یورپی یونین کے بحری مشن ایسپیڈیز نے اسرائیل، امریکا اور سعودی عرب سے منسلک تجارتی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن کے قریب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے راستے سفر سے گریز کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی بحری مشن نے بدھ کو جاری اپنے تازہ انتباہ میں کہا کہ اسرائیل، امریکا اور سعودی عرب سے وابستہ تمام جہازوں کے لیے خطرے کی سطح بلند قرار دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ انتباہ صرف ان جہازوں تک محدود نہیں جو ان ممالک کا پرچم رکھتے ہیں بلکہ ایسے کسی بھی ملک کے جہاز پر بھی لاگو ہوگا جس نے حال ہی میں سعودی عرب کی کسی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو کر سامان لادا یا اتارا ہو۔
یورپی بحری مشن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایسے جہاز حوثیوں کی نظر میں سعودی مفادات سے وابستہ تصور کیے جا سکتے ہیں اور اسی بنا پر حوثی فورسز کا ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔
ایسپیڈیز مشن نے ان جہازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی الیکٹرانک موجودگی کم سے کم رکھیں یعنی ٹریکرز اور خودکار شناختی نظام کی غیر ضروری نشریات محدود کریں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا مشکل ہو۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ باب المندب سے گزرنے والی سعودی جہاز رانی پر ناکہ بندی نافذ کی ہے۔
قبل ازیں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیا ہوا ہے اور بالخصوص امریکا اور اسرائیل سے منسلک کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جب کہ باقی تجارتی جہازوں کے لیے بھی پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ باب المندب کا دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