فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے برآمدات کے فروغ، برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات کے ازالے، تنازعات کے خوش اسلوبی سے حل اور ٹیکس حکام کی جانب سے غیر ضروری ہراسانی کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں ایکسپورٹر فسیلیٹیشن کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے باقاعدہ سرکلر جاری کر دیا جس کے مطابق ان کمیٹیوں کے قیام کا مقصد برآمد کنندگان اور ایف بی آر کے درمیان سہولت کاری، ثالثی اور تنازعات کے حل کا موٴثر فورم فراہم کرنا ہے تاکہ رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کو فروغ دیا جا سکے، غیر ضروری مقدمہ بازی میں کمی آئے اور ٹیکس نظام میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایف بی آر کے مطابق کمیٹیاں فیلڈ فارمیشنز کے روزمرہ دفتری امور اور طریقہ کار سے پیدا ہونے والے ان مسائل کا جائزہ لیں گی جو برآمد کنندگان کے لیے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے معاملات کو ماہانہ اجلاسوں میں زیر غور لا کر باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جن معاملات میں حقائق کی بنیاد پر آڈٹ یا کسی دوسری قانونی کارروائی کی ضرورت محسوس ہو، وہ متعلقہ کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں گے کمیٹی کم از کم تین ووٹنگ ارکان کے کورم کے ساتھ اکثریتی فیصلہ کرے گی، تاہم اگر ووٹ برابر ہوں تو کمیٹی کے چیئرمین مختصر حکم کے ذریعے فیصلہ کریں گے جس کا وقتاً فوقتاً ایف بی آر جائزہ لے گا۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اس سرکلر کے لیے برآمد کنندہ (ایکسپورٹر) سے مراد وہ شخص ہوگا جس کی کسی بھی ٹیکس سال میں مجموعی کاروباری آمدن کا 80 فیصد یا اس سے زیادہ حصہ برآمدات پر مشتمل ہو۔
سرکلر کے تحت کراچی، لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ ریجنز کے لیے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں کراچی ریجن میں 10 ارب روپے سے زائد برآمدات کرنے والے افراد کے معاملات ایک مرکزی کمیٹی دیکھے گی، جبکہ دیگر برآمد کنندگان کے لیے علیحدہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
اسی طرح لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ ریجنز میں بھی متعلقہ دائرہ اختیار رکھنے والے برآمد کنندگان کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جن میں ایف بی آر کے افسران، معروف صنعت کار اور متعلقہ چیمبرز آف کامرس کے صدور بطور غیر ووٹنگ ارکان شامل ہوں گے۔