غم اور خوشی: زندگی کا لازمی حصہ

پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دور کی معروف اداکارہ روحی بانو کی کہانی دیکھیے، اصل زندگی ان کے ڈراموں سے کہیں زیادہ المناک تھی۔



میں ایک دن کلاس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک طالب علم معروف گلوکار زہیب حسن کا یہ گانا گا رہا تھا۔

’’پیار بڑا یا پیسہ،

پیسہ، پیسہ، پیسہ…‘‘

 میں نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرایا اور بولا، ’’سر! بات تو یہی ہے کہ آج کل سب سے بڑی چیز پیسہ ہے۔ پیسہ ہو تو دنیا کی ہر خوشی خریدی جا سکتی ہے، انسان خوشیوں کے ڈھیر لگا سکتا ہے۔‘‘ میں نے بھی مسکرا کر کہا، ’’تمہاری بات ایک حد تک درست ہے۔ پیسے سے بہت سی سہولتیں اور آسائشیں ضرور خریدی جا سکتی ہیں، لیکن غم کو ہمیشہ کے لیے دور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

غم اور خوشی دونوں زندگی کا لازمی حصہ ہیں، انھی دونوں کے امتزاج سے زندگی مکمل ہوتی ہے، جس طرح خوشی کے بغیر زندگی ادھوری ہے، اسی طرح غم کے بغیر بھی زندگی کا تصور مکمل نہیں ہوتا۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بہت زیادہ پیسہ آ جائے تو نہ کوئی دکھ رہے گا، نہ کوئی تکلیف اور نہ کوئی مسئلہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ہر مسئلے کا حل پیسہ نہیں ہوتا۔ بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج دولت سے ممکن نہیں۔ غم زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔‘‘

میں نے کہا، ’’دو منٹ میری بات غور سے سنو، پھر اپنے نظریات کا ایک بار ضرور جائزہ لینا۔‘‘

پھر میں نے کہنا شروع کیا۔’’دنیا کا شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو جس نے کبھی کسی فلم، ڈرامے یا تھیٹر کے اداکار کو دیکھ کر یہ نہ سوچا ہو کہ اس سے زیادہ خوش قسمت انسان اور کون ہو سکتا ہے۔ لاکھوں مداح، کروڑوں کی آمدنی، شہرت، عزت، قیمتی گاڑیاں، عالی شان گھر اور دنیا بھر کی محبت۔ بظاہر یہ زندگی کسی خواب سے کم محسوس نہیں ہوتی، لیکن اگر فلمی دنیا کی تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں دنیا کے سیکڑوں نامور اداکار ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے خوابی، شدید تنہائی، نشے کی لت یا مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوئے، بعض نے علاج کروایا، کچھ اس کیفیت سے نکل آئے اور کچھ اپنی یہ جنگ ہار گئے۔

 مثلاً دلیپ کمار صرف اداکاری نہیں کرتے تھے بلکہ کردار کو جیتے تھے۔ ’’دیوداس‘‘ میں ان کی آنکھوں کا درد آج بھی فلمی تاریخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس درد کی قیمت بھی انھیں ادا کرنا پڑی۔ انھوں نے اپنی خودنوشت The Substance and the Shadow میں اعتراف کیا کہ مسلسل افسردہ کردار ادا کرتے کرتے ان کی اپنی طبیعت بھی اداس رہنے لگی۔ وہ غیر معمولی خاموشی، ذہنی تھکن اور جذباتی دباؤ محسوس کرتے تھے۔ آخرکار انھوں نے ماہر ِ نفسیات سے رجوع کیا۔ انھیں مشورہ دیا گیا کہ کچھ عرصہ غمگین کردار چھوڑ کر ہلکے پھلکے اور مزاحیہ کردار ادا کریں۔ اسی مشورے کے بعد انھوں نے ’’ رام اور شیام‘‘ جیسی فلم کی، جس نے نہ صرف باکس آفس کے ریکارڈ توڑے بلکہ ان کی اپنی ذہنی کیفیت پر بھی مثبت اثر ڈالا۔یہ شاید فلمی تاریخ کی پہلی مثالوں میں سے ایک تھی جب ایک عظیم اداکار نے کھلے عام تسلیم کیا کہ فنکار بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دور کی معروف اداکارہ روحی بانو کی کہانی دیکھیے، اصل زندگی ان کے ڈراموں سے کہیں زیادہ المناک تھی۔وہ صرف ایک خوبصورت اداکارہ ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون بھی تھیں۔ نفسیات میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والی روحی بانو کردار کی نفسیات کو غیر معمولی انداز میں سمجھتی تھیں۔

