بھارتی دارالحکومت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا ریاستی تشدد کے باوجود جاری ہے بلکہ بے محابا تشدد کی لائیو سوشل میڈیا کوریج اور ویڈیو کلپس نے اس دھرنے کو مزید تقویت دی۔ فلم، ٹی وی، دانشوروں اور انسانی حقوق کے نمایاں نام بھی بالآخر جنترمنتر میں جاری اس متششدانہ منتر کے خلاف بول پڑے۔ عالمی میڈیا کی کوریج نے اس دھرنے کو مزید تقویت دی۔ مین اسٹریم میڈیا کی ساکھ راکھ بن کر اسی کے سر پر آن گری۔
رواں ہفتے چیف جسٹس کی ایک اور شان بے نیازی نے بھی اس جلتی پر تیل ڈالا کہ طلباء دھرنے پر تشدد کی ویڈیوز دیکھنے کا ان کے پاس ’’وقت‘‘ نہیں ہے تاہم وزیر تعلیم نے بروز ہفتہ بالآخر استعفیٰ کا اعلان کر دیا ہے۔
جمعہ کو رات گئے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیغام دیا کہ انھوں نے فوری عدالتی تحقیقات کا کہہ دیا ہے۔ ذمے داروں کو ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ تاہم کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنی باقی ڈیمانڈز پوری ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اتوار کو ملک بھر میں کینڈل لائٹ احتجاج کی کال دی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے اس طلباء دھرنے نے بی جے پی حکومت کو ایک سخت بحران سے دوچار کیا ہے۔ اس دھرنے کی حمایت میں ملک کے کئی دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ایک سخت گیر حکومت جو عدالتوں، الیکشن کمیشن سمیت تمام ریاستی انتظامی مشینری کو تابع فرمان لانے کے بعد طاقت کے ساتویں آسمان پر ہے، اس کے لیے عوامی ردعمل پر ہمدردانہ رویہ ایک مشکل عمل ہے۔
تاہم یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جمہوریت جب محض ایک انتخابی کھیل بن کر رہ جائے، اقتدار کا غرور، اپوزیشن کو کچلنے کی پالیسی اور عدلیہ، انتخاباتی اداروں وانتظامیہ پر مطلق العنان کنٹرول بظاہر ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ تعمیر کر دیتا ہے لیکن اسی ظاہری طاقت کے اندر کرپشن، اقرباپروری اور کھوکھلے بیانیوں کی وہ دیمک پرورش پاتی ہے جو بالآخر پوری عمارت کو زمین بوس کر دیتی ہے۔
حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ ایک دہائی سے زائد اسی زعمِ اقتدار میں مبتلا ہے۔ ملک کی ماسوائے پانچ ریاستوں کے باقی سب پر کنٹرول، درباری نیوز چینلوں کی یکطرفہ حمایت اور معاشرے میں نفرت وتقسیم کے زہریلے حربوں نے بی جے پی کی قیادت کو اس مغالطے میں مبتلا کر دیا تھا کہ وہ ہندوستانی سیاست کی ایک لاجواب اور دائمی حقیقت بن چکی ہے لیکن حالیہ دنوں میں نیودہلی کے جنترمنتر سے اٹھنے والی نوجوانوں کی آواز اور ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کے نام سے ابھرنے والی غیرروایتی تحریک نے بھارتی اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا خوف اور نفرت کی سیاست پر کھڑی یہ عمارت اب گرنے لگی ہے؟ کیا یہ تحریک بی جے پی کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے؟ جنوبی ایشیا کے حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب خلق خدا کے بنجارے لاد چلنے پر آ جائیں تو سب حکومتی ٹھاٹھ پڑا رہ جاتا ہے، خوف کی دیوار گرتے دیر بھی نہیں لگتی۔
سری لنکا کی ’اراگالیا‘ تحریک نے راجا پاکسے کے مضبوط اقتدار کو چند ہفتوں میں ختم کر دیا، بنگلہ دیش میں طلباء کے طوفان نے شیخ حسینہ واجد کی برسوں پرانی حکومت کا تختہ الٹ دیا جب کہ نیپال اور مالدیپ میں بھی عوامی غضب نے مسلط سیاسی اشرافیہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
ان تمام واقعات میں ایک قدرِ مشترک تھی، نوجوان نسل (Gen Z) کی ناامیدی اور عوام مسائل کے حل میں ناکامی۔
ایک وقت آتا ہے جب کسی بھی جابرانہ نظام کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی بدعنوانی اور اداروں کی سڑاند کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ جب نوجوانوں کو لگے کہ ان کا مستقبل، ڈگریاں اور روزگار ریاستی نااہلی اور پرچوں کے افشا (Paper Leaks) کی نذر ہو رہا ہے تو سیاسی خوف اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ معاشی ناامیدی جب حد سے بڑھ جائے تو نفرت اور تقسیم کا زہریلا بیانیہ نوجوانوں کے پیٹ کی بھوک اور مستقبل کی تاریکی کا بدل نہیں بن سکتا۔
