اُف یہ ’’فٹبالیے‘‘۔۔۔۔مداحوں کے دل چسپ ماجرے

کسی نے مرتے ہوئے کلب کو بچایا، کوئی تنہا تماشائی بنا



میرے بھتیجے ذُبیان صدیقی کی ایک محبوبہ ہے۔۔۔کبھی بھتیجے صاحب کڑی دھوپ میں اس کے ساتھ ہیں، تو کبھی ٹھٹھرتی راتوں میں اس کے سنگ۔۔۔اس کا ہر تقاضا پورا کرنے کو ہمہ وقت تیار۔۔۔اس پر پیسے لٹانے کو ہر پل آمادہ۔۔۔ نازنخرے اٹھواتی، اپنے پیچھے دوڑاتی تھکاتی اس دل رُبا کا نام ہے ’’کرکٹ۔‘‘ اس طوفانی عشق کے باجود جب ذبیان نے اپنے کمرے میں رنگ وروغن کرایا تو اپنے بیڈ کے سرہانے کے عین سامنے دیوار پر دیوار ہی کے حجم کی ایک پینٹنگ بنوائی، لیکن یہاں وہ اپنی محبوبہ سے بے وفائی کرگیا، یہ پینٹگ کرکٹ کے بجائے ’’مانچسٹر یونائیٹڈ فٹ بال کلب‘‘ کے منقش لوگو کی صورت میں فٹ بال سے عشق کی عکاس تھی۔

سوچیے، جب ایک پاکستانی نوجوان، جس کے ملک میں فٹ بال کی قومی ٹیم بس رسمی طور پر موجود ہے، جب اس کھیل سے یوں پیار کرتا ہو تو جو ممالک فٹ بال عالمی سطح پر کھیلتے اور فتوحات سمیٹتے رہے ہیں، ان کے عاشقان فٹ بال کے عشق کی کیا کیفیت ہوگی؟ جب کورونا کی ہول ناک وبا میں دنیا ’’شہرخالی، کوچہ خالی، جادہ خالی، خانہ خالی‘‘ کا منظر پیش کر رہی تھی، تو فٹ بال اسٹیڈیم کی ویرانی نے بتادیا تھا کہ شائقین کے بغیر یہ کھیل بالکل بے جان ہے۔ فٹ بال صرف میدان میں موجود کھلاڑیوں اور گیند کا نام نہیں، بلکہ یہ اس ماحول کا نام ہے جو چار اطراف بیٹھے تماشائی پیدا کرتے ہیں۔

جوش وجذبات سے بھرے اس کھیل کے اکثر مداح بھی اپنی اس معشوق کے لیے نہایت جوشیلے اور جذباتی ہوتے ہیں، بعض اوقات تو وہ حد ہی کردیتے ہیں اور اپنے عشق کی انتہا سے فٹ بال کی تاریخ میں دل چسپ ماجرے لکھ ڈالتے ہیں۔ ویسے فٹ بال کی محبت سے ہٹ کر بھی اس کے کھیل کے بعض شائقین نے پہچان بنائی ہے۔ کسی نے اپنے ذاتی مسئلہ نمٹانے کے لیے اس کھیل کو چُنا، تو کوئی ’’فٹ بالیا‘‘ اپنے خیالات دنیا تک پہنچانے کے لیے میدان میں اتر آیا۔ محبت، جنون، نفرت، انتقام اور اظہارجذبات کے کچھ ایسے ہی ماجرے اور قصے آپ کی نذر۔

شور شرابے کے بیچ سُکوت کا زندہ مجسمہ

فٹ بال مسلسل حرکت کا کھیل ہے، بھاگ دوڑ، اچھلنا اور جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا۔۔۔ پھرتیلے اور توانائی سے لبریز ’’فٹ بال بازوں‘‘ کی زندگی ہے، کھلاڑی ہی نہیں تماشائی بھی مقابلوں کے دوران مسلسل جھومتے، ناچتے، تالیاں بجاتے اور پہلو بدلتے متحرک رہتے ہیں۔ لیکن دنیا میں ایک ایسا فٹ بال کا پرستار بھی ہے جو اس ساری ’’ہلڑبازی‘‘ اور شورشرابے میں ساکت جامد بُت بنا کھڑا رہتا ہے۔ وہ لولمبا ویا ( Vea Lumumba) کے نام سے جانا جاتا ہے اور کانگو کی مقامی زبان میں اس نام کا مطلب ہے ’’لولمبا زندہ ہے۔‘‘ اس دیوانے کا نام ہے مبولا ڈینگا، جو کانگو کی قومی ٹیم کا سب سے مشہور مداح ہے۔ مبولا صاحب پہلی بار 2025 میں مراکش میں ہونے والے افریقہ کپ آف نیشنز کے دوران منظرِعام پر آئے تھے۔

