کاکروچ جنتا

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے جین زی کوکروچ قرار دیا


جاوید قاضی July 25, 2026
[email protected]

اندرا گاندھی نے اپنے دور حکومت میں ہندوستان میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ ان کی حکومت کے بعد کسی ڈکٹیٹر نے نہیںبلکہ ایسی ایمرجنسی نریندر مودی نے لاگو کی۔ مودی صاحب کے اس اقدام کو ہندوستان کی جین زی) (Gen Zنے چیلنج کردیا ہے۔

پتہ یہ چلا ہے کہ ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی اور احتجاج کرنے کے بنیادی اور آئینی حقوق منجمد تھے ۔ وزیراعظم نریندر مودی حکومت نے نوجوانوں کے اس احتجاج کو پرزور طریقے سے روکا۔ یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے جین زی کوکروچ قرار دیا۔

اس لفظ کے بعد یہ ایسے متحد ہوئے جس کا گمان بھی نہ تھا۔یہ کاکروچ جنتا پارٹی، پارلیمنٹ میں اپوزیشن سے زیادہ مودی صاحب کے خلاف طاقتور ہو گئی ۔ اس بات کا اندازہ بھی نہ تھا، ایک ایسی پارٹی جورجسٹرڈ بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس پارٹی کے لیے اب تک کوئی عہدیدار نامزد ہوا ہے لیکن ان کا جنون ہے۔اب یہ نوجوان اس میدان میں اکیلے نہیں ہیں کیونکہ راہول گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی بھی ان کی حمایت کر رہی ہیں۔

یقینا اروندھتی رائے بھی ان کی حمایتی ہوں گی ، اسی طرح ابھیجیت دپکے ، سورو داس، آفرین نواز، دیپک بلیان، رتنا سنگھ اور سونم وانگچک جیسے لوگ جو سیکولر ہندوستان کی سوچ رکھتے ہیں، وہ تمام لوگ اس پارٹی کی حمایت کریں گے۔

اس کا نتیجہ کیا ہوگا کچھ کہنا قبل از وقت ہے، مگراپنی گیارہ برس کی حکومت میں مودی صاحب نے اپنے خلاف ایسی مزاحمت کا سامنا پہلی بار کیا ہے جو کاکروچ جنتاپارٹی نے ان کے خلاف شروع کی ہے۔ آخر کار انھیں اپنے وزیرتعلیم سے استعفاء لینا پڑا ۔

یہ پارٹی نوجوانوں کی پارٹی ہے اور جین زی پر مشتمل ہے،یہ پارٹی سوشل میڈیا کی پاور ہے۔مصنوعی ذہانت کی پیداوار ہے۔ہندوستان، امریکا اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں مصنوعی ذہانت اپنی مضبوط جڑیں بنا رہی ہے۔اب جین زی کو ہندو انتہا پرستی کے بیانیے سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، پاکستان دشمنی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ کو نہیں بھڑ کایا جا سکتا۔

ایسا ہی انقلاب کچھ سال قبل سری لنکا میں بھی آیا تھا ۔اس انقلاب کا ہراول دستہ بھی جین زی تھے ۔ بنگلادیش اور نیپال میں بھی نوجوان سڑکوں پر نکلے۔آج سے پندرہ سال پہلے ایسے ہی احتجاج عرب ممالک میں بھی ہوئے جو تحریرا اسکوائرپر جا ٹھہرے لیکن پھر Spring Revolution آگے بڑھ نہ سکا ،وہ اس لیے کہ اس انقلاب میں مسلم معاشروں میں قائم نظریاتی دیواریں توڑنے کی صلاحیت نہیں تھی۔

ہندوستان ایک سیکولر ملک تھا مگر ایل کے ایڈوانی نے اس سیکولر ازم کی بنیادیں ہلادیں۔اس نے تیس سال قبل گجرات سے یاتراکا آغاز کیااور ہزاروں میل سفر طے کر کے ایودھیا (اتر پردیش) میں بابری مسجد کو مسمار کروایا، جہاں اب ایک سیکولر ملک کے وزیر اعظم یعنی مودی صاحب نے ریاست کی نگرانی میں رام مندر بنوایا۔ مودی کے لیے ہندوستان کو یرغمال بنانا اتنا آسان نہیں۔

ہندوستان کی آزادی کے بعد ہندوستان کو فوراً آئین دے دیا گیا۔جہاں مسلسل جمہوریت رائج رہی سوائے اس دور کے جب اندرا گاندھی نے ہندوستان پر ایمرجنسی لاگو کی۔ہندوستان کی سپریم کورٹ کے فل بنچ نے کیشوا نندا کیس جیسے عظیم عدالتی فیصلے نے روکا۔ اندرا گاندھی کے فاشزم کو روکا۔اس کیس کی پیروی کیشوا نندا بھارتی ، کلدیپ نئیر اورکئی سیکولر سول سوسائٹی کے ممبران کی تھی جو پابند سلاسل ہوئے۔