اس پورے بحران میں سب سے اہم پہلو بھارتی ذرائع ابلاغ کا عبرتناک کردار ہے۔ پچھلی دہائی میں بی جے پی نے مرکزی دھارے کے میڈیا (جسے عوامی حلقوں میں ’گودی میڈیا‘ کا نام دیا گیا) کو مکمل طور پر اپنے تابع کر لیا تھا۔ اس میڈیا کا بنیادی کام حقیقی معاشی مسائل، بے روزگاری اور ادارہ جاتی تباہی سے عوام کی توجہ ہٹا کر لمحہ بہ لمحہ مذہبی پولرائزیشن کو ہوا دینا اور بی جے پی کی اپوزیشن کو ’ملک دشمن‘ ثابت کرنا تھا۔
حکومتی ایوانوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ اس یکطرفہ میڈیا اسکرین کے ذریعے حقیقت کو مسخ کر کے ہمیشہ عوام کو دھوکے میں رکھ سکتے ہیں لیکن Gen Z اور جدید ڈیجیٹل نسل نے اس روایتی میڈیا کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
جب امتحانی دھاندلیوں کا شکار لاکھوں نوجوان اپنے اسمارٹ فونز، انسٹاگرام اور ایکس (ٹویٹر) کے ذریعے آپس میں جڑے تو کارپوریٹ میڈیا کے بنائے ہوئے تمام فرضی بیانیے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا محض سوشل میڈیا کے ذریعے لاکھوں پیروکار بنا لینا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ میڈیائی سرزمین بدل چکی، زبردستی مسلط کردہ گودی میڈیا اب عوامی سوچ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔
اس حالیہ مزاحمت کا موازنہ اگر 2021ء کی تاریخی کسان تحریک سے کیا جائے تو ایک دلچسپ تاریخی تسلسل سامنے آتا ہے۔ کسان تحریک نے پہلی بار بی جے پی کے ’ناقابل تسخیر‘ ہونے کے تاثر کو توڑا تھا اور حکومت کو تین متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔
کسانوں نے ثابت کیا تھا کہ اگر سڑکوں پر پائیدار اور غیرمتزلزل جدوجہد کی جائے تو بی جے پی کا غرور جھک سکتا ہے۔ موجودہ یوتھ تحریک اسی تسلسل کی اگلی اور زیادہ خطرناک کڑی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسانوں کے پاس روایتی زراعتی طاقت تھی جب کہ اس بار مقابلہ ملک کی جدید، تعلیم یافتہ اور ڈیجیٹل طور پر لیس Gen Z سے ہے جس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا۔
بی جے پی کی قیادت اس وقت ایک شدید سیاسی اور نظریاتی بحران کا شکار ہے، پچھلی دہائی سے بی جے پی نے اپنی تصویر ایک ’مضبوط اور فیصلوں پر ڈٹ جانے والی‘ طاقت کے طور پر پیش کی ہے۔ اس بار بھی حکومت گریزاں رہی کہ اگر وہ مظاہرین کا مرکزی مطالبہ مانتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لے لیتی ہے تو اس کے ’ناقابل شکست‘ ہونے کا تاثر ختم ہو جائے گا اور دیگر محروم طبقات کو بھی سڑکوں پر آنے کا حوصلہ ملے گا تاہم پولیس کے وحشیانہ تشدد نے الٹا کام دکھایا۔
دھرنے کی حمایت میں شدید اضافہ دیکھتے ہوئے وزیر تعلیم نے بالآخر استعفیٰ دے دیا۔ حکومت کو لیکن اس دوران انٹرنیٹ کی بندش اور پولیس تشدد کے ذریعے اس احتجاج کو کچلنے کی سیاسی اور عالمی ساکھ میں کمی کی صورت قیمت ادا کرنا پڑی۔
کیا یہ زوال کی شروعات ہے؟ بی جے پی کا بنیادی سیاسی ہتھیار (فرقہ وارانہ تقسیم) اب Gen Z کے معاشی مسائل اور روزگار کی تلاش کے سامنے بے اثر ہو رہا ہے۔ خوف کے سحر کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ تاہم بی جے پی کو ہندوستان کا بہت بڑا سائز، اس کا وفاقی نظام اور بی جے پی اور آر ایس ایس کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اسے سری لنکا، نیپال یا بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ لچک فراہم کرتا ہے۔
ہندوستان میں مرکز کے خلاف اٹھنے والی لہریں اکثر ریاستوں کی سطح پر ہی جذب ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے پاس اتنے سیاسی ومالی وسائل موجود ہیں کہ وہ وقت حاصل کرنے کے لیے رعایتیں دے کر موجودہ بحران یا نئے امکانی بحرانوں سے فی الوقت نمٹ سکے لیکن یہ امر طے لگتا ہے کہ انجام کا ابتدائیہ نوشتہ دیوار نمایاں ہو رہا ہے۔