وہ کانگو کے ہر میچ کے دوران ایک اونچے اسٹینڈ پر بالکل ساکت کھڑے ہوجاتے، ان کی نظریں ایک جگہ جم جاتیں اور وہ میچ کے آغاز سے لے کر اختتام تک اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند رکھتے۔ اس کے بعد تو جہاں کانگو کی ٹیم میدان میں اترتی ہے وہاں یہ ’’مجسمہ‘‘ خود جاکر نصب ہوجاتا ہے۔ ان کا یہ انداز پیٹریس ایمری لوممبا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ پیٹریس ایمری لوممبا، کانگو کی جدوجہد آزادی کے راہ نما اور ایک انقلابی تھے۔ وہ جون 1960 میں بیلجیم سے آزادی کے بعد کانگو کے پہلے وزیراعظم بنے۔ انھیں حکومت سنبھالنے کے محض سات ماہ بعد جنوری 1961 میں قتل کردیا گیا، جب وہ صرف پینتیس سال کے تھے۔ مبولا ڈینگا کی شکل و صورت لوممبا سے حیرت انگیز طور پر ملتی ہے۔

کئی عشرے گزرنے کے بعد اب مبولا ڈینگا فٹ بال کے اس خوب صورت کھیل کے ذریعے لوممبا کی یاد کو نسل در نسل منتقل کر رہے ہیں۔ مبولا ڈینگا فٹ بال کے مداح ہونے کے ساتھ لولمبا کے عشق میں بھی گرفتار ہیں، جنھیں وہ اپنی تحریک کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک لولمبا ایک ایسے راہ نما ہیں جنھوں نے کانگو کے لوگوں کو سر اٹھا کر جینا اور فخر کرنا سکھایا۔ قتل کے بعد ان کی لاش کو پہلے ایک گڑھے میں پھینکا گیا، بعد میں اسے نکال کر ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا اور تیزاب میں گھول کر ان کے جسم کا نام و نشان مٹادیا گیا، لیکن آج وہ مبولاڈینگا کی طرح اہل کانگو سمیت کتنے ہی انسانوں کے دلوں اور یادوں میں زندہ ہیں۔ لولمبا کے مقبرے میں بس ان کا ایک سونے کا دانت دفن ہے، مقبرے پر لوممبا کامجسمہ نصب ہے جس کا دایاں ہاتھ فضا میں بلند ہے، ٹھیک یہی انداز مبولا ڈینگا ہر میچ میں بناتے ہیں۔

ان کا یہ انداز افریقی فٹ بال کی ایک پہچان بن چکا ہے۔ لوگوں کے لیے بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی انسان اتنی دیر تک بغیر ہلے جلے اپنا ہاتھ کیسے اٹھائے رکھ سکتا ہے؟ مبولا ڈینگا کہتے ہیں،’’آپ یقین کریں یا نہ کریں، میں اس کی باقاعدہ مشق کرتا ہوں۔ میں مہینے کے 20 دن اس کی مشق کرتا ہوں اور باقی دنوں میں جسم کو مکمل آرام دیتا ہوں۔‘‘

حالیہ عالمی کپ میں ان کی آمد خطرے میں پڑگئی تھی، کیوں کہ کانگو میں ایبولا وائرس پھیلنے کی وجہ سے امریکا نے سفری پابندیاں عائد کردی تھیں۔ لیکن کانگو کی فٹ بال ٹیم اپنے اس ہیرو کو پیچھے چھوڑنے پر تیار نہیں تھی۔ اس نے کانگو کے صدر فیلکس شیسیکیڈی کو راضی کیا کہ مبولا ڈینگا کو ٹیم کے سرکاری وفد کا حصہ بنایا جائے تاکہ انھیں ویزا مل سکے۔ فٹ بال کے اس مداح کی محبت کا کرشمہ دیکھیے کہ اس کی قومی ٹیم کے کھلاڑی اس پر فدا ہوگئے ہیں۔ ہنگامے میں سکوت کا منظر پیش کرتا یہ ’’زندہ مجسمہ‘‘ فٹ بال کے ذریعے ایک انقلابی اور حریت پسند راہ نما کی یادیں تازہ کرتا ہوئے ثابت کر رہا ہے کہ عوام کے کسی محبوب راہ نما کو عوامی یاددشت میں زندہ رکھنے کے لیے ’’ایک بندہ کافی ہے۔‘‘ 

جب چاہنے والوں نے مرتے ہوئے کلب کو بچالیا

دوستی اور محبت کا پتا مشکل وقت ہی میں چلتا ہے، جن کی محبت کا محور فٹ بال ہے کم ازکم وہ اس امتحان میں پورے اترتے ہیں، جیسے اسپین کے کلب ’’رئیل اوویڈو‘‘ (Oviedo Real ) کا پرستار۔