کرن کہانی، دروازہ، دارا اور متعدد کلاسیکی ڈراموں میں ان کی اداکاری آج بھی مثال سمجھی جاتی ہے،لیکن قسمت نے ان کے ساتھ بے حد سخت سلوک کیا۔2005ء میں ان کے اکلوتے بیٹے علی کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑا سانحہ شاید کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس حادثے نے روحی بانو کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا، وہ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئیں۔ بعد ازاں انھیں شیزوفرینیا کی تشخیص ہوئی اور کئی برس تک ان کا علاج جاری رہا۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ گمنامی، بیماری اور مالی مشکلات کا سامنا کرتی رہیں۔ 2019 میں ترکیہ کے شہر استنبول میں ان کا انتقال ہوا۔

 یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان کی بیماری اداکاری کی وجہ سے تھی۔ مستند معلومات کے مطابق ان کی ذہنی بیماری کا سب سے بڑا سبب ان کے بیٹے کا قتل اور اس کے بعد کا شدید جذباتی صدمہ تھا، البتہ ان کی کہانی یہ ضرور بتاتی ہے کہ حساس طبیعت رکھنے والے فنکار بڑے سانحات سے کس قدر گہرائی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔اگر بھارتی فلمی تاریخ میں کسی اداکارہ کو ’’ٹریجڈی کوئین‘‘ کہا جاتا ہے تو وہ مینا کماری ہیں۔ان کی زندگی بچپن ہی سے مشکلات سے بھری ہوئی تھی۔ مالی تنگی، کم عمری میں فلموں میں کام، ازدواجی زندگی کے مسائل اور مسلسل تنہائی نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑے۔انھوں نے پاکیزہ، صاحب بی بی اور غلام اور دل اپنا اور پریت پرائی، جیسی فلموں میں جو درد پیش کیا، وہ محض اداکاری محسوس نہیں ہوتا تھا بلکہ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنی ہی زندگی کی داستان سنا رہی ہوں۔زندگی کے آخری برسوں میں وہ شراب نوشی کی عادی ہو گئیں۔ ان کی صحت تیزی سے خراب ہوتی گئی اور صرف 38 برس کی عمر میں وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔آج بھی فلمی ناقدین کہتے ہیں کہ مینا کماری کے چہرے پر دکھ کی جو کیفیت نظر آتی تھی، وہ صرف کیمرے کی مرہون منت نہیں تھی بلکہ ان کی ذاتی زندگی کے زخم بھی اس میں شامل تھے۔

 ہالی ووڈ فلمیں کے مشہور کامیڈین رابن ولیمز کی زندگی بھی ایک عجیب تضاد تھی، وہ دنیا کو ہنساتے تھے، لیکن خود ڈپریشن اور بعد ازاں ایک اعصابی بیماری سے نبرد آزما رہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ دوسروں کو ہنسانے والا ہر شخص خود خوش ہو، یہ ضروری نہیں۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ آج ہالی ووڈ اور دنیا کی کئی بڑی فلمی صنعتوں میں شوٹنگ کے دوران ماہرین نفسیات کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں، خصوصاً ایسی فلموں میں جن میں تشدد، جنگ، اذیت یا گہرے نفسیاتی موضوعات شامل ہوں۔ اس کا مقصد اداکاروں کو کردار کے نفسیاتی اثرات سے محفوظ رکھنا اور انھیں معمول کی زندگی میں واپس لانا ہوتا ہے۔بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون نے بھی کھل کر اعتراف کیا کہ وہ ڈپریشن کا شکار رہ چکی ہیں۔ بعد ازاں انھوں نے ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی کی مہم بھی شروع کی۔ شاہ رخ خان نے مختلف انٹرویوز میں بتایا ہے کہ مسلسل کام، جسمانی چوٹوں اور نیند کی کمی نے کئی مواقع پر انھیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا رکھا۔

 بات مختصر یہ ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں غم بھی آتے ہیں۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید صرف ہمارا ہی دکھ سب سے بڑا ہے اور باقی سب لوگ خوش ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر انسان اپنی اپنی آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے آپ کو ایک نارمل انسان سمجھتے ہوئے زندگی کے غموں اور خوشیوں دونوں کو قبول کرنا چاہیے۔

ہم نے اسکول کے زمانے میں ایک سبق پڑھا تھا جس کا عنوان تھا’’انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا‘‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اچھا انسان ہر حال میں خوش رہنے کی کوشش کرتا ہے، اور ایک سچا مسلمان اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، وہ بڑے سے بڑے غم کو بھی اللہ کی رضا سمجھ کر صبر سے برداشت کرتا ہے، کیونکہ غم بھی ہر انسان کا امتحان ہوتا ہے اور خوشی کی طرح زندگی کا لازمی حصہ ہیں نہیں، حسین امتزاج بھی ہوتا ہے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر۔