مہینہ تھا جنوری اور سال انیس سو اٹھتر۔ خون جما دینے والی سرد ہوائیں چل رہی تھیں جس میں چند آدمیوں کی ٹیم تندہی سے کبھی ایک پہاڑی چڑھتے تو کبھی دوسری اور پھر وادی میں اتر کر میلوں کا سفر طے کرتے اور تیسری پہاڑی پر چڑھائی کی تیاری کرتے۔
ایسے متعدد چھوٹے بڑے ٹیلے، پہاڑیاں، وادیاں اور میدان سامنے تھے، جن پر انھیں تحقیقی سرگرمیاں انجام دینی تھیں۔ جنوری کے مختصر دن کے اجالے میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا تھا اور پھر طویل فاصلہ طے کرکے مرکز واپس پہنچنا تھا۔ یہ روز کا معمول تھا، نہ ہفتہ وار چھٹی، بس کام اور بس کام۔
زمین سخت پتھروں پر مشتمل تھی، چلنا دشوار تھا۔ پتھر گویا تیز دھار چاقو تھے، جو پہاڑیوں اور وادیوں میں بکھرے پڑے تھے۔ ہر قدم پھونک کے رکھتے کہ کہیں اس ویرانے میں زخمی نہ ہوجائیں۔ وہ چٹانوں سے پتھروں کے نمونے جمع کرتے، نقشوں پر نشانات لگاتے اور ضرورت ہوتی تصاویر بھی لیتے۔
گزشتہ چند سالوں سے یہ کام جاری تھا، گرمیوں میں رک جاتا۔ یہ ان کے پیشے کا روزمرہ کا کام تھا، مگر ان نوجوانوں کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس ویرانے میں وہ کیا ڈھونڈ نکالیں گے، جو چند دہائیوں بعد پاکستان کی معاشی ترقی کا مایہ ناز باب بنے گا اور جس پر قوم کی پر امید نظریں ہوں گی۔
یہ علاقہ ضلع چاغی بلوچستان میں واقع تھاجس کو آج دنیا ریکوڈک کے نام سے جانتی ہے۔ جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی)کے یہ مایہ ناز ماہرین ارضیات، معدنیات پر تحقیقات کر رہے تھے، ان کی تلاش کا خصوصی ہدف تانبے، سونے اور چاندی کے ذخائر تھا۔
ابتدائی کام کے بعد زیر زمین قیمتی دھاتوں کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوگئے تھے۔ یہ ٹیم انتہائی مہارت سے اپنا کام مکمل کر کے جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے مرکزی دفتر کوئٹہ واپس آتی ہے اور بلا تاخیر اس اہم دریافت کے اوپر مزید کام شروع کرتی ہے اور پتھروں کے نمونوں پر لیبارٹری میں کام شروع کردیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ دستاویز تیار کی گئی جس کو پاکستان کی تاریخ کی اہم دستاویزات میں شامل کیا جا سکتا ہے اور وہ تھے ارضیاتی نقشے۔
جس میں اس علاقے کا محل وقوع، ان مخصوص معدنیات سے بھری چٹانوں کا رقبہ اور مختلف معلومات درج ہیں۔ دراصل یہی وہ نقشہ ہے جو ریکو ڈک کی دریافت کی بنیاد ہے جس کام کا آغاز ان ماہرین نے سن اٹھتر میں کیا تھا۔ انیس سو ترانوے میں آسٹریلوی عالمی شہرت یافتہ معدنیات کی کمپنی بی ایچ پی بیلیٹن نے بلوچستان کی اس وقت کی نگراں حکومت جس کی سربراہی نصیر مینگل کر رہے تھے ، بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان چاغی کے پہاڑی سلسلے میں (Porphyry Copper) پور فائری تانبہ کی تلاش کا ایک معاہدہ کیا۔
اگلے دو سالوں میں تیرہ ہزار مربع کلومیٹر میں سروے اور تحقیقات کا کام مکمل کرلیا جس میں بیس ہزار میٹر کی ڈرلینگ بھی شامل ہے۔
اس کام کے نتیجے میں دس ایسے مقامات کا تعین کیا گیا جہاں معدنی ذخائر کی موجودگی ممکن ہے جن میں زیارت پیر سلطان، دشت کائن، باسیلانی، گوان شیرو، کیرتکا، ماچھی، تینگ درگوان، ڈربن چاہ اور ریکو ڈک شامل ہیں۔
انیس سو ترانوے میں جب آسٹریلوی کمپنی بی ایچ پی بلیٹن نے کام شروع کیا تو اس نے جی ایس پی کی انیس سو اٹھتر والی تحقیق کی تصدیق کردی کہ صرف تانبہ ہی نہیں،سونے کے بھی ذخائر موجود ہیں۔ ریکوڈک سے پہلے بھی انیس سو اکسٹھ میں پاکستان جیالوجیکل سروے اور یو ایس جیالوجیکل سروے کے مشترکہ کام کے نتیجے میں چاغی کے ہی علاقے سینڈک میں تانبہ کے وسیع ذخائر دریافت کیے جا چکے تھے۔
زمین میں معدنیات کی تلاش کا سب سے اولین کام یہ ہے کہ ماہرین ارضیات یہ تعین کر سکیں کہ یہ کہاں ہیں۔ کس علاقے میں امکانات زیادہ ہیں جب شواہد واضح ہو جاتے ہیں تو مختلف مراحل میں کام شروع کیا جاتا ہے، جس کا آخری مرحلہ معدنیات نکالا جانا ہے اور قابل استعمال حالت میں مارکیٹ میں منافع کے ساتھ فروخت کرنا۔ ارضیاتی سروے کے مطابق سونے چاندی کے ذخائر چاغی کے کئی علاقوں میں پائے جاتے ہیں، جو مستقبل میں مزید کامیابیوں کی نو ید ہے۔