مجھے یہ گمان ہے کہ احتجاج کی یہ لہر ہندوستان تک محدود نہی رہے گی بلکہ اس کی پہنچ اور رسائی سرحد پار تک جائے گی۔ہندوستان کی جمہوریت اور خارجہ پالیسی جس کی بنیادیں جواہر لعل نہرو نے رکھی تھیں ،ان بنیادوں کو مودی نے جس طرح سے ہلایا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ڈیڑھ ارب کی آبادی والے ملک کو ایک کروڑ کی آبادی والے ملک اسرائیل کے ساتھ لا کھڑا کیا ہے۔مودی سرکار نے مہاتما گاندھی کے ہندوستان کس قدر چھوٹا بنا دیا۔

ہم فرض کرتے ہیں کہ جو تضادات آزادی کے وقت مسلمان اور ہندوؤں کے درمیاں پیداہوئے،وہ تضادات اگر نہ ہوتے تو آج ہندوستان اورپاکستان امن سے رہ رہے ہوتے۔ ہمارے ان تضادات نے بر صغیر میںغربت پھیلادی۔سامراجی طاقتوں نے ہماری دشمنی کو استعمال کرکے ہمیں قرضوں کے جال میں پھنسا دیا۔ہمیں سرد جنگ میں دھکیل کر اپنے مقاصد حاصل کیے۔

تاریخ کروٹ بدلتی ہے، اپنی لے میں چلتی ہے۔چین کو برطانیہ اپنا غلام نہیں بنا سکا۔ ان زمانوں میں چین ،برطانیہ کا غلام بن جاتا تو کیاہوتا؟ایران بھی کسی کا غلام نہ بن سکا۔یہ غلامی جو ہندوستان کے اوپر مسلط ہوئی وہ اورنگزیب کے کمزور دور کا شاخسانہ تھی ۔

اورنگزیب بادشاہ نے سیکولر بنیادوں کو ہلایا۔ہندوستان کمزور ہوا، داراشکوہ کی موت نے شاہی خاندان کو تقسیم کر دیا،اندرونی بغاوتوں نے سر اٹھایا، سکھوں نے بغاوت کی، مرہٹوں نے بغاوت کی ،پھر اس طرح پلاسی کے بعد ٹیپو سلطان کی شہادت ہوئی۔

دہلی پرمحمد شاہ رنگیلے جیسے حکمرانوں کی حکمرانی قائم ہوئی،پھر ایران کے بادشاہ نادر شاہ نے شمالی ہند کے شہروں اور راج دھانی دلی پر حملہ کیا۔ ہندوستان میں قتل وغارت اورلوٹ مار کا بازار گرم ہوا، ہر طرف انارکی ، لاقانونیت اور وار لارڈز کا راج تھا، اسی دور ابتلا و انتشار میں رہی کسر احمد شاہ ابدالی کی آمد اور لوٹ مار و قتل غارت نے نکال دی۔

اس وقت ہندوستان بیسیوں بلکہ سیکڑوں راجواڑوں میں تقیسم تھا،اگرسازشوں کے جال بن کر ہمیں غلامی کے طوق نہ پہنائے جاتے تو آج ہم دنیا کی عظیم طاقت ہوتے۔یہ تاریخ کے بے رحم فیصلے تھے۔

پاکستان کے تاریخی پس منظر میں جو پاکستان کی سب بڑی بد نصیبی تھی وہ تھی آئین کی غیر موجودگی۔پھر جنرل ضیا ء الحق کا آناجس نے سیکولر پاکستان کی بچی کچی بنیادوں کو مسمار کردیا۔ہندوستان کی آزاد دانشور اروندھتی رائے،جو سیکولر ہندوستان کا نظریہ رکھتی ہیں اور مانی شنکر یہ گمان کرتے ہیں کہ ہندوستان کے سیکولرازم کو جنرل ضیاء الحق کی انتہا پرست بیانیہ نے نقصان پہنچایا،کیونکہ ہندوستان کے انتہا پرست ہندو سیاست میںکبھی طاقتور نہیں بن سکے تھے ۔

انھوں نے ہندوستان کی سیاست میں جنرل ضیاء الحق کا ماڈل متعارف کروایا۔آج اس ماڈل کو مودی صاحب لے کر چلے ہیں۔پہلے گجرات میں ہندو مسلم کش فسادات کروائے، مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور آج پورے ہندوستان میں مسلمان اور اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔جین زی نے کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھ کر ، مودی کی نفرت اور انتہا پرستی کے بیانیہ کو چیلنج کردیا ہے۔

جین زی، دراصل ہندوستان کو RSS سے آزاد کروانا چاہتی ہے۔وہ اس حق میں ہندوستان ایک سیکولر ملک تھا اور دوبارہ ہندوستان میں سیکولرازم آنا چاہیے ۔مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بعد ہندوستان کے اندر ان کی جمہوریت اس دنیا میں اپنے راستوں کا تعین کررہی ہے۔