شمالی اسپین کے علاقے آستوریاس کی دل کش وادی اوویڈو میں کھیلنے والا کلب ’’رئیل اوویڈو‘‘ فٹ بال کی تاریخ کا وہ یادگار نام ہے جسے بچانے کے لیے پوری دنیا کے فٹ بال پریمی ایک ہو گئے تھے۔ یہ بات ہے 2012 کی، جب یہ کلب قرضوں کی دلدل میں اس حد تک دھنس چکا تھا کہ اس کے بند ہونے میں محض چند ہی دن باقی رہ گئے تھے۔ مالی مشکلات کے باعث دنیا میں کتنے ہی فٹ بال کلب دَم توڑ چکے ہیں، اگر رئیل اوویڈو کے عشاق بھی آگے نہ بڑھتے تو یہ کلب بھی آج بس تاریخ کا حصہ ہوتا۔ ایسے مایوس کن حالات میں جب کلب سے جُڑے ہر شخص کو اس کے خاتمے کا یقین ہوچلا تھا، اس تاریخی کلب کو بچانے کے لیے دنیا بھر میں ایک بے مثال مہم چلائی گئی، جہاں شائقین نے اپنی جیب سے پیسے لگا کر کلب کے شیئرز خریدے تاکہ اس کا وجود برقرار رکھنے کے لیے ضروری 19 لاکھ یورو جمع کیے جاسکیں۔

اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص کارلوس سلم سے لے کر کلب کے سابق کھلاڑی، اس کے پرستار اور فٹ بال سے محبت کرنے والے رئیل اوویڈو کو بچانے کے لیے نہ صرف خود ہاتھوں میں نوٹ تھامے آگے بڑھے بلکہ انھوں نے کلب کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے زبردست مہم بھی چلائی۔ ورلڈکپ کے فاتح کئی کھلاڑی بھی گم نام رہتے ہوئے اس مہم میں کلب کے مالی مددگار بن گئے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ یہ مہم اتنی کام یاب رہی کہ محض دو ہفتوں کے اندر، اس کلب اور فٹ بال سے محبت کرنے والوں نے مل کر 19 لاکھ 30 ہزار یورو اکٹھے کر لیے۔ اس مدد سے مرتے ہوئے کلب میں زندگی جاگ اٹھی۔

ایک موقع ایسا بھی آیا کہ رئیل اوویڈو کا مقابلہ حریف کلب ’’رئیل میڈرڈ سی‘‘ سے تھا، جس کے کھلاڑیوں نے بھی رئیل اوویڈو کے شیئرز خرید کر اسے زندہ رہنے میں مدد دی۔ ڈوبتے کلب کی مدد صرف پیسے دینے اور شیئرز خریدنے تک محدود نہیں رہی، اس کے چاہنے والوں نے اس کے سوا بھی اپنی چاہت کا ثبوت دیا۔ ایک صبح شائقین خود صفائی کا سامان، جھاڑو اور پینٹ کی بالٹیوں کے ساتھ کلب کے ٹریننگ گراؤنڈ پہنچ گئے اور وہاں صفائی ستھرائی اور تزئین ومرمت کا کام کیا۔ ایک کلب کو مٹ جانے سے بچالینے کا یہ قصہ فٹ بال سے عشق کی امرکہانی بن چکا ہے۔

گھانا سے امریکا۔۔۔کاروں پر عشق کا سفر

فٹ بال کے عالمی میدان میں سرگرم ہر ملک کی فٹ بال ٹیم کے شائقین اپنی قومی ٹیم سے پیار کرتے ہیں، لیکن کچھ پیار کرنے والے اپنی ’’پریمیکا‘‘ کے لیے اظہارمحبت کی نئی راہ نکال لیتے ہیں۔ گھانا کے شائقین نے کوئی راہ تو نہ نکالی لیکن وہ ایک طویل راستے پر چل پڑے جو انھیں براعظم افریقہ میں واقع اپنے وطن سے بہت دور امریکا لے گئیں، جہاں ان کی ٹیم 2026 کے عالمی کپ میں شریک اور راؤنڈ آف 32 کے آخری مقابلے کی تیاری کر رہی تھی۔  ’’بلیک اسٹارز‘‘ کی عرفیت رکھنے والی اپنی قومی ٹیم کے یہ چھے مداح ایک دوسرے کے دوست اور فٹ بال کے دیوانے ہیں۔

ان دیوانوں نے تین کاروں میں سوار ہوکر گھانا کے دارالحکومت ایکرا سے امریکا تک سفر کیا۔ وہ اپنی گاڑیوں پر یورپ کے راستے امریکا اور کینیڈا پہنچے تاکہ وہاں اسٹیڈیمز میں بیٹھ کر گھانا کی ٹیم کی بھرپور حمایت کرسکیں۔ مختلف براعظموں پر محیط ان کا یہ طویل سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ فٹ بال کے دیوانے اپنی قومی ٹیم کے پیچھے جانے کے لیے کسی بھی حد تک گزر سکتے ہیں۔ گھانا کی ٹیم کے یہ چھے مداح ٹھیک اس وقت بوسٹن پہنچے جب گھانا کا مقابلہ کولمبیا سے ہونے والا تھا۔ اپنے ان چاہنے والوں کی آمد کا سُن کر گھانا کی ٹیم کے حوصلے بلند ہوگئے۔ فٹ بال ہی کی طرح اس گول دنیا کے ایک بڑے حصے پر پھیلی یہ مسافرت تمام تر دقتوں کے ساتھ ختم ہونے پر اس کھیل سے عشق کا یادگار اور تاریخی سفر بن گئی۔

