وادی چترال میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ میں ایک اور سنگِ میل عبور

خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے زیرِ اہتمام پھاگرام پاس تا گولین ٹریک پاکستانی مرد و خواتین نے کامیابی سے مکمل کیا


ویب ڈیسک July 22, 2026

خیبرپختونخوا حکومت نے وادی چترال میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ میں ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا، جہاں خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے زیرِ اہتمام پھاگرام پاس تا گولین ٹریک پاکستانی مرد و خواتین ٹریکرز نے کامیابی سے مکمل کیا۔

معاونِ خصوصی برائے سیاحت ملک عدیل اقبال کی ہدایات پر منعقدہ اس مہم میں پاکستانی مرد و خواتین ٹریکرز پر مشتمل ٹیم نے حصہ لیا، جبکہ 5050 میٹر بلند پھاگرام پاس کی چوٹی پہلی بار مرد ٹریکرز کے ہمراہ خواتین ٹریکرز نے بھی سر کی۔

دورانِ ٹریکنگ آسٹریا کے کوہ پیما جارج کرونبرگر کی یادگاری تختی بھی دوبارہ دریافت کی گئی۔ جارج کرونبرگر 31 جولائی 1975 کو انہی پہاڑوں میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔ چوٹی سر کرنے والوں میں کامران خان (پہلے)، مہروش اختر، ثمر خان، نعمان خان، نورالرحمان، ذوہیب خان، عمر خطاب شیرانی، سونیا بابر، آمنہ شبیر اور مدیحہ سید شامل تھے۔

ہندوکش پہاڑی سلسلے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر پھاگرام پاس تا گولین ٹریکنگ کامیابی سے مکمل کی گئی۔ معاونِ خصوصی ملک عدیل اقبال کی ہدایات پر ٹریکرز کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی صوبے کے دور افتادہ پہاڑی راستوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے, ٹریک کا راستہ برفانی گلیشیئرز، کھڑی برفیلی ڈھلوانوں اور غیر مستحکم پتھریلے راستوں پر مشتمل تھا، جبکہ اس مہم میں چترال کی تین بہنیں مہروش اختر، سمیل روز اور مدھو شالا اختر بھی شامل تھیں۔