پاکستان میں معیشت اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے یکم جنوری 2028 ایک اہم ترین تاریخ تصور کی جارہی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ نے بھی اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے معیشت سے سود کے خاتمے کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ اس حوالے سے عوامی سطح پر تو زیادہ گفتگو نہیں ہورہی ہے۔
اس حوالے سے معیشت میں جو بڑی تبدیلیاں آنا ہیں ان میں پورے مالیاتی نظام میں سے سود کا خاتمہ اور ایسے معاہدوں کا خاتمہ شامل ہے۔ بینکاری نظام کے علاوہ ملک میں انشورنس کا مالیاتی نظام کو بھی روایتی نظام سے شریعت کے تحت وضع کردہ اصولوں پر متنقل ہونا ہے۔
اسلامی مالیاتی نظام میں انشورنس کا متبادل نظام تکافل کہلاتا ہے۔ تکافل عربی زبان کے لفظ ’کفالة‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ایک دوسرے کی ضمانت دینا یا کفالت کرنا ہیں۔ روایتی انشورنس میں خطرہ یا رسک ایک تجارتی انشورنس کمپنی کو فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ تکافل میں باہمی تعاون، بھائی چارے اور اشتراک پر مبنی رسک مینجمنٹ کی جاتی ہے۔ تکافل میں باہمی امداد، تصور امانت، اضافی منافع کی تقسیم کے اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔
روایتی انشورنس سے مختلف ہونے کے باوجود تکافل میں وہ تمام رسک جس سے کسی خاندان کو سامنا ہوسکتا ہے، جیسا کہ خاندانی بہبود، طویل مدتی بچت، بچوں کی تعلیم، شادی، اور زندگی کی غیر یقینی صورتحال کے دوران خاندان کی مالی کفالت کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جبکہ جنرل تکافل میں روایتی نان لائف انشورنس کی طرح ہوتا ہے، جس میں املاک، گاڑیوں، صحت، اور تجارتی سامان کو حادثات، چوری یا نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
دنیا بھر میں جیسے جیسے نفع نقصان کی بنیاد پر اسلامی مالیاتی نظام کے حوالے سے آگاہی بڑھ رہی ہے، رسک کی مینجمٹ کا تصور بھی شرعی اصولوں کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس کی مارکیٹ ابھی بہت چھوٹی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تکافل کی مارکیٹ 47 ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔ جبکہ اس کی ترقی کی رفتار اوسطاً 9.9 فیصد سالانہ ہے۔ اور توقع کی جارہی ہے کہ تکافل کی مارکیٹ آئندہ چند سال میں ایک سو ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گی۔
ویسے تو پاکستان میں مجموعی انشورنس کی وسعت جی ڈی پی کا 0.9 فیصد ہے، مگر تکافل کی مارکیٹ سالانہ 14 فیصد کی شرح سے ترقی کررہی ہے۔
انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان نے انشورنس سیکٹر کی پہلی کانفرنس گزشتہ دنوں کراچی میں منعقد کی، جس میں انشورنس صنعت کے پھیلاؤ کے حوالے سے بہت بات چیت کی گئی، ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے اپنے مقالے پڑھے گئے۔ اس کانفرنس میں انشورنس ایسوسی ایشن کے صدر اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے چیف ایگزیکٹو شعیب جاوید حسن نے نمایاں کردار ادا کیا۔
انشورنس کانفرنس میں ایک پورا سیشن تکافل کے حوالے سے تھا۔ روایتی کی جگہ اگر تکافل نے لینی ہے تو پھر اس پر موجودہ انشورنس اور تکافل انڈسٹری سے وابستہ افراد اور ریگولیٹر کی رائے کیا ہے، اس سیشن میں ہر طرح کی رائے سامنے آئی اور اسی رائے کو آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
اس مجلس مذاکرہ کی میزبانی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ہیڈ آف اسلامک فنانس ڈاکٹر طارق نسیم نے کی، جبکہ شرکا میں ایس ای سی پی کے ڈائریکٹر انشورنس ڈویژن وسیم خان، جنرل تکافل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ثاقب ذیشان، فیملی تکافل کے چیف ایگزیکٹو نصرالصمد قریشی، اور روایتی جنرل انشورنس کمپنی کے فیصل خان نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر طارق نسیم نے ملک میں روایتی انشورنس کی صنعت کو تکافل میں تبدیل کرنے کے حوالے سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سماجی اور کاروباری نقصان سے تحفظ کا نظام اور لوگوں کو مالیاتی صنعت تک رسائی ایسے فراہم کی جانی چاہیے جس سے عوام کی ضروریات پوری ہوسکتی ہوں۔ اور پاکستان میں روایتی انشورنس کی وسعت میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوام شرعی اصولوں کے مطابق مالیاتی خدمات چاہتے ہیں۔ لوگ اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے پاکستان میں روایتی انشورنس سے دوری اختیار کرتے ہیں۔ مگر معاشرے اور معیشت میں رسک کو چھوڑا بھی نہیں جاسکتا ہے۔ اس لیے تکافل لوگوں کو شرعی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کرنے اور ناگہانی صورت میں مالی معاونت حاصل کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر نسیم ملک نے بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے اور پارلیمنٹ میں سود کے خاتمے کے حوالے سے آئینی ترمیم کے بعد سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی اپنے زیر اثر مالیاتی شعبے کو شرعی اصولوں پر منتقل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ کی روایتی مالیاتی نظام کے خاتمے کی حکمت عملی پر مبنی دستاویز کے اجرا کے بعد ایس ای سی پی نے بھی روایتی انشورنس کو تکافل پر متتقل کرنے کے رہمنا اصول جاری کردیے ہیں۔
نصر الصمد قریشی جو کہ انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سابق صدر اور دو تکافل انشورنس کمپنیوں کو قائم کرچکے ہیں، اس کے علاوہ وہ حکومت کویت کو فیملی تکافل کی پالیسی سازی میں معاونت کرچکے ہیں۔ نصیر الصمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ دس سال میں ریگولیٹر نے خود کو جدید بنایا ہے اور بہت سا کام ڈیجییٹل ہوگیا ہے۔ مگر مالیاتی صنعت کے دو الگ الگ ریگولیٹر یعنی ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک ہونے کی وجہ سے اب بھی بہت مسائل ہیں۔
بیمہ کاری اور تکافل کی صنعت ابھی بہت چھوٹی ہونے کی وجہ سے سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ سری لنکا، بنگلہ دیش میں بیمہ کاری صنعت پر سیلز ٹیکس صفر ہے۔
فیصل خان نے تکافل صنعت کو خصوصی اور انشورنس صنعت کو مجموعی طورپر درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا خطے کے دیگر ملکوں سے تقابل کرئے ہوئے فیصل خان کا کہنا تھا کہ پاکستان مین فی فرد انشورنس پریمیم 4 سے 5 ڈالر ہے۔ جبکہ انڈیا میں 47 ڈالر فی فرد انشورنس پریمیم ہے۔ رسک یا خطرے کا مذہب نہیں ہوتا ہے۔ کراچی شہر میں ہے اگر انشورنس فراہم کیا جائے تو وہ ارب ہا ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ مگر کیا ری تکافل اتنے بڑے رسک کو کے خلاف تحفظ دینے کے لیے تیار ہے۔ بڑی کمپنیاں ری تکافل میں سرمایہ کاری اسی وقت کریں گی جب انہیں اس میں منافع نظر ائے گا۔
کیا ملک میں سرمایہ کار اسلامی مالیات نظام میں سرمایہ لگانا چاہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں ثاقب ذیشان نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ملک کی پہلی تکافل کمپنی کے اندراج کے حوالے سے بتایا کہ حصص اولین عوامی فروخت میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھی گئی ہے۔ صرف کارپوریٹ سرمایہ کاروں نے فنڈ جمع کرنے کے ہدف سے 21 گنا زیادہ کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے سرمایہ کاروں کا رجحان بھی بہت حوصلہ افزا رہا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ اسلامی اور شرعی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ایس ای سی پی کے ڈائریکٹر وسیم خان نے اعدادوشمار سے وضاحت کی کہ تکافل کی مارکیٹ میں روایتی انشورنس کے مقابلے میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ گاڑیوں کی تکافل پریمیم میں پچاس فیصد، صحت میں 34 فیصد تکافل سے آرہا ہے۔ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرتے ہیں کہ ملک مین تکافل کی طلب بڑھ رہی ہے۔
عوام میں شرعی اصولوں کے مطابق سماجی تحفظ حاصل کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کی طلب نے ریگولیٹر کو مجبور کیا ہے کہ وہ انہیں ایسی پالیسی فراہم کرے جو اس طلب کو پورا کرسکے۔ روایتی انشورنس کمپنیوں کو کہا ہے کہ وہ اپنے بورڈ سے تکافل پر متنقلی کا لائحہ عمل منظور کرا کر ایس ای سی پی کو آگاہ کریں۔
ریگولیٹر، انشورنس اورتکافل صعنت کے افراد کے اس مباحثے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملک میں شرعی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے عوام میں دلچسپی موجود ہے۔ اور اسی دلچسپی کی بنیاد پر حکومت اور ریگولیٹر روایتی انشورنس کو شرعی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی کاوشیں کررہے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