تنہا تماشائی۔۔۔کلب پر لُٹادی عمر بھر کی کمائی

تیاگو ریش کی فٹ بال اور اپنے پسندیدہ کلب سے لگاؤ کی حکایت پیار کی انوکھی اور اچھوتی کتھا ہے۔

برازیل سے تعلق رکھنے والے تیاگو ریش نے جب سے ہوش سنبھالا وہ اپنے من بھاتے فٹ بال کلب ’’سانتا کروز‘‘ (Cruz Santa ) کلب کے میچ دیکھتے آئے ہیں، یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا جب اسٹیڈیم میں اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے والے وہ اکلوتے تماشائی تھے۔ یہ قصہ لگ بھگ چوبیس سال پہلے کا ہے جس نے ٹیم کی حمایت کا بوجھ تنہا اٹھانے والے تیاگو کو راتوں رات مشہور کردیا۔ برازیل کے شہر Santa Cruz do Sul میں پانچ ہزارتماشائیوں کی گنجائش والے اسٹیڈیم سے محض پانچ بلاکس دور پیدا ہونے والے تیاگو، 10 سال کی عمر سے ہی اپنے والد کے ساتھ اسٹیڈیم کی کنکریٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر اپنی ٹیم کے میچ دیکھا کرتے تھے۔

جیسے ہی وہ جوانی میں داخل ہوئے، اسکول، یونیورسٹی اور پھر اخبار کی ملازمت انہیں وہاں سے 120 کلومیٹر دور آباد شہر ’’پورٹو الیگری‘‘ لے گئی، جس کی وجہ سے وہ اپنے پیارے کلب کے میچز دیکھنے سے محروم ہوگئے۔ تاہم 2012 میں سانتا کروزکلب گریمیو کلب سے مقابلے کے لیے پورٹوالیگری پہنچی تو تیاگو کے دل کی کلی کھل اُٹھی۔ تیاگو کے لیے یہ اپنی ٹیم کے شائقین کے ساتھ اسٹینڈز میں بیٹھ کر اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے کا ایک سنہری موقع تھا، لیکن سب کچھ ان کی سوچ کے بالکل برعکس ہوا۔ وہ بتاتے ہیں،’’میچ رات 9 بجے شروع ہونا تھا۔

میں رات 8 بجے اپنے دفتر سے نکلا اور اکیلا ہی پیدل چل پڑا۔ میں نے سانتا کروز کی جرسی پہن رکھی تھی۔‘‘ وہ تنہا اور پیدل سفر کرتے اسٹیڈیم پہنچے اور  ٹکٹ کاؤنٹر پر پوچھا کہ کیا کوئی اورآیا ہے؟ اس وقت میچ شروع ہونے میں بس 20 باقی تھے۔ انھیں نفی میں جواب ملا۔ وہ اسٹیڈیم میں جابیٹھے اور باقی شائقین کا انتظار کرنے لگے، کوئی نہیں آیا۔۔۔آخر میچ شروع ہوگیا۔ 15 ویں منٹ میں سانتا کروز نے پہلا گول داغ دیا، جس پر تیاگو نے اکیلے ہی نعرے لگا اور تالیاں بجاکر جشن منایا، اپنے یوں تنہا خوشی منانے پر وہ شرمندگی محسوس کر رہے تھے۔

میچ دکھانے والی ٹی وی ٹیم کی نظر جلد ہی اس اکیلے تماشائی پر پڑی اور اس نے کیمرے کا رخ اس کی طرف موڑ دیا۔ بس پھر کیا تھا، تیاگو کا فون والدین اور دوستوں کی کالز اور میسجز سے بجنے لگا۔ میچ کا خاتمہ گریمیو کلب کی جیت پر ہوا، اور تیاگو پورا وقت اسٹیڈیم میں تنہا بیٹھے اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

اگلی صبح، اسٹینڈ میں اکیلے بیٹھے تیاگو کی ایک تصویر، جس کے پاس پلاسٹک کا آدھا خالی کپ رکھا تھا، اس اخبار کے صفحہ اول پر جگمارہی تھی جس میں وہ کام کرتے تھے، تصویر پر سرخی تھی،’’مجھے یوں تنہا مت چھوڑو۔‘‘ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تصویر اور یوٹیوب پر اس کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔ تیاگو کی سانتاکروز کلب سے الفت کا سفر یہاں ختم نہیں ہوا، اس تنہا تماشائی نے کوئی سال بھر بعد اپنے پسندیدہ کلب سے عملاً وابستگی اختیار کرلی اور مارکیٹنگ اور میڈیا سے متعلق امور سنبھال لیے۔ بالآخر وہ ستائیس سال کی عمر میں اس کلب کے صدر بن گئے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کلب قرض تلے دب گیا۔

