جیفری ایپسٹین سزا کے دوران بھی خواتین کا جنسی استحصال کرتا رہا، متاثرہ خاتون

میں 18 برس کی تھی جب مجھے ازبکستان میں ایک ماڈلنگ ایجنٹ نے بہتر مستقبل کا خواب دکھا کر امریکا بلایا


ویب ڈیسک July 22, 2026
بدنامِ زمانہ جنسی اسکینڈل جیفری ایپسٹین کے خلاف متاثرہ خواتین کی نئی گواہی سامنے آگئی؛ ہولناک انکشافات

بدنامِ زمانہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے خلاف ایک اور متاثرہ خاتون نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے قید اور نظر بندی کے دوران بھی نوجوان خواتین کا جنسی استحصال جاری رکھا اور سزا یافتہ ہونے کے باوجود اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

متاثرہ خاتون روزا جیلز نے بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ 2009 میں جب جیفری ایپسٹین کم عمر لڑکی کو جسم فروشی پر مجبور کرنے کے مقدمے میں سزا کاٹ رہا تھا وہ اسی دوران اس کے جنسی استحصال کا شکار بنیں۔

روزا جیلز نے بتایا کہ میں 18 برس کی تھی جب مجھے ازبکستان میں ایک ماڈلنگ ایجنٹ نے بہتر مستقبل کا خواب دکھا کر امریکا بلایا تاہم امریکا پہنچنے کے بعد ان پر ویزا، رہائش اور دیگر اخراجات کا قرض ڈال دیا گیا جس کے باعث وہ مالی طور پر بے بس ہوگئیں۔

متاثرہ خاتون روزا جیلز نے بتایا کہ اضافی آمدنی کے بہانے انھیں ایپسٹین کے دفتر میں استقبالیہ ملازمہ کی نوکری دی گئی جہاں ان کی زندگی کا بھیانک دور شروع ہوا۔

انھوں نے مزید کہا کہ فلوریڈا کے پام بیچ میں پہلی ملاقات کے دوران جیفری ایپسٹین نے جنسی زیادتی کی اور اس کے بعد یہ سلسلہ ہر ہفتے جاری رہا بلکہ 2010 میں ایپسٹین کی نظر بندی ختم ہونے کے بعد بھی نیویارک میں یہ سلسلہ جاری رہا۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ ایک وقت ایسا آیا جب انھیں یقین ہوگیا تھا کہ حکام ایپسٹین کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کریں گے اسی لیے وہ برسوں تک خاموش رہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب میں مالی طور پر خود مختار ہوئی تو بالآخر اس کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوئی لیکن اس نے مجھے ایسے زخم دیے ہیں جو شاید زندگی بھر نہ بھر سکیں۔

رپورٹس کے مطابق دیگر خواتین نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ بعض مواقع پر پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود ان کا جنسی استحصال کیا گیا۔

جاری ہونے والی ایپسٹین فائلز کے مطابق پام بیچ میں جیل اور اس کے دفتر کے درمیان سفر کے لیے استعمال ہونے والی ایپسٹین کی گاڑی میں ایک بستر بھی نصب تھا۔

ایک متاثرہ خاتون نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کو بتایا کہ ایپسٹین نے جیل کی پارکنگ میں کھڑی اسی گاڑی کے اندر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

جیفری ایپسٹین پر برسوں تک کم عمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے، انہیں مالی لالچ اور دباؤ کے ذریعے اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات لگتے رہے۔

واضح رہے کہ ایپسٹین 2008 میں کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کروانے کے مقدمے میں سزا یافتہ قرار پایا تھا جبکہ بعد میں مزید مقدمات کا سامنا بھی کیا تھا۔ بعد ازاں جیل میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