پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں میں ایک دوسرے سے انتقام لیے جاتے رہے جس کے بعد پی ٹی آئی دور میں دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کو احتساب و کرپشن کے مبینہ الزامات میں جیلوں میں رکھا گیا اور 2022 کے بعد اب پی ٹی آئی والے جیلوں میں پڑے ہیں اور شکایات ہو رہی ہیں کہ انھیں جھوٹے مقدمات میں سزائیں دلا کر جیلوں میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے جو کچھ کیا گیا، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

وقت نے تو یہی ثابت کیا ہے کہ کہ دور بدلنے پر حکمرانوں کے ساتھ بھی وہی ہونا ہے جو وہ آج اپنے سیاسی مخالفین کے لیے کر رہے ہیں۔ اس ملک میں اب تک یہی ہوتا آیا ہے اور فرق صرف یہ ہے کہ ہر دور میں جیلیں سیاستدانوں کا ہی مقدر بنی ہیں اور غیر سیاسی حکمران اور بیورو کریٹس محفوظ ہیں۔ تینوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے اقتدار کے نشے میں کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ جیلوں کے لیے قانون و آئین کے تحت بہتری لائیں۔

سزا یافتہ اسیروں کو قانونی حقوق دیں کیونکہ جیلیں بھی انسانوں کے لیے بنی ہیں مگر وہاں اسیروں سے غیر انسانی اور غیر قانونی سلوک معمول بنا ہوا ہے مگر مستقبل کے اسیروں کو کوئی فکر نہیں۔ماضی میں پنجاب کے ایک وزیر جیل خانہ جات نے اپنے دور میں یہ سوچ کر بیرکوں میں پنکھے لگوائے تھے کہ ممکن ہے وزارت کے بعد انھیں بھی جیلوں میں آنا پڑے مگر موجودہ حکومتوں کے ذمے داروں کو سابق وزیر جیسا مثبت خیال بھی نہیں آ رہا جو ضرور آنا چاہیے۔

 وزیر اعلیٰ کے پی کو اپنے صوبے کی جیلوں کی بجائے پنجاب کی اڈیالہ جیل یاد آتی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے جب کہ انھیں کہنا چاہیے کہ اصلاحات کا آغاز میں اپنے صوبے کے پی سے کرتا ہوں۔ جیلوں میں عام قیدی ہوں یا سیاسی قیدی قانون کے مطابق مراعات کا حصول ہر ایک کا حق ہے اور کسی کے ساتھ بھی کسی بھی جیل میں غیر قانونی سلوک نہیں ہونا چاہیے نہ کسی کو قید تنہائی میں رکھنا چاہیے مگر ملک بھر کی جیلوں میں کسی بات کو جواز بنا کر غیر قانونی سلوک ہو رہا ہے۔ عام قیدیوں کی ملاقاتوں کے نہ ہونے کی کہیں کوئی شکایت نہیں اور جیلوں کا عملہ رشوت لے کر عام قیدیوں کی ملاقاتیں بھی کراتا ہے اور سہولیات بھی دیتا ہے مگر حکومتی خوف سے سیاسی قیدیوں کو وہ مراعات ہی نہیں دیتا جو ان کا قانونی حق ہے۔

سیاسی قیدیوں کے ساتھ ایسی شکایات ماضی میں بھی رہی ہیں اور جیلوں میں بلاامتیاز اصلاحات نہ ہوئیں تو آیندہ بھی ہوتی رہیں گی اس لیے سیاسی حکمرانوں کو اپنے مستقبل کے لیے ہی جیلوں میں اصلاحات لانے کے اقدامات ابھی کر لینے چاہئیں تاکہ دور بدلنے پر کسی کو ایسی شکایات نہ ہوں اسی وجہ سے سیاستدانوں کا فائدہ ہے۔