تیاگو نے کھلاڑیوں کی تنخواہیں دینے کے لیے اپنے والد سے قرض لیا، اپنے کریڈٹ کارڈز بلاک کرائے اور اپنی وہ تمام جمع شدہ رقم کلب پر لگا دی جو ان کے والدین نے انہیں اپارٹمنٹ خریدنے کے لیے دی تھی۔ سب کچھ ضائع گیا اور کلب ناکامی کی کھائی میں جاگرا۔ ڈپریشن میں مبتلا تیاگو نے کلب کی صدارت چھوڑی اور صحافت کی طرف لوٹ گئے۔ وہ ایک بار پھر سانتا کروز کے ایک عام مداح بن گئے۔ کلب کے حالات نہ بدلے، یہاں تک کہ کلب کے ہمیشہ کے لیے بند ہونے کی باتیں ہونے لگیں۔

اسی دوران تیاگو اپنے شہر واپس آئے، ایک بار پھر کلب کی صدارت سنبھالی، اپنی حکمت عملی سے کلب کی ساکھ اور حیثیت بحال کی اور اسے مالی ابتری سے نکال لیا، اس کے ساتھ ہی سانتاکروز کی فتوحات کا سفر ازسرنو شروع ہوگیا۔ کلب کو کھوئی ہوئی حیثیت واپس دلانے کے بعد تیاگو نے اس کی صدارت اپنے ایک دوست کے حوالے کردی، اور بس تماشائی بن گئے۔

میدان میں بے خطر کودتا پھلانگتا جمی جمپ

ایک صاحب ہیں جمی جمپ، تعلق رکھتے ہیں اسپین سے۔ یہ فٹ بال کی دنیا کے سب سے مشہور اور بدنامِ زمانہ پچ انویڈر (Pitch invader) یعنی میدان میں زبردستی گھسنے جانے والے یا گھس بیٹھیے ہیں، بلکہ انھیں گھس بیٹھیا کہنا بھی غلط ہوگا، کیوں کہ وہ سکون سے بیٹھتے ہی کب ہیں، ان کے لیے ’’گھس دورڑیا‘‘ کا خطاب مناسب رہے گا ۔ جمی کو ان کے انوکھے کرتبوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، جن کی انھیں بھاری قیمت بھی چکانی پڑی۔ ان کی یہ حرکتیں فٹ بال تک محدود نہیں، بلکہ وہ کسی بھی کھیل میں بھاگ کر ٹانگ اڑا دیتے ہیں۔ فٹ بال کے علاوہ ٹینس، باسکٹ بال، فارمولا 1 ریس یا کوئی تقریب، وہ کھیل اور تفریح کے کسی بھی مقام پر ’’کودا ترے گھر میں یوں کوئی دھم سے نہ ہوگا‘‘ جیسا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک مرتبہ انھوں نے فرانس کے فٹ بالر تھیری ہنری کو بارسلونا کی شرٹ پہنا دی، اس وقت تک ہنری نے باقاعدہ طور پر کلب جوائن بھی نہیں کیا تھا۔ جمی جمپ نے 2010 کے ورلڈ کپ فائنل میں بھی سب کو حیران کردیا۔ فائنل میچ شروع ہونے سے ٹھیک پہلے وہ سیکیوریٹی کو چکمہ دے کر میدان میں پہنچ گئے، وہ ورلڈ کپ ٹرافی پر اپنا ہیٹ رکھنے ہی والے تھے کہ سیکیوریٹی اہل کاروں نے انھیں دبوچ لیا، ورنہ وہ ٹرافی کو ’’ٹوپی پہنا‘‘ ہی دیتے۔ جمی جمپ یہ تماشے کیا صرف سستی شہرت کے لیے دکھاتے ہیں؟ بہ ظاہر ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہ سب کرتے ہوئے وہ نسل پرستی یا کسی ظلم اور استحصال کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی انوکھی مہم پر ہوتے ہیں۔ وقت انھوں نے فیفا ورلڈکپ کی ٹرافی پر ہلا بولا اس وقت وہ جو ٹی شرٹ پہنے تھے اس پر لکھی انگریزی عبارت کا ترجمہ ہے،’’جمی جمپ، نسل پرستی کا مخالف‘‘، جب کہ 2008 کے عالمی کپ کے ایک میچ میں وہ جو ٹی شرٹ زیب تن کیا تھے اس پر ’’تبت، چین نہیں‘‘ کے الفاظ درج تھے۔

میدان مارا نہیں میدان مار دیا!