ہمارے علم میں ہے کہ گزشتہ پندرہ بیس برس سے، ریکو ڈک کا منصوبہ ایک پیچیدہ کشمکش کا شکار رہا ہے۔ سن دوہزار چھ میں بلوچستان کے ایک سیاسی رہنما، مولانا عبدالحق بلوچ نے ریکو ڈک کیخلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک ریفرنس دائر کیا جس میں بلوچستان کا محض پچیس فیصد منافع جب کہ غیر ملکی کمپنیوں کا پچھتر فیصد منافع غیر منصفانہ تھا جب کہ ٹھیکہ دینے کا سارا عمل بھی غیر شفاف ظاہر کیا گیا تھا۔
منصوبہ کے خلاف مقامی سطح پر اٹھنے والی اس درخواست کو جون دو ہزار سات میں ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔اس اپیل کی سماعت تین رکنی بینچ نے کی، جس کی قیادت چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس افتخار محمد چوہدری کر رہے تھے۔
جنوری دوہزارتیرہ میں سپریم کورٹ نے ریکو ڈک معاہدے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ٹیتھین کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا، عدالت کا فیصلہ تو آگیا مگر اس سے ایک بحران پیدا ہو گیا۔اس فیصلے کے بعد ٹیتھین کاپر کمپنی نے اس معاملے کو ورلڈ بینک کے ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID)میں لے گئی ، جہاں فیصلہ درخواست گزار کے حق میں آیا اور پاکستان پر چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
دو ہزار انیس تک ریکو ڈک میں کام معطل رہا۔ تاہم یہ منصوبہ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جارہا تھا۔ پاکستان نے متعلقہ کمپنیوں سے کامیاب مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں تو اب وہ کمپنیاں پاکستان میں نہ صرف دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے تیار ہو گئیں بلکہ انھوں نے حکومت پاکستان اور بلوچستان کے شراکت داری کے حقوق میں پچاس فیصد تک اضافہ کر دیا جو کہ یقیناً خوش آئند ہے۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق ریکوڈک میں دنیا کا پانچواں بڑا تانبہ اور سونے کا ذخیرہ موجود ہے ۔پاکستان کی معاشی ترقی کے افق پر ریکو ڈک ایک چمکدار ستارہ کی مانند ابھر رہا ہے۔ اس منصوبے پر پچاس ساٹھ سال کی محنت اور عرق ریزی ہے، اس کی کامیابی ہمارے لیے لازم و ملزوم ہے، اگر صوبے کے سیاسی، امن و امان اور سیکیورٹی معاملات بہتر رہے ،تو توقع ہے کہ دو ہزار اٹھائیس تک تانبے اور سونے کی پیداوار کا آغاز ہوجائے گا۔
اس عظیم دریافت کے پیچھے ایک ٹیم ہے جس نے مدتوں انتھک محنت اور پیشہ ورانہ مہارت سے ان قیمتی معدنیات کا پتا لگایا۔ اس میں ایک نام سر فہرست ہے ، وحید الدین احمد، پاکستان کے معروف ماہر ارضیات اور جی ایس پی (Geological Survey of Pakistan) کے سابق ڈائریکٹر جنرل۔ انھوں نے اپنے اعلیٰ سرکاری عہدے کے باوجود خود چاغی کی دھوپ اور گرد و غبار میں تحقیقی کام کیا اور ٹیم کی قیادت کی۔
دیگر افراد جن کا اس کامیاب منصوبہ میں کلیدی کردار رہا، ان میں فردوس خان (سابقہ ڈائریکٹر جی ایس پی) ، شاہد نور خان مرحوم (سابقہ ڈائریکٹر جنرل جی ایس پی)، مشتاق حسین مرحوم (سابقہ چیف کیمسٹ جی ایس پی) ایس کے ایم عبداللہ مرحوم (سابقہ ڈائریکٹر جی ایس پی اور بعد میں ڈائریکٹر جنرل جیالوجیکل سروے آف بنگلہ دیش) اور سید حسن گوہر (سابقہ ڈائریکٹر جنرل جی ایس پی)شامل ہے۔
یہ وہ ستارے ہیں جو بلا شبہ ہمارے قومی ہیرو ہیں، مگر افسوس کہ ان عظیم کارناموں پر انھیں کبھی وہ پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ مستحق ہیں۔ ہر سال 23 مارچ اور چودہ اگست کو ہم فلمی اداکاروں،ادیبوں، شاعروں، سائنسدانوں، فوجیوں اور سیاستدانوں کو قومی اعزازات سے نوازتے ہیں، مگر ماہرین ارضیات، انجینئر اور محنتی کارکنان کیوں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں جن کی محنت سے ریکو ڈک جیسا سونے کا خزانہ دریافت ہوتا ہے؟
کراچی میں مقیم وحید الدین احمد حیات ہیں، تقریباً سو برس کی عمر ہے۔ کیا اب وقت نہیں آیا کہ انھیں اور ان کے رفقا کو ان کی زندگی میں ہی ان کا اصل ہیرو کا مقام دیا جائے؟