بارش!

لاہور میں دو دن پہلے قیامت خیز بارش ہوئی ہے۔ پوری رات‘ پانی برستا رہا ۔ نشیبی علاقوں کا کیا حال ہو گا۔


راؤ منظر حیات July 24, 2026

لاہور میں دو دن پہلے قیامت خیز بارش ہوئی ہے۔ پوری رات‘ پانی برستا رہا ۔ نشیبی علاقوں کا کیا حال ہو گا۔ وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مگر طالب علم نے‘ اس بھرپور میگھا میں دو حد درجہ متضاد واقعات دیکھے ہیں۔ حقیقت میں‘ ایک منظر پر بہت دکھ پہنچا۔ اور دوسرے نکتہ پر خوشگوار حیرت ہوئی۔ ہمارے میڈیا کے معتبر نام‘ لکھاری‘ بیانیہ ترتیب دینے والے دانشور‘ اکثریت میں‘ ملکی نظام میں ہر دم کجی نکالتے رہتے ہیں۔ ناامیدی‘ مایوسی اور ممکنہ بربادی کی ایسی المناک تصویر کھینچنے میں مصروف کار رہتے ہیں کہ سننے یا دیکھنے والا سمجھتا ہے ۔ کہ بس‘ آج کچھ ہو جائے گا۔ ہر شے فنا ہو جائے گی۔ خدانخواستہ ملک بھی نقشے سے معدوم ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے نام نہاد غازی تو خیر مایوسی پھیلانے کی دکانیں ہیں جن کا مقصد ہی ملک کو ہر لحاظ سے ناگفتہ بہ ثابت کرنا معلوم پڑتا ہے۔ یقین کیجیے‘ کہ اگر آپ چند مخصوص سوشل میڈیااکابرین کو سنیں ‘ تو ایسے نظر آتا ہے کہ بس آسمان چند لمحوں ہی میں ملک پر گر جائے گا۔ زمین بھرپور طریقے سے دھنس جائے گی۔ مگر حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ملک بھی قائم ہے اور انشاء اللہ مشکلات سے باہر بھی آئے گا۔ مجھے اپنے ہم وطنوں کی جرأت اور حوصلہ پر رتی برابر بھی شک نہیں ہے۔ معاملات بگاڑ کے بعد بہتری کی طرف جائیں گے۔ یہی قانون قدرت ہے۔

بات لاہور کی بارش کی ہو رہی تھی۔ یہ اسی ہفتہ ‘ بدھ کے روز کی بات ہے۔ مجھے لاہور کے ایک پوش ایریا سے ماڈل ٹاؤن کسی کام سے جانا تھا۔ ڈرائیور چھٹی پر تھا۔ بلکہ سچ پوچھیے کہ اتنی برسات میں اس کے لیے موٹر سائیکل پر آنا تقریباً ناممکن تھا۔ لہٰذا گاڑی خود چلا رہا تھا۔ یہاں سے بہت وسیع روڈ والٹن روڈ سے جا ملتا ہے۔ پھر تھوڑا سا آگے جاکر فیروز پور روڈ سے منسلک ہو جاتا ہے۔ معلوم پڑا کہ یہاں کی تمام سڑکیں‘ پانی سے بھری ہوئی ہیں۔ سچ پوچھیے تو سڑکوں کے کنارے اور فٹ پاتھ نظر ہی نہیں آ رہے تھے۔قطعاً اندازہ نہیں تھا‘ کہ لاہور کی اس متمول آبادی کے منتظمین ‘ اس قدر بے اثر ہوں گے کہ ایک بارش‘ ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنا ڈالے گی۔ مین سڑک پر پہنچ گیا۔ پہلے بھی ٹریفک کے حالات بہتر نہیں تھے مگر اس روز دیکھا تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ تقریباً پانچ سے چھ کلومیٹر ڈبل روڈ پر گاڑیاں پھنسی ہوئی تھیں۔ نہ آگے جا سکتی تھیں اور نہ پیچھے مڑ پاتی تھیں۔ ہر طرف سیلاب کا سا سماں تھا۔ ڈبل روڈ کے درمیان ڈیوائیڈر‘ مکمل طور پر پانی میں معدوم ہو چکا تھا۔ یعنی آپ کو معلوم ہی نہیں ہو سکتا تھا کہ کس سڑک پر ہیں۔

ٹریفک انچوں کے حساب سے چلنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ کئی گاڑیاں‘ آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔ ذرا غور فرمایئے۔ متعدد گاڑیوں کے انجن میں پانی جا چکا تھا جس کی وجہ سے کئی کاریں اور جیپیں بند ہو چکی تھیں۔ ڈرائیور جن میں خواتین بھی موجود تھیں‘ بے بسی کی تصویر بنے مدد کے لیے التجا فرما رہی تھیں۔ مگر کوئی بھی شخص اپنی گاڑی سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ کیونکہ پانی کی زیادتی کی وجہ سے دروازے کھولنے ممکن ہی نہیں تھے۔ موٹر سائیکل سواروں کی حالت بھی دیدنی تھی۔ متعدد موٹر سائیکل‘ پانی کی بدولت بند ہو چکے تھے۔ اور ان پر سوار مرد اور خواتین ابتر حالت میں ‘ اپنی اپنی موٹر سائیکل کے نزدیک کھڑے ‘ اسے ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف کار تھے۔ بیسیوں مرد اور خواتین ‘ پانی میں سے پیدل گزر رہے تھے۔ یاد رہے کہ اس وقت بارش کو ختم ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ ان گنت بچے ‘ نزدیک آبادیوں سے آ کر وہاں تیراکی میں مصروف تھے۔

