معاشرے سے تحقیق ختم ہو جائے تو ذہنی و معاشی غلامی کا دور شروع ہوجاتا ہے، گورنر سندھ

اپنے محقیقین کی وجہ سے ہم نے معرکہ حق جیت لیا اور خود سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی، نہال ہاشمی


اسٹاف رپورٹر July 22, 2026

کراچی:

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ جب معاشرے سے تحقیق ختم ہوجاتی ہے تو ذہنی اور معاشی غلامی کا دور شروع ہوجاتا ہے۔

ایچ ای سی این ای ڈی یونیورسٹی میں سائنسدانوں اور محققین کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ہمارے محقیقین ہمارے گمنام سپاہی ہیں جو ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل پر کام کررہے ہیں ۔ اپنے محقیقین کی وجہ سے ہم نے معرکہ حق جیت لیا اور خود سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی ۔

تقریب کا اہتمام ایچ ای سی اسلام آباد کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کا موضوع ’ممتاز پاکستانی محقیقین اور سائنسدانوں کی خدمات کا اعتراف ‘ تھا۔

تقریب سے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد ، وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ اسماعیل راہو و دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ جامعات کے ممتاز محقیقین کو تعارفی اسناد دی گئیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نہال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کی معیشت اور دفاع سائنسدان چلارہے ہیں۔ ہمیں ہر روز انرجی کے نئے نئے مواقع سائنسدان دے رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سائنس کی اہمیت کو محسوس کیا اور پاکستان میں نیوکلیئر پاور پر کام شروع کرایا۔ میاں نواز شریف نے سائنسدانوں کو اہمیت دی، سمندر کے نیچے فائبر آپٹیک کی نیٹ ورکنگ انہوں نے ہی شروع  کرائی۔

گورنر سندھ کا مزید کہنا تھا کہ آج امریکا دنیا پر راج کرتا ہے تو سائنس اور سائنسدانوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایچ ای سی نے محدودوسائل میں 4 ارب روپے ریسرچ کے لیے مختص کیے ہیں ۔ ملک میں 62 ہزار فیکلٹی اراکین میں 40 ہزار پی ایچ ڈیز ہیں۔ ایچ ای سی نے اس سال 149 ریسرچ پروجیکٹ منظور کیے ہیں جبکہ گزشتہ  برس 43 پروجیکٹ ایوارڈ ہوئے تھے ریسرچ کے معاشی و سماجی اثرات آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں نے روزانہ کی بنیاد پر ٹیکنالوجی کو تبدیل کردیا ہے ہمیں اس تبدیلی کے ساتھ چلنا ہے۔ ٹیکنالوجی نے دنیا تبدیل کردی ہے، اکیڈمک انوائرمنٹ کو تبدیل کردیا ہے ۔

ریسرچ میں بھی کچھ ایسا ہوا ہے کہ سائنسدان لیب میں جانے کے بجائے اپنے دفتر میں بیٹھ کر اے آئی سے وہی کام کروارہے ہیں۔ہمیں بطور استاد دیکھنا ہے کہ ہم اپنے طالب علم کے لیے کیا پیش کررہے ہیں؟۔ ہمیں ان کی اسکلز کو مطلوبہ معیار کے مطابق تیار کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر نیاز احمد کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے جامعات کے لیے جو فنڈ مختص کیا اس پر ہم شکر گزار ہیں۔

تقریب سے خطاب میں وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اسماعیل راہو نے کہا کہ ریسرچ کے بغیر ہم لکیر کے فقیر ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب سائنسی تحقیق مشرق میں ہوتی تھی اور مغرب اس کی تقلید کرتا تھا۔ اب ہم تقلید کررہے ہیں اور مغرب ایجادات کررہا ہے۔

تقریب سے ایچ ای سی کے رکن اکیڈمک ڈویژن ڈاکٹر حبیب بخاری اور ایڈوائزر ریسرچ ایچ ای سی محمد علی ناصر نے بھی خطاب کیا۔