جامع مکالمہ کی ضرورت

بلوچستان کی پائیدار ترقی کا راستہ عوامی اعتماد، قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی اور مقامی لوگوں کی شمولیت سے ہو کر گزرتا ہے


[email protected]

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردار ی نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ بلوچستان میں امن کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ان مذاکرات میں حکومت میں شامل سیاسی قوتوں کے علاوہ وہ سیاسی قوتیں بھی شامل ہونی چاہئیں جو وفاق اور صوبائی حکومتوں میں شامل نہیں ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس بیانیہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاسی مسائل کے سیاسی حل پر یقین رکھتی ہے ۔

انھوں نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سے ایک ملاقات میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک نے اپنے ساتھیوں ایوب ملک، سینیٹر جان بلیدی اور قومی اسمبلی میں نیشنل پارٹی کے رکن پلین بلوچ کے ہمراہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ ڈاکٹر مالک نے اس ملاقات کے بعد کہا کہ بلوچستان کا بحران سیاسی نوعیت کا ہے، آپریشن سے یہ بحران حل نہیں ہوگا۔ تمام فریقین کو بلوچستان میں امن کی خاطر مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالات مستقل خراب ہورہے ہیں۔ بلوچستان ایک بار پھر ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ترقی، زمین، عوامی حقوق اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان توازن کا سوال شدت سے سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ہنّہ اُڑک، زیارت اور اب گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادیکور سے آنے والی اطلاعات نے یہ بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے کہ جب کسی علاقے میں انتظامی اقدامات کے نتیجے میں مقامی آبادی کو اپنے گھروں، کھیتوں اور باغات سے دور ہونا پڑے تو اس کے سماجی اور معاشی اثرات کیا ہوتے ہیں۔

شادیکور مکران کے ان چند علاقوں میں شامل ہے جہاں زراعت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی کا محور ہے۔ یہ علاقہ اپنی زرخیز زمین، جدید آبپاشی کے نظام اور مختلف اقسام کی فصلوں کی پیداوار کی وجہ سے گوادر اور کیچ کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تربوز، خربوزہ، کھجور، ٹماٹر، پیاز، مرچ، پالک، گوبھی، مٹر، کھیرا اور دیگر سبزیاں نہ صرف مقامی منڈیوں بلکہ بلوچستان کے مختلف شہروں تک پہنچتی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہر سال کروڑوں روپے مالیت کی زرعی پیداوار اس علاقے سے منڈیوں تک پہنچتی ہے اور ہزاروں افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے۔

حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق شادیکور کے متعدد خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی کر کے پسنی اور دیگر علاقوں میں عارضی قیام پر مجبور ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ جب بھی لوگ اپنے گھروں اور زمینوں سے دور ہونے پر مجبور ہوتے ہیں تو وہ عملی طور پر اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد، یعنی آئی ڈی پیز (Internally Displaced Persons) کی صورتحال سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں صرف رہائش ہی نہیں بلکہ روزگار، تعلیم، صحت اور خوراک جیسے بنیادی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔

بلوچستان اس سے پہلے بھی مختلف ادوار میں اندرونی نقل مکانی کا تجربہ کر چکا ہے۔ کئی علاقوں میں آپریشنز، قدرتی آفات یا دیگر وجوہات کی بنا پر ہزاروں خاندان وقتی یا مستقل طور پر بے گھر ہوئے۔ عالمی سطح پر بھی یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اندرونی نقل مکانی صرف انسانی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی اور سماجی بحران بھی بن جاتی ہے۔ جب کسان اپنی زمینوں سے دور ہو جائیں تو فصلیں متاثر ہوتی ہیں، آبپاشی کا نظام رک جاتا ہے اور کئی مہینوں کی محنت ضایع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔شادیکور کے معاملے میں بھی مقامی لوگوں کی یہی تشویش سامنے آ رہی ہے۔ فصلیں کٹائی کے قریب تھیں اور اگر ان کی بروقت دیکھ بھال ممکن نہ رہی تو اس کا نقصان صرف کسانوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ گوادر، کیچ اور ملحقہ علاقوں میں سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بلوچستان جیسے صوبے میں، جہاں پہلے ہی زرعی وسائل محدود ہیں، کسی بڑے زرعی علاقے کی پیداوار متاثر ہونا مقامی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی دوران بلوچستان کے دیگر علاقوں، جن میں نوشکی، زہری، مشکے، جیونی اور بعض دیگر علاقے شامل ہیں، وہاں بھی نقل و حرکت میں رکاوٹوں اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان حالات کا سب سے زیادہ اثر روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، چھوٹے تاجروں، کسانوں اور طلبہ پر پڑتا ہے۔ جب راستے بند ہوں یا معمولات زندگی متاثر ہوں تو ادویات، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی بھی مشکل ہو جاتی ہے، جس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ریاست کی بنیادی ذمے داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ ذمے داری بھی جڑی ہوئی ہے کہ ایسے اقدامات سے عام شہریوں، خصوصاً کسانوں، مزدوروں اور کمزور طبقوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ جب عوام کو اعتماد میں لیا جائے، فیصلوں میں شفافیت ہو اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے واضح منصوبہ موجود ہو تو کشیدگی میں کمی آتی ہے اور ریاست پر اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔بلوچستان کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں، زمینوں کے استعمال اور عوامی مفادات سے متعلق فیصلوں میں مقامی آبادی کی رائے کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے، اگر لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور ان کے معاشی حقوق کا تحفظ کیا جا رہا ہے تو بداعتمادی کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر رابطے کا فقدان ہو تو خدشات اور بے چینی بڑھنے لگتی ہے۔ بلوچستان امور کے ماہر صدیق آزاد بلوچ کا کہنا ہے کہ زمین کسی بھی کسان کے لیے صرف جائیداد نہیں ہوتی بلکہ اس کی شناخت، تاریخ اور مستقبل سے جڑی ہوتی ہے۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں یہی زمین خاندانوں کی کئی نسلوں کا سہارا رہی ہے۔ اسی لیے جب لوگ اپنی زمینوں سے دور ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ سماجی ڈھانچہ، خاندانی نظام اور مقامی ثقافت بھی متاثر ہوتی ہے۔

بلوچستان کی پائیدار ترقی کا راستہ عوامی اعتماد، قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی اور مقامی لوگوں کی شمولیت سے ہو کر گزرتا ہے، اگر زرعی علاقوں کے مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا اور اندرونی نقل مکانی کا سلسلہ بڑھتا گیا تو اس کے اثرات صرف ایک ضلع یا ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے صوبے کی معیشت، سماجی استحکام اور انسانی صورتحال پر مرتب ہوں گے۔

 آج ضرورت الزام تراشی کی نہیں بلکہ ایسے جامع مکالمے کی ہے جس میں منتخب نمائندے، مقامی قبائلی و سماجی قیادت، کسان اور سول سوسائٹی ایک مشترکہ حل تلاش کریں۔ بلوچستان کی زمین، اس کے وسائل اور اس کے لوگ ایک دوسرے سے جدا نہیں، اگر عوام کے حقوق، معاشی تحفظ اور ترقی کے تقاضوں کے درمیان متوازن راستہ اختیار کیا جائے تو نہ صرف موجودہ بے چینی کم ہو سکتی ہے بلکہ ایک پائیدار اور پرامن مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