دہشت گردی کا خاتمہ اب قریب ہے؟

اس وقت بلوچستان میں دہشت گردی کے مسئلے نے ملک وقوم کو سخت پریشان کر رکھا ہے


عثمان دموہی July 25, 2026

اس میں شک نہیں کہ اس وقت وطن عزیز مختلف الاقسام کے مسائل کا شکار ہے، سب سے بڑا چیلنج ملکی سلامتی کو درپیش ہے۔ ہمارا دشمن وطن عزیز کے قیام کے وقت سے ہی ہماری آزادی کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ اسی دشمن کے تعاون سے ملک میں دہشت گردی نے ایک ہنگامی صورت حال پیدا کر دی ہے۔

دہشت گردی اور روز بہ روز بڑھتی ہوئی مہنگائی سے کون سا پاکستانی ہوگا جو پریشان نہیں ہوگا، مگر ایسے وقت میں سب سے اہم ہی نہیں بلکہ ہماری ملکی سلامتی کے لیے ایک تاریخی اہمیت کا واقعہ رونما ہوا ہے، وہ ہماری قوم کے غیرمتزلزل اتحاد کا مظہر ہے، ہماری قوم ویسے تو ہمیشہ سے ہی متحد ہے مگر حال ہی میں ملک کے جید علماء کرام نے ایک ساتھ اور ایک پیش امام کی اقتدا میں نماز ادا کرکے ملک میں قومی یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ ہماری یکجہتی نہ صرف ہماری بقاء بلکہ ہمارے ملک کی سلامتی کی ضامن ہے۔ ہمارے علماء اور قوم کی یکجہتی کو دیکھ کر یقینا ہمارا دشمن نہ صرف گھبرا گیا ہوگا بلکہ وہ اپنے مذموم مقاصد کو بھی اب ناقابل عمل سمجھنے لگا ہوگا۔

اس وقت بلوچستان میں دہشت گردی کے مسئلے نے ملک وقوم کو سخت پریشان کر رکھا ہے۔ اس نے دشمن کو ضرور خوش کیا ہوگا مگر اس کے ساتھ ہی ہماری حکومت نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن ’’ شعبان‘‘ شروع کرکے دشمن کو نہ صرف موجودہ بلکہ آئندہ کی دہشت گردی کے منصوبوں پر سوچ وبچار میں ڈال دیا ہوگا۔

اس وقت آپریشن شعبان پوری طاقت اور دلیری سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک متعدد دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ اس آپریشن نے یقینا دشمن کے لیے ایک نئی مصیبت کھڑی کر دی ہے کیونکہ اب دہشت گردوں کے لیے پہاڑوں میں چھپنا اور وہاں کئی کئی دن بسیرا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

پہلے یہ ہوتا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جب بھی کارروائی کی جاتی تھی وہ پہاڑوں پر جا کر چھپ جاتے تھے لیکن اب دہشت گردوں کے لیے زمین تو زمین، پہاڑ بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ اس طرح اب ان کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں رہی ہے۔

اس سے اب دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے ملک میں موجودہ وطن دشمن بھی بہت ناامید ہوئے ہوں گے اور اب دہشت گردوں کے لیے حقیقت میں کوئی محفوظ جگہ نہیں رہی ہے، البتہ اب وہ سول آبادی میں ضرور اپنی کمین گاہیں بنا سکتے ہیں مگر لگتا ہے ایسا کرکے وہ اپنے پیروں پر کلہاڑی ماریں گے کیونکہ بلوچستان کے عوام جو ان کی دہشت گردی سے تنگ آ چکے ہیں، ان کی موجودگی کی اطلاع ضرور خفیہ ایجنسیوں تک پہنچائیں گے۔

یہ تو حقیقت ہے کہ اس بھارت اور افغانستان اسپانسرڈ دہشت گردی سے بلوچستان کے عوام سخت پریشان ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اس دہشت گردی کا ایسا سر کچلا جائے کہ یہ پھر کبھی صوبے کی ترقی اور ان کے جان ومال کے لیے خطرہ نہ بن سکے مگر یہ شاید ہماری ماضی کی حکومتوں کی کوتاہی رہی کہ وہ اس فتنے کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سدباب کرنے میں زیادہ سرگرم نہیں رہی ہیں۔

یہ شاید اس لیے بھی ہوا ہے کہ وہاں کے بااثر سیاسی وڈیرے ہماری حکومتوں کو دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے سے روکتے رہے ہیں، یہ لوگ دہشت گردوں کے اصل محافظ اور مددگار خفیہ طور پر بنے رہے ہیں۔ یہ دہشت گرد آزادی کی بات کرتے ہیں، یہ دوسرے ملک کے کرائے کے دہشت گرد پہلے خود کو تو دشمن ملک کی غلامی سے آزاد کرا لیں پھر بلوچستان کا سوچیں۔

ان دہشت گردوں کو سی پیک منصوبے کو دراصل ناکام بنانے کے لیے ہائر کیا گیا ہے، حالانکہ بلوچستان کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سی پیک منصوبہ ان کے خوشحال اور تابناک مستقبل کا ضامن ہے مگر بس یہی بات ان دہشت گردوں کے آقاؤں کو چبھتی ہے کہ اگر بلوچستان خوشحال ہو گیا تو پھر ان کے پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا کیا بنے گا اور پھر اگر ایسا ہوا تو ان کی تو دکانیں ہی بند ہو جائیں گی، کیوں کہ دشمن انھیں اس وقت جو نواز رہا ہے وہ ساری نوازشات بھی ختم ہو جائیں گی چنانچہ سی پیک منصوبے کو مکمل ہونے اور گوادر بندرگاہ کو پاکستان کی سب سے بڑی، اہم اور مصروف بندرگاہ بنانے کے منصوبے کو روکنا ان کے لیے ان کی روزی روٹی کا معاملہ بن گیا ہے۔

بلوچستان کے دانشور اس بات کو خوب جانتے ہیں ۔ وہ ساری صورت حال اور دشمن کے ہتھکنڈوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں ان کے صوبے کو دہشت گردی کے ذریعے بدحال رکھنے کا ایک مقصد مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کی مدد کرنے کا پاکستان سے بدلہ لینا ہے مگر پاکستان تو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنا فرض ادا کر رہا ہے، اگر دشمن بلوچوں کو آزادی ہی دلانا چاہتا ہے تو پھر صرف پاکستانی بلوچوں پر ہی مہربان کیوں ہے، وہ ایران اور افغانستان میں بٹے بلوچی علاقوں کے بلوچوں کو کیوں نظرانداز کر رہا ہے؟

مگر دہشت گرد آقاؤں کے انداز سے واضح ہے کہ ان کا افغانستان یا ایران کے بلوچ علاقوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ دہشت گردی صرف پاکستان کے لیے ہے مگر کیوں؟ اس وقت آپریشن شعبان بھرپور انداز سے جاری ہے مگر کسی کو اس میں رکاوٹ نہ ڈالنے دی جائے ۔ بی ایل اے، طالبان کی بھی مدد کر رہے ہیں مگر اب افغانستان میں طالبان کے ظلم وستم کے خلاف ایک نئی جاندار تحریک شروع ہو چکی ہے جس سے طالبان کا ظلم اور دہشت گردی سے بھرپور اقتدار اب ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