اب ذرا آپ دل تھام کر سنیے ۔ اس ایمرجنسی صورت حال میں متعلقہ عملہ موجود نہیں تھا۔ مجھے‘ چند کلومیٹر کا بے رحمانہ سفر کرنے میں ڈھائی گھنٹے لگے۔ خیر یہ ایک بہت تکلیف دہ امر تھا۔ بارش تو قدرتی امر ہے۔ مگر اس کی پیش بندی کے لیے ہنگامی اقدامات تو ہو سکتے ہیں۔

 ذرا آئیے سنئیے۔ جس سے مجھے حددرجہ تعجب ہوا۔ جیسے ہی فیروز پور روڈ پر آیا۔ تو معلوم ہی نہیں پڑتا تھا کہ کوئی بارش ہوئی ہے۔ صاف اور شفاف سڑکوں کے کنارے تک خشک تھے۔ انڈرپاس بھی بھرپور طور پر سوکھے تھے۔ لگتا تھا کہ بارش ہی نہیں ہوئی۔ صاحبان‘ بھرپور بارش تو ہوئی تھی۔ مگر لاہور کی سول انتظامیہ نے حد درجہ مہارت اور جاںفشانی سے نکاسی آب کا نظام اتنا اعلیٰ کر ڈالاہے کہ پانی سڑکوں پر رک ہی نہیں سکتا۔ فیروز پور جیسی مصروف ترین روڈ پر تمام ٹریفک بڑے اطمینان سے جاری و ساری تھی۔ کسی قسم کی رکاوٹ نہیں تھی۔ ہر چیر معمول کے مطابق تھی۔ جب ماڈل ٹاؤن پہنچا تو وہاں بھی سڑکوں پر کوئی پانی نہیں تھا۔ نواز شریف پارک کے ساتھ والی اندرونی سڑک بھی خشک تھی۔ مجھے بی بلاک جانا تھا۔ وہاں بھی کسی مقام پر پانی جمع نہیں تھا۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ بارش تو پورے لاہور میں ہوئی تھی۔ پھر ‘ سول انتظامیہ کے زیر انتظام‘ سڑکیں اور معاملات بالکل سوکھے کیوں تھے۔

وہاں کسی قسم کا مسئلہ کیونکر نہیں تھا؟ اور عملہ بھی کام کرتا نظر آ رہا تھا۔ آخر وجہ کیا ہے؟ شاید جواب میرے سیاسی دوستوں کو پسند نہ آئے؟ مگر اصل فرق یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بارش سے کافی پہلے ‘ ذاتی توجہ سے‘ نکاسی آب جیسے مشکل معاملے کو حل کیا ہے۔ اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑے ہو کر ‘ ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملے پر نظر رکھی تھی۔ شدید محنت سے‘ یہ پیچیدہ کام ‘ اپنی نگرانی میں وقت سے پہلے منظم کروایا تھا۔ نتیجہ سامنے تھا۔ پوش سوسائٹی جہاں‘ کروڑوں اربوں روپے کے گھر موجود ہیں۔ جہاں‘ ہر مکین سے ہر ماہ متعدد قسم کے بل وصول کیے جاتے ہیں۔ وہاں کی انتظامیہ نے بارش کی نکاسی پر بروقت کوئی توجہ نہیں دی تھی۔

ان کے پاس کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں کہ پوش سوسائٹی کو قدرتی آفت سے محفوظ کیسے رکھنا ہے۔ مین روڈ پر ٹریفک کو کیسے رواں رکھنا ہے؟ بند گاڑیوں ‘ رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی مدد کے لیے عملہ تعینات کرنا بھی ہے یا نہیں؟ اور ہاں‘ پانی نکالنے کے لیے مشینیں لگانی ہیں یا صرف انھیں تصویریں کھینچوانے کے لیے رکھا ہوا ہے؟ یقین فرمائیے۔ کسی تعصب سے بالاتر ہو کر‘ لاہور کی بے پناہ مصروف شاہراہوں کو آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے پر مریم نواز تحسین اور تعریف کی مستحق ہیں۔ کم ازکم بارش والے معاملے میں تو انھیں سو میں سے سو نمبر دیے جا سکتے ہیں۔ عرض کرتا چلوں کہ پوش سوسائٹیوں کے منتظمین کو لاہور کی انتظامیہ اور وزیراعلیٰ کے بہترین انتظامات سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔مگر سیکھنا ان کے لیے اب شاید ممکن ہی نہیں رہا؟