کراچی: عزیزآباد میں فائرنگ سے جاں بحق شخص سیاسی جماعت کا سابق کارکن تھا

مقتول کی شناخت 65 سالہ سمیع الدین رحمانی عرف تنو بھائی کے نام سے کی گئی


اسٹاف رپورٹر July 29, 2026

کراچی:

عزیزآباد میں فائرنگ سے جاں بحق شخص ایک سیاسی جماعت کا سابق کارکن تھا جس نے اب کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

تفصیلات کے مطابق عزیز آباد تھانے کی حدود فیڈرل بی ایریا بلاک 8 الحبیب سوسائٹی المعاذ مسجد کے قریب گھر میں فائرنگ سے باپ جاں بحق اور بیٹا زخمی ہوگیا، جاں بحق ہونے والے شخص کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال اور زخمی کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا ، زخمی ہونے والے شخص کو جناح اسپتال سے ابتدائی طبی امداد کے بعد اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 65 سالہ سمیع الدین رحمانی عرف تنو بھائی اور زخمی کی 27 سالہ فصیح الدین رحمانی کے نام سے کی گئی، مقتول اور مضروب باپ بیٹے ہیں، مقتول دو بیٹوں کا باپ اور نیشنل بینک سے ریٹائرڈ تھا جبکہ اس کا بیٹا غیر شادی شدہ اور نجی بینک میں ملازم تھا۔

 علاقہ مکینوں کے مطابق تنو بھائی رات ساڑھے تین بجے تک محلے کے دیگر لوگوں کے ہمراہ چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے جس کے بعد وہ گھر گئے، علاقہ مکینوں نے بتایا کہ تقریباً چار اور ساڑھے چار بجے کے درمیان فائرنگ کی آواز سن کر وہ اپنے گھروں سے باہر نکلے تو تنو بھائی کا بڑا بیٹا طحہٰ مانی دروازہ کھول کر گلی میں آیا اور اس نے بتایا کہ اس کے والد اور بھائی کو گولیاں ماری گئی ہیں، گھر میں جا کر دیکھا تو سمیع الدین کی خون میں لت پت لاش اور بیٹا زخمی حالت میں پڑا تھا۔

 علاقہ مکینوں نے بتایا کہ دو موٹرسائیکلوں پر سوار 4 ملزمان عقبی گلی سے آئے تھے ایک ملزم دیوار پھلانگ کراندر داخل ہوا اور فائرنگ کرکے دروزے پر لگا تالا اور کنڈی توڑی جس کے بعد مزید دو ملزمان گھر میں داخل ہوگئے، ایک ملزم اس کمرے میں گیا جہاں سمیع الدین سوتے تھے، ملزمان نے پہلے اس کی اہلیہ کو گردن پر بٹ مارا اس کے بعد سمیع الدین کے سینے پر عین دل کے مقام پر گولی ماری۔

بعد ازاں ملزمان دوسرے کمرے میں گئے جہاں فصیح تھا فائرنگ کی آواز سن کر وہ بھی اٹھ گیا تھا، ملزمان اور فصیح میں ہاتھا پائی ہوئی اس دوران طحہٰ مانی جو بالائی منزل پر سوتا تھا وہ بھی نیچے آنے لگا تو ایک ملزم نے اس کے سرپر پر پستول رکھ دی تاہم ملزمان نے ہاتھا پائی کے دوران سمیع کو فائرنگ کر کے زخمی کیا اور فرار ہوگئے۔

ملزمان نے پوری واردات کے دوران گھر سے کوئی چیز بھی نہیں لوٹی، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ ہے ، مقتول سمیع الدین رحمانی پہلے ایک سیاسی جماعت سے وابستہ تھے تاہم بعد میں انہوں نے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور اب صرف مسجد اور مسجد سے گھر جاتے تھے یا رات کے وقت محلے کے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس ایچ او عزیز آباد اور ڈی ایس پی  پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور معلومات حاصل کیں بعدازاں فارنزک کی ٹیم کو موقع پر طلب کر لیا گیا ، فارنزک کی ٹیم نے جائے وقوعہ سے 6 خول ، تین سکے، فنگر پرنٹ اور دیگر شواہد اکھٹے کرلیے۔

علاقہ مکینوں نے بتایا کہ عزیزآباد میں لاقانونیت کا بازار گرم ہے ، پانچ روز قبل اسی علاقے کے ایک گھر میں رات کے وقت چار ڈاکو داخل ہوئے اور پورے گھر کا صفایا کر کے فرار ہوگئے، اسی طرح سرعام شہریوں کو ان کے قیمتی موبائل فون اور کیش سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

علاقے میں منشیات اور گٹکے ماوے کھلے عام فروخت کیے جا رہے ہیں، علاقہ پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائیوں کے بجائے حسین آباد فوڈ اسٹریٹ سے کھانے پینے کا سامان جمع کرنے میں مصروف رہتی ہے، ڈی ایس پی عزیز آباد کا کہنا ہے کہ علاقے کے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کر رہے ہیں بہت جلد ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