جب بھی اسکاٹ لینڈ کی ٹیم برطانیہ کو ہراتی ہے، تو دونوں ممالک میں باہمی چپقلش کے باعث، اسکاٹش شائقین کی خوشی دیدنی ہوتی ہے، مگر 1977 کی ’’برٹش ہوم چیمپئن شپ‘‘ میں تو کمال ہی ہوگیا۔ میدان میں ایک ایسا منظر ابھرا جسے کھیل کی تاریخ میں مداحوں کے چند دیوانہ وار لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس مقابلے کا ذکر ہے اس میں اسکاٹ لینڈ نے نہ صرف برطانیہ کو 1۔2 سے شکست دی بلکہ پورے میچ میں اس پر حاوی رہا۔ اس جیت کا مزہ اس لیے بھی دگنا تھا کیوںکہ یہ مقابلہ برطانیہ کی دھرتی پر ہورہا تھا، یوں اسکاٹش مداحوں کو برطانیہ کے سینے پر مونگ دلنے کا موقع مل گیا۔

میچ ختم ہونے کی سیٹی بجتے ہی شائقین تمام رکاوٹیں توڑ کر میدان میں امڈ آئے۔ جوش کا یہ عالم تھا کہ کئی مداح گول پوسٹ کے اوپر چڑھ گئے اور ان کے وزن سے لوہے کا فریم بیچ سے ٹوٹ کر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ بہت سوں نے یادگار کے طور پر ساتھ لے جانے کے لیے میدان میں لگی گھاس کے ٹکڑے کھود کر اکھاڑ لیے۔ ان اسکاٹش تماشائیوں کی ٹیم نے تو اس مقابلے میں میدان مارا تھا لیکن اپنی فتح پر آپے سے کچھ زیادہ ہی باہر ہوجانے والے ان مداحوں نے ’’میدان مار دیا۔‘‘

یہ کیسا استقبال!

نومبر 1993 میں یونین آف یورپین فٹبال ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ہونے والی UEFA چیمپئنز لیگ کے ایک مقابلے کے لیے برطانیہ سے تعلق رکھنے والی مانچسٹر یونائیٹڈ کا مقابلہ ترکی کے کلب ’’گیلاتاسرائے‘‘ (Galatasaray) سے ہونا تھا۔ اولڈ ٹریفورڈ میں ایک مایوس کن ہار کے بعد اب مانچسٹر یونائیٹڈ کے لیے استنبول جاکر یہ میچ جیتنا ہر حال میں ضروری تھا۔ لیکن جیسے ہی انگلش ٹیم ترکی پہنچی، ان کا استقبال خوف ناک بینرز اور عجیب و غریب نعروں سے کیا گیا، جن میں سب سے مشہور بینر تھا،’’جہنم میں خوش آمدید!۔‘‘ میچ کے دوران بھی اسٹیڈیم کا ماحول انتہائی جارحانہ رہا اور کھیل ختم ہوتے ہی حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ مانچسٹر یونائیٹڈ کے کئی مداحوں پر تشدد کیا گیا اور انھیں گرفتار بھی کیا گیا۔

 میچ جاری۔۔۔مگر ہر طرف خاموشی طاری

ستمبر 2011 میں سویڈن میں Djurgarden اور AIK کے درمیان ہونے والے ایونٹ ’’اسٹاک ہوم ڈربی‘‘ کا آغاز روایتی شور شرابے کے بجائے پہلے 10 منٹ کے لیے بالکل گہری خاموشی سے ہوا۔ یہ اسٹیڈیم میں موجود دونوں ٹیموں کے چوبیس ہزار کے قریب مداحوں کا ایک مشترکہ اور پرامن احتجاج تھا، جو میڈیا میں اپنی غلط تصویر کشی، سیکیورٹی حکام کے سخت رویے اور مقامی فٹ بال کلبوں کی طرف سے اپنے استحصال کے خلاف تھا۔ اگرچہ اسٹیڈیم میں اس قدر خاموشی تھی کہ میدان میں کھلاڑیوں کی گفتگو کی آواز دور دور تک سنائی دے رہی تھی۔ فٹ بال اسٹیڈیم جہاں نعروں، تالیوں اور صداؤں کی صورت شورِقیامت مچا ہوتا ہے، یہ قبرستان کی سی خاموشی اتنی اونچی آواز میں بولی کہ جس جس کے خلاف یہ احتجاج ہوا وہ اس تک یہ آواز پہنچ گئی۔

سَنّاٹے کی اس گونج نے جرمنی کی فضاؤں کو بھی بھردیا۔ جرمی ہو یا کوئی اور دیس، فٹ بال کے مقابلے ہمیشہ پُرجوش نعروں سے شروع ہوتے ہیں اور آواز کا سیلاب میچ کے دوران جاری رہتا ہے۔ لیکن نومبر  2025 میں جرمنی میں فٹ بال کے مقابلوں بنڈس لیگا (Bundesliga) کا ہر میچ شائقین کی مکمل خاموشی کی سنسناہٹ میں شروع ہوا۔ مداحوں نے ہر میچ میں ابتدائی 12 منٹ مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی، بس کہیں کہیں سے دھیمی سی تالیاں یا طنزیہ آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

یہ احتجاج ’’فینز سینن ڈوئچ لینڈ‘‘  (Deutschland Fanszenen) کی کال پر کیا گیا تھا، جو جرمنی میں شائقین کی تنظیموں کا سب سے بڑا اتحاد ہے۔ یہ احتجاج اس سیکیورٹی قانون کے خلاف کیا گیا جس کے تحت اسٹیڈیمز میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات نافذ کیے جانے تھے، جیسے اسٹیڈیمز میں داخلے کے لیے شناختی دستاویزات کی کڑی جانچ پڑتال، تماشائیوں پر مختلف پابندیاں بھی اس قانون کا حصہ تھیں۔

ایئرلائن سے لڑائی۔۔۔گول پوسٹ کی شامت آئی

2012 کے آغاز میں برطانوی کلبز مانچسٹر سٹی اور ایورٹن کے مابین گڈیسن پارک میں ہونے والے میچ کا پہلا ہاف ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے ایک گول مٹول تماشائی جان فولی اچانک میدان میں کود پڑا اور مانچسٹر سٹی کے گول کیپر جو ہارٹ کی گول پوسٹ کے پاس جاکر ہتھکڑی سے اپنی گردن کو اس کے گول پوسٹ سے باندھ لیا، جس کی وجہ سے کھیل کو 5 منٹ کے لیے روکنا پڑا۔

جان فولی کا مسئلہ کسی کی ہارجیت نہیں تھی، وہ مقامی ایئرلائن Ryanair سے اپنی بیٹی کی ملازمت ختم ہونے کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ دراصل اس ایئرلائنز کے سی ای او مائیکل اولیری بھی میچ دیکھنے آئے ہوئے تھے، سو جان فولی نے اپنی بیٹی کی نوکری جانے پر غم وغصے کے اظہار کے لیے یہ موقع چُنا۔ اسے آپ بیٹی کی محبت میں ایک باپ کی قربانی بھی کہہ سکتے ہیں۔ موصوف کو پولیس نے گول پوسٹ سے الگ کرکے حراست میں لے لیا۔ بعدازآں اس پر مقدمہ چلا اور 300 پاؤنڈ جرمانہ اور 350 پاؤنڈ مقدمے کے اخراجات ادا کرنے کی سزا کے ساتھ جان فولی کو تین سال کے لیے فٹ بال میچز دیکھنے سے محروم کردیا گیا۔

سَرمیداں سور کا سَر

احتجاج کرنے والے جوتے، ٹماٹر اور پتھر مار کر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن فٹ بال کے ایک دل دادہ نے

احتجاجاً پھینکنے کے لیے کچھ الگ ہی چُنا۔

2002 میں ہسپانوی شہر بارسلونا کے نو کیمپ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران، بارسلونا کا ایک مداح اپنے سابق ہیرو لوئس فیگو کو اپنے نہایت ناپسندیدہ اور حریف کلب ریئل میڈرڈ کی جرسی میں دیکھ کر سخت غصے میں تھا۔ دراصل لوئیس فیگو نے بارسلونا کلب چھوڑ کر اس کے روایتی حریف ریئل میڈرڈ کلب سے ناتا جوڑ لیا تھا، جس پر بارسلونا کلب کے پرستار برہم تھے۔

لوئی جب بھی کارنر کِک لینے کے لیے جاتے تماشائیوں کی طرف سے میدان میں خالی بوتلوں سمیت مختلف اشیاء کی کی بارش کردی جاتی۔ ان میں سے ایک کی برہمی سب سے سوا تھی۔ یہ ناراض مداح کسی کسی نہ کسی طرح بچ بچاکر سور کا سالم کٹا ہوا سر لیے اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گیا، جیسے ہی لوئس فیگو کارنر کک لگانے کے لیے آگے بڑھے، اس نے وہ سر میدان میں ان کی طرف پھینک دیا، جس کی وجہ سے میچ کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔ ایک ’’فٹ بالیے‘‘ کا یہ دیوانہ پن کھیل کی تاریخ کا ہمیشہ یاد رکھا جانے والا لمحہ بن گیا۔

جیتے دل جاپانیوں نے

2026 کے رواں عالمی فٹ بال میلے میں بھی شائقین کے بہت سے انداز اور تیور  سامنے آئے، مگر جو کچھ فٹ بال کے جاپانی مداحوں نے کیا وہ سب سے خوب صورت تھا۔ جاپانی شائقین کی دنیا بھر میں مشہور روایت اس ورلڈ کپ میں بھی دیکھنے کو ملی۔ جاپان اور نیدرلینڈز کا سنسنی خیز معرکہ 2-2 سے برابر ہونے کے بعد جاپانی تماشائیوں نے اسٹیڈیم سے باہر جانے کے بجائے اسٹینڈز میں موجود کوڑاکرکٹ اور خالی بوتلیں چُننا شروع کردیں۔ جاپان میں ایک مشہور کہاوت ہے،’’اُڑنے والا پرندہ کبھی اپنے پیچھے کوئی نشان نہیں چھوڑتا‘‘ ان پنچھیوں نے بھی پرواز سے پہلے اپنی ہر نشانی مٹادی اور ہر دل میں اپنی محبت بٹھادی۔

جب محبت عداوت میں ڈھل جائے۔۔۔

کھیلوں کی ایک دلوں کو موہ لینے والی پہچان ’’اسپورٹس مین اسپرٹ‘‘ ہے، جس کا مطلب ہے اپنی شکست اور حریف کی فتح ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا، لیکن بعض گرم دماغ کے پرستار کھیل میں بھی دشمنی اور عداوت کا چلن اپنا لیتے ہیں۔ امریکی ریاست الاباما سے تعلق رکھنے والا ہاروی اپڈائیک جونیئر بھی ایک ایسا ہی بغض وعدات سے بھرا پرستار تھا۔ الاباما کے شہر اوبرن میں کالج فٹ بال کی دو حریف ٹیموں Alabama Crimson Tide  اور Auburn Tigersکی باہمی مخاصمت بہت پرانی اور تاریخی ہے۔ نومبر 2010 میں الاباما کریمسن ٹائیڈ کے پُرجوش حامی ہاروی اپڈائیک نے بڑے گھناؤنے انداز میں مخالف ٹیم دشمنی نکالی۔ اس نے ایک مقابلے میں اپنی من پسند ٹیم کی ہار کا انتقام لینے کے لیے اوبرن یونیورسٹی کے کیمپس میں لگے 100 سال پرانے بلوط کے تاریخی درختوں کی جڑوں میں کوئی زہریلی دوا ڈال کر انھیں سکھا دیا۔

ان درختوں کا بس اتنا قصور تھا کہ اوبرن ٹائیگرز کے مداح ان کے سائے تلے جمع ہوکر اور ان پر ٹوائلٹ پیپر پھینک کر اپنی ٹیم کی ہر جیت کا جشن منایا کرتے تھے۔ یہ مکروہ فعل انجام دینے کے دو ماہ بعد ہاروی نے ایک اسپورٹس ریڈیو ٹاک شو میں کال کر کے فرضی نام استعمال کرتے ہوئے اپنے اس جرم کا اعتراف کیا۔ پولیس کال کا پتا لگا کر اس تک پہنچ گئی، وہ گرفتار ہوا اور اسے چھے ماہ جیل میں گزارنے پڑے، اس پر بھاری جرمانہ بھی عاید کیا گیا۔ کھیل کی محبت میں ہرے بھرے درختوں سے کھلواڑ کا یہ واقعہ فٹ بالیوں کے اشتعال کا ایک دردناک قصہ ہے۔

جوش جگانے اور شرم دلانے کا انوکھا طریقہ

یوں تو اسٹیڈیم میں موجود مداحوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ اپنی پسپا ہوتی ٹیم کی مدد کے لیے خود میدان میں اُتر جائیں، لیکن اس ناممکن کو وہ کسی طور ممکن بناہی لیتے ہیں۔ یہی کچھ جرمنی کے شہر مگڈبرگ میں ایک مقابلے کے دوران ہوا۔ 25 مارچ 2012 کو مگڈبرگ میں فٹ بال کلبز ایف سی مگڈبرگ اور AK magdeburg کی ٹیمیں برسرپیکار تھیں۔ اس سے پہلے ایف سی مڈبرگ مسلسل 5 میچوں میں ایک بھی گول نہ کرسکی تھی۔ اپنی ٹیم کی اس حالت پر مداحوں کا صبر جواب دے گیا تھا۔ تاہم انھوں نے اپنی ٹیم پر برہم ہونے کے بجائے اس کی مدد کرنے کی ٹھانی۔

دونوں ٹیموں کے چھٹے میچ میں ایف سی مڈبرگ کے مداح اسٹیڈیم میں چمک دار رنگ کے بڑے بڑے تیر بنا کر لائے اور تیر اٹھائے مخالف ٹیم کی گول پوسٹ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ جب بھی ان کی ٹیم آگے بڑھتی، مداح ان تیروں کا رخ گول پوسٹ کی طرف کردیتے تاکہ کھلاڑیوں کو یاد رہے کہ کک کس طرف مارنی ہے! اس طرح وہ اپنی ٹیم کو جوش بھی دلارہے تھے اور شرم بھی۔ مداحوں کے ایک گروہ نے بینر اٹھا رکھا تھا، جس پر لکھا تھا، ’’ہم تمھیں دکھائیں گے کہ گول کہاں ہے۔‘‘ یہ حربہ کام کرگیا اور ٹیم نے میچ کے آخری 10 منٹوں میں ایک گول داغ دیا، لیکن میچ پھر بھی 2۔1 سے ہار گئی۔ یعنی مداحوں کا تیر چلا تو، مگر نشانے پر نہ لگا۔